اشرافیہ بمقابلہ عوام 

اشرافیہ بمقابلہ عوام 
اشرافیہ بمقابلہ عوام 

  

وطن عزیز میں ہمیشہ خواص نے عوام کی پارٹی بنائی۔ کبھی عوام نے اپنی پارٹی نہیں بنائی اور توقع خواص سے لگائے رکھی، اب ایسا  کیسے ہو سکتا ہے خواص عوام کے لئے سوچیں، ان کی حالت بدلنے کی فکر کریں۔ یہ تو آگ اور پانی کے ملاپ جیسی بات ہے۔ بھارت میں تو عام آدمی پارٹی بن گئی اور اس نے ایک عام آدمی کو وزیر اعلیٰ بھی بنوا دیا، پاکستان میں کوئی عام آدمی پارٹی اس لئے نہیں بن سکتی کہ یہاں خواص نے پوری ریاستی مشینری کے ساتھ عوام کے خلاف پنجے گاڑ رکھے ہیں 73 برسوں سے تمام سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں نے عام آدمی کے نام پر ہی سیاست کی ہے۔ انہی لوگوں کے کاندھوں پر سوار ہو کر اقدار حاصل کیا ہے مگر کبھی اس کی حالت بدلنے کا نہیں سوچا، کیونکہ حالت بدل گئی تو یہ عام آدمی خواص کا محتاج نہیں رہے گا، ان کے لئے کاندھا فراہم نہیں کرے گا، خواص میں شامل ہو جائے گا بلکہ ان کے مقابل آ کھڑا ہو گا۔ کیا پیپلزپارٹی کیا مسلم لیگ (ن) کیا تحریک انصاف کیا مسلم لیگ (ق) کیا مذہبی سیاسی جماعتیں اور کیا قوم پرستوں کے نام پر سیاست کرنے والی علاقائی پارٹیاں، سب کی سیاست اسی عام آدمی کے گرد گھومتی ہے لیکن یہ عام آدمی ان کی سیاست میں کہیں نظر نہیں آتا، ان کی ترجیحات کا محور نہیں بنتا۔ خواص گزرے ہوئے کئی عشروں میں سائیکل سے پجیرو پر آ گئے۔ عام سے خاص بن گئے، مگر انہوں نے کبھی یہ کوشش نہیں کی اس ملک کے عام آدمی کو بھی خاص بنائیں، اس کی زندگی میں بھی آسودگی لائیں، اس کے دکھ درد اور محرومیاں بھی دور کریں۔

کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے جیسے یہ اشرافیہ کی سازش ہے، عام آدمی کو خاص نہ بننے دو، اس اشرافیہ میں وہ سب شامل ہیں جو اقتدار کی بندر بانٹ میں شریک رہتے ہیں۔ سیاستدان، اسٹیبلشمنٹ، سرمایہ دار اور استحصالی طبقے، اس ایک نکتے پر متفق ہیں عوام کو آگے نہیں آنا چاہئے، انہیں سوتے رہنا چاہئے جاگ گئے تو ان کا طوفان ہمیں خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائے گا۔ اس ملک میں شروع دن سے پالیسیاں صرف خواص کو فائدہ پہنچانے کے لئے بنی ہیں۔ البتہ ہر حکومت یہ ڈھنڈورا ضرور پیٹتی ہے اس نے عام آدمی کا بجٹ بنایا ہے۔ عام آدمی تو وہ آخری سیڑھی ہے جس پر تمام سیڑھیوں کا بوجھ ہوتا ہے۔ وہ اپنا بوجھ کہیں آگے منتقل کر ہی نہیں سکتا۔ صرف معاشی معاملے ہی میں نہیں، انصاف کے معاملے میں بھی خواص و عوام کے درمیان بعد المشرقین موجود ہے۔ عام  آدمی انصاف کے لئے زندگی بھر ایڑیاں رگڑتا ہے اور خواص کو انصاف اس کے گھر کی دہلیز پر مل جاتا ہے۔ یہ بھی ہوتا ہے خواص کے لئے نظامِ انصاف اور قانون کی دھجیاں اڑا دی جاتی ہیں تمام قواعد و ضوابط پس پشت ڈال کر ان کے لئے انصاف کی راہ ہموار کی جاتی ہے۔ یاد رہے کہ ایسا کرتے ہوئے دوسری طرف ظلم بھی ڈھایا جاتا ہے، وہ مظلوم جو کسی خاص آدمی کے خلاف انصاف کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے، اسے نشانِ عبرت بنا دیا جاتا ہے خاص کے مقابلے میں کسی عام کو انصاف ملنے لگ جائے تو معاشرہ آئیڈیل بن جاتا ہے ہمارا نظامِ انصاف، ہماری عدالتیں، ہماری پولیس یہ کام نہیں ہونے دیتیں، ان کے پلڑے کا جھکاؤ ہمیشہ خواص کی طرف ہوتا ہے خواص یا طبقہ   اُمراء نے ان اداروں میں اتنی سکت ہی نہیں رہنے دی کہ وہ عام آدمی کو انصاف دے سکیں۔

کل مجھے پولیس کے ایک سابق افسر اور چھ کتابوں کے مصنف شریف ظفر بتا رہے تھے وہ پولیس کے زوال پر ایک کتاب لکھ رہے ہیں جس کا بنیادی نکتہ یہ ہے پولیس کو آخر کیوں ایک ایسا ادارہ بنا دیا گیا ہے، جو خواص اور با اثر طبقوں کی ایک آلہ کار  فورس بن کر رہ گیا ہے۔ وہ بتا رہے تھے پاکستان بنا تو قائد اعظمؒ نے یہ حکم دیا کراچی میں بمبئی طرز کا پولیس ماڈل لایا جائے، یاد رہے کہ اس زمانے میں لندن اور بمبئی کی پولیس ایک مثال سمجھی جاتی تھی۔ اس ماڈل کا جائزہ لینے کے لئے اعلیٰ سطحی وفود بمبئی گئے اور واپس آ کر انہوں نے اس ماڈل کی منظوری کے لئے سفارشات مرتب کیں۔ پولیس اور بیورو کریسی نے ان سفارشات پر اعتراضات لگا کر دوبارہ پیش کرنے کو کہا، مقصد صرف ان سفارشات کو رد کرنا تھا، اسی اثنا میں قائد اعظمؒ بیمار ہوئے اور زیارت چلے گئے۔ سفارشات کا مسودہ وہیں کا وہیں پڑا رہا اور جس پولیسنگ کا خواب قائد اعظمؒ نے دیکھا تھا وہ ان کی رحلت کے ساتھ ہی فائلوں میں دب کر رہ گیا۔ ان کے کہنے کا مقصد یہ تھا  اشرافیہ کوئی ایسا کام نہیں کرنے دیتی جس کا فائدہ عام آدمی کو پہنچے، آج پولیس کلچر کو اس لئے تبدیل نہیں کیا جاتا کہ اس کی وجہ سے اشرافیہ کی عوام پر دھاک موجود ہے۔ اگر پولیس سیاسی دباؤ اور اشرافیہ کے جبرے سے آزاد ہو جائے تو اس کا فائدہ لا محالہ عوام کو پہنچے گا، انہیں خواص کے مقابلے میں انصاف ملنے لگے گا اور وہ ان کے جبر سے آزاد ہو جائیں گے۔ جو عوام کو غلام رکھنے والے کسی صورت گوارا نہیں کر سکتے۔

قصور اس میں عوام کا بھی ہے اتنے دھوکے کھانے کے بعد تو روڑی کو بھی عقل آ جاتی ہے۔ عوام کو کیوں نہیں آئی؟ مکھی پر مکھی مارنے کی ان کی عادت بھی اس ساری برائی کی جڑ ہے۔ یہ الیکٹبلز کی اصطلاح کہاں سے آ گئی ہے۔ یہ لوٹے جس جماعت میں جاتے ہیں، جیت کر اسے اقتدار میں لے آتے ہیں انہیں کون جتواتا ہے، انہیں یہ لائی لگ عوام ہی ووٹ دے کر بار بار اسمبلی میں بھیجتے ہیں۔ یہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی کہ ان کا دین ایمان اقتدار ہے، انہوں نے عوام کے لئے کچھ نہیں کرنا، صرف اپنے مفادات دیکھنے ہیں اور تجوریاں بھرنی ہیں۔ پاکستان میں لوگ پانچ پانچ مرتبہ اسمبلی کے رکن بن جاتے ہیں۔ ان کے حلقے کی حالت دیکھیں تو پسماندگی اور محرومیاں منہ چڑا رہی ہوتی ہیں۔ عوام ان کا گریبان نہیں پکڑتے۔ انہیں کٹہرے میں کھڑے نہیں کرتے کہ تم نے ہمارے لئے کیا ہی کیا ہے تمہیں بار بار منتخب کیوں کریں۔ سو جہاں ایسے خاموش، لائی لگ اور معصوم عوام ہوں وہاں سیاسی ٹھگوں کے لئے کیا مشکل ہے انہیں بار بار بے وقوف بنائیں اور اپنا الو سیدھا رکھیں۔

اب آصف علی زرداری بھی کہہ رہے ہیں بہت سے لوگ ان کے ساتھ رابطے میں ہیں انہیں ساتھ ملا کر ہم آئندہ انتخابات میں سرپرائز دیں گے، مرکز کے ساتھ ساتھ پنجاب میں بھی حکومت بنائیں گے۔ گویا وہ یہ کہہ رہے ہیں انہیں عوام سے کوئی غرض نہیں بلکہ ان لوگوں سے غرض ہے جو عوام کو بے وقوف بنا کر منتخب ہو جاتے ہیں ان لوگوں کی وجہ سے وہ پیپلزپارٹی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ الیکشن کے عمل کو اتنا پیچیدہ اور مہنگا کر دیا گیا ہے عام آدمی اس میں حصہ لینے کا سوچ بھی نہیں سکتا گویا اب خواص کی موجیں ہی موجیں ہیں۔ عوام کو دو لٹیروں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے یعنی دونوں صورتوں میں اشرافیہ جیتتی اور عوام ہارتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -