کپتان کا نیا جنم!!! 

کپتان کا نیا جنم!!! 
کپتان کا نیا جنم!!! 

  

ممتاز شاعر، ادیب، دانشور سید عارف معین بلے روز نامہ نوائے وقت ملتان میں کئی سال ہمارے ہمرکاب رہے۔ طویل مشاہدے کی روشنی میں انہوں نے ہمارے بارے میں ایک ”فتویٰ“ جاری کیا تھا کہ ہم کسی  کی تعریف میں مسلسل دو جملے لکھ یا بول نہیں سکتے۔ ایک طویل عرصہ ہم نے اس ”فتوے“ کی حقانیت کا جائزہ لیا اور اسے خاصا قرینِ حقیقت پایا اور اپنی اصلاح کی جانب مائل ہونا شروع کیا۔ نوبت بہ ایں جارسید کہ آج ہم خود کو اس قابل پاتے ہیں کہ کسی کی توصیف میں دو نہیں تین نہیں چار باتیں عرض کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کی یہ تحریر اس کے باوجود لکھ پا رہے ہیں کہ ہمیں ابھی تک ”ووٹ کو عزت دو“ کا نغمہ اپنی سُر، لَے، الفاظ و معانی سمیت بھاتا ہے۔ آج کی چار توصیفی باتوں کے پیچھے ہمارے آج کے ممدوح کپتان کے چار اقوال ہیں۔ جو انہوں نے حالیہ دنوں میں ارشاد کئے ہیں۔ قول اول سانحہ کینیڈا پر ردعمل تھا۔ اس سانحہ میں ایک انتہا پسند گورے نے فٹ پاتھ پر کھڑی پاکستانی نژاد کینیڈین فیملی کو اپنی گاڑی تلے روند کر بلاک کر دیا تھا۔ ہمارے کپتان وزیر اعظم نے صرف واقع کی مذمت پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اصل خرابی (یا بیماری) کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کا علاج بھی بتایا۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ انٹرنیٹ پر نفرت اور انتہا پسندی روکی جائے، انہوں نے سی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ بعض مغربی رہنما معاملے کو سمجھ نہیں رہے۔ آزادی اظہار رائے کی حد وہاں تک ہے جہاں دوسرے مجروح نہ ہوں۔ انہوں نے اس انٹرویو میں نشاندہی کی کہ کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے مثبت خیالات اپنی جگہ قابل تحسین مگر کینیڈین قوانین میں بھی سیکولر انتہا پسندی موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مغربی ملکوں میں اسلامو فوبیا اور انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے واقعات اس امر کے متقاضی ہیں کہ عالمی رہنما اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں اور اس کی روک تھام کے لئے سخت اقدامات کریں۔

خصوصاً ایسی ویب سائٹس کے خلاف عالمی سطح پر کارروائی ہونی چاہئے جو نفرت پھیلاتی ہیں۔ ان کے خلاف کریک ڈاؤن ہونا چاہئے۔ کپتان کی دوسری بات امریکی ٹیلی ویژن کو دیا گیا انٹرویو ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد کیا پاکستان امریکیوں کو پاکستانی سرزمین سے افغانستان کی نگرانی کی سہولت دے گا؟ کپتان کا دبنگ اور دو ٹوک جواب تھا ”بالکل نہیں“ شائد عالمی بڑوں کو ایک ”چھوٹے“ سے ایسے جواب کی توقع نہیں تھی۔ چنانچہ انہوں نے وہ کر دیا جس کی ”چھوٹے“ کو توقع نہیں تھی فیٹف (FATF) نے 27 میں سے 26 شرائط پر مکمل عمل کرنے والے چھوٹے کو ”گرے لسٹ“ سے نکالنے سے انکار کر دیا اور ”ڈومور“ کے لئے مزید چھ نکاتی شرائط عائد کر دیں۔ ملک میں موجود ”جٹا کے“ بوٹے کہیں گے کہ ”ہور چوپو“ جبکہ نستعلیق بوٹے کہیں گے کہ ”اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں“ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا قوم اس کپتانی انکار کو ”آنر“ کرتے ہوئے معاشی سختیوں اور مشکلات کو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے؟ اور کیا حکمران اشرافیہ نے قوم کو اس کے لئے تیار کرنے کا کوئی لائحہ عمل تیار کیا ہے؟ کپتان کی تیسری قابل تعریف بات سافٹ امیج کے حوالے سے ہے جو انہوں نے پاکستان کی فلمی دنیا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ سافٹ امیج دوسروں جیسے کپڑے پہن کر نہیں آتا خود داری سے آتا ہے۔ سافٹ امیج کوئی چیز نہیں یہ احساس کمتری ہے۔ ہمیں احساسِ کمتری سے نکل کر پاکستانیت کو فروغ دینا ہے۔

فلموں میں ہم نے بھارتی کلچر اپنایا جبکہ ہمیں اپنے کلچر کو فروغ دینا چاہئے۔ ہم نے غیروں کی نقالی سے اپنی ثقافت کو داغدار کیا ہے۔ اسی کے نتیجے میں ہماری فلمی صنعت زوال کا شکار ہو گئی۔ ہمارے آج کے ممدوح کپتان کا چوتھا قول نا مناسب لباس کے حوالے سے ہے۔ یہ بات بھی امریکی ٹی وی کو انٹرویو کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہی گئی، سوال کرنے والے نے ریپ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پس منظر میں یہ سوال کیا تھا کہ اس کی وجوہات میں کیا خواتین کا نا مناسب لباس بھی شامل ہوتا ہے؟ کپتان کا جواب بڑا ٹیکنیکل تھا کہ مرد روبوٹ نہیں انسان ہیں ان کے جذبات عورتوں کے نا مناسب لباس سے اثر لیتے ہیں۔ متذکرہ چاروں باتوں کی تعریف و توصیف ایک دیسی بندہ ہی کر سکتا ہے۔ سو ہم کر رہے ہیں مغرب کی گود میں پروان چڑھنے والے آزاد منش کھلنڈرے نوجوان پر اس عمر رسیدگی میں دینی اقدار اور مشرقی روایات کی حقانیت آشکار ہونے لگی ہے تو اس کا مشرق پرستوں کو تو خیر مقدم کرنا ہی چاہئے۔ سو ہم کر رہے ہیں۔ متذکرہ چاروں باتیں سامنے رکھیں تو لگتا یہی ہے کہ عمران خان نے نیا جنم لے لیا ہے۔ ایک خوددار، بیباک اور نڈر، دانشور کا جنم، جواب مغربی تہذیب کی زلفوں کا اسیر نہیں رہا۔ جس پر سوٹ بوٹ جچتا تھا مگر وہ اپنا لباس، شلوار قمیص اور چپل پہنتا ہے۔ وہ فرفر انگریزی بول سکتا ہے مگر حتی الامکان اردو بولتا ہے۔ وہ کبھی ”پلے بوائے“ کی شہرت رکھتا تھا مگر اب وہ پاکستانی ثقافت کا وکیل بن چکا ہے۔ اس کی خود اعتمادی کا یہ عالم ہے کہ وہ امریکی صدر کے سامنے دیسی لباس پہن کر دل کی باتیں صاف صاف کہہ دیتا ہے……

دیکھ لیں قارئین ہم نے حکمران خان کے لئے ایک نہیں چار توصیفی باتیں کر ڈالی ہیں۔ اس پر اکتفا کر لینا چاہئے کہیں ہمارے ممدوح کو نظر نہ لگ جائے اور کہیں ہمارا شمار بھی تاج و تخت کے پروانوں میں نہ ہونے لگ جائے کہ قلم طرازوں کو اس طرح کی شہرت وارے نہیں آتی۔

مزید :

رائے -کالم -