عدم برداشت کے رجحان میں ہوشربا اضافہ!

عدم برداشت کے رجحان میں ہوشربا اضافہ!

  

بدقسمتی سے پاکستانی معاشرے میں بھی گزشتہ کئی سالوں سے عدم برداشت کے رجحان میں خوفناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یوں دکھائی دیتا ہے جیسے اکثریت کی قوت برداشت ختم ہو چکی ہے اور رواداری جیسی اعلیٰ صفات معاشرے سے ختم ہوتی جا رہی۔ ہر فرد دوسرے کو برداشت کرنے کے بجائے کھانے کو دوڑتا ہے، بے صبری، بے چینی اور غصہ ہر کسی کے ماتھے پر دھرا دکھائی دیتا ہے۔عدم برداشت کی وہ لہراب لگتا ہے کہ معاشرے کو دیوانگی اور بربریت کے خلاف مزاحمت کی آخری امید سے بھی محروم کر دے گی۔عدم رواداری کے اس بڑھتے ہوئے خوفناک رجحان کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں تشدد اور قتل کے ایسے ایسے لرزہ خیز واقعات پیش آرہے ہیں کہ جن کا ذکر کرتے ہی روح کانپ اٹھتی ہے اور انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ لاہور کے علاقے شاہدرہ ٹاؤن میں بھی اسی طرح کا ایک واقعہ  10دسمبر2020کوپیش آیا جہاں ایک کانسٹیبل شہزاد سلیم عرف چاند کو اس کے دوست نے اپنے ایک ساتھی کی مدد سے معمولی جھگڑے پر فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا،مقتول اور ملزم کے درمیان کوئی خاص وجہ عناد بھی نہیں تھی۔ مقتول کے ایک مقامی دوست جاوید نے جو کہ دہی بھلے کا کاروبار کرتا ہے  ملزم رضوان بٹ کے والد ذوالفقار بٹ سے کروڑوں روپے مالیت کی مارکیٹ خرید کررکھی تھی مگر یہ موقع پر قبضہ نہیں دے رہے تھے اور کئی ماہ تک ٹال مٹول سے کام لیتے رہے،مقتول شہزاد سلیم عرف چاند نے ملزم رضوان بٹ کے والد ذوالفقار بٹ کو مارکیٹ کا قبضہ خریدار کے حوالے کرنے کی درخواست کی مگر ملزم کے والد نے یہ مارکیٹ ایک اور شخص محمد دین کے نام چالیس لاکھ روپے میں نیا سودا کر دیا جس پر خریدار جاوید سخت پریشان تھا مقتول شہزاد سلیم عرف چاند نے ملزم رضوان بٹ کے والد کو سمجھایا کہ یہ اچھی بات نہیں ہے مقتول نے منت سماجت کرکے قبضہ اپنے دوست جاوید کو دلوا دیا جب کہ جس سے چالیس لاکھ روپے لیے گئے تھے اسے بھی واپس کر وادیئے ۔  ملزم کا والد ذوالفقار بٹ، مقتول شہزاد سلیم عرف چاند اور اس کا دوست جاوید اچھے ماحول میں وقت گزار رہے تھے یہاں تک کہ ملزم رضوان بٹ کی اس افسوسناک واقعہ سے تقریباًچھ ماہ قبل شادی کی تقریب میں مقتول شہزاد سلیم عرف چاند بھی اپنی فیملی سمیت شریک ہوا محلے داری کی وجہ سے دونوں کا ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا رہا اچانک10دسمبر2020کی رات   مقتول شہزاد سلیم عرف چاند کو محلے کی گلی میں بلوا کر ملزم رضوان بٹ اور اس کے ایک دوست ارتضانے معمولی تلخ کلامی پر اندھا دھند فائرنگ کرکے اسے قتل کردیا اور فرار ہوگئے پولیس نے مقتول کے بھائی شہریار کی درخواست پر قتل کا مقدمہ درج کرلیا مقدمے میں درج تفصیلات کے مطابق سائل مسلم پارک شاہدرہ ٹاؤن کا رہائشی ہے بی اے کا سٹوڈنٹ ہوں مورخہ 10دسمبر2020 بوقت ساڑھے بارہ بجے رات میں ہمراہ اپنے حقیقی بھائی شہزاد عرف چاند خان،  رشتہ دار محمد تنویر محلہ رسول پارک شاہدرہ ٹاؤن دوست عبدالمتین دہی بھلے کھانے کے لئے جاوید دہی بھلے نزد سنگیت سینما موجود تھے تو میرے بھائی شہزاد عرف چاند کے موبائل پر رضوان بٹ والد ذوالفقار بٹ سکنہ رانا ٹاون کالج روڈ نے کال کی اور پوچھا تم اس وقت کہاں ہو میرے بھائی نے بتلایا  میں اپنے بھائی اور دیگر رشتہ دار دوست کے ساتھ دہی بھلے کھانے سنگین سینماکے پاس موجود ہیں رضوان بٹ نے کہا میرا انتظار کرو میں ابھی اور فوری آرہا ہوں اور آپ سے مکان کے تنازعہ کی بابت بات کر نی ہے اس کے بعد رضوان بٹ نے میرے بھائی کو مزید دو تین کال کیں اور پوزیشن کا پوچھا میرا بھائی اس کے انتظار میں کھڑا تھا تھوڑی دیر بعد رضوان بٹ اپنی موٹر سائیکل پر آگیا جس نے میرے بھائی شہزاد کو سائیڈ پر کر کے مکان کی خریدوفروخت بارے بات دہرائی اور کہا میں نے اپنے ایک دوست کو بلوایا ہے اور مقبرہ والی گلی میں کھڑا ہے وہاں بیٹھ کر بات کرتے ہیں اپنی موٹر سائیکل پر میرے ساتھ آجاؤ لہذامیرا بھائی اپنی موٹرسائیکل پر رضوان بٹ کے ساتھ اس کی طرف چل پڑے اور ہم تینوں بھی دو موٹر سائیکلوں پر سوار ہوکر پیچھے پیچھے چل دیئے  پونے ایک بجے رات ملزم رضوان بٹ نے گلی کے کونے پر جا کر کہا کہ تم تینوں ادھر ہی رک جاؤ ہم بات کر لیتے ہیں ہم تینوں گلی کے کونے پر کھڑے ہو گئے گلی میں  لائٹیں جل رہی تھیں ہم نے روشنی میں دیکھا کہ گلی میں تھوڑے فاصلے پر جاکر میرے بھائی شہزاد اور رضوان بٹ نے اپنی اپنی موٹر سائیکل کھڑی کر دیں اور وہاں پر رضوان بٹ کا ساتھی جس سامنے آنے پر شناخت کر سکتا ہوں کھڑا تھا رضوان بٹ اور اس نامعلوم شخص نے میرے بھائی کے ساتھ تو ں تکرار اور گالی گلوچ شروع کردی اور ہاتھا پائی ہو گئے ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے رضوان بٹ نے اپنا دستی پسٹل نکال کر میرے بھائی کو جان سے مار دینے کی خاطر سیدھے سر اور چھاتی پر فائر کیے پھر دوسرے نامعلوم ملزمان نے اپنا دستی پستول نکال کر میرے بھائی پر سیدھے فائر کیے جو کہ میرے بھائی کے بازو اور ٹانگ اور جسم کے دیگر حصوں پر لگے دونوں ملزمان کی فائرنگ سے میرا بھائی نیچے گر پڑا ہم نے شور وا ویلا کیا، ملزمان نے ہماری طرف پستول کرکے ہوائی فائرنگ کی جو کہ ہم تینوں اپنی جان بچانے کے لئے گلی کی دیوار کے ساتھ آؤٹ میں لگ گئے تو ملزمان ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے موٹر سائیکل پر سوار ہو کر ہماری طرف آئے اور دھمکی دی کہ اگر ہمیں پکڑنے کی کوشش کی تو تمہیں قتل کر دیں گے نامعلوم ملزمان کو ٹیوب لائٹ کی روشنی میں ہم نے بخوبی دیکھا جس کو ہم سامنے آنے پر اچھی طرح شناخت کر سکتے ہیں ہم فوری طور پر گلی میں اپنے بھائی شہزاد کی طرف بھا گے جو کہ شدید ضر بات کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے دونوں ملزمان نے مسلح ہو کر اپنی دستی پستول سے فائرنگ کر کے میرے بھائی کو قتل کردیا ہے۔

مقتول شہزاد سلیم عرف چاند کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ اس نے 2007میں محکمہ پولیس میں بطور کا نسٹیبل ملازمت اختیار کی انتہائی ایماندار اور محنتی ہونے کی وجہ سے ادارہ بھی اسے اپنا اثاثہ سمجھتا تھا، جبکہ محلے اور رشتے داروں میں بھی اسے عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا،  مقتول شہزاد سلیم عرف چاند نے سوگواروں میں ایک کمسن بیٹا، بیوہ،والدین  3بھائی اور 4بہنیں چھوڑی ہیں،مقتول کاایک بھائی اور والد بھی محکمہ پولیس کے اہلکار ہیں۔اس افسوس ناکہ واقعہ پر مقتول شہزاد سلیم عرف چاند کے والدسلیم خان،والدہ زبیدہ سلیم خان، بیوہ ارم شہزاد،بھائی معین خان،اظہر خان تایا وارث خان،بنارس خان،ادریس خان اور چچاعباس خان نے ارباب اختیار سے ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوانے کا مطالبہ کیا ہے۔  لاہور پولیس کے سربراہ غلام محمود ڈوگر نے روزنامہ پاکستان ست گفتگو کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ معاشرہ میں مذہب سے دوری کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے لوگوں میں خوف خدا نہیں رہا جس کی وجہ سے ایسے واقعات کا ہونا معمول کی بات بن چکا ہے۔مذہب انسان کو اخلاق کا درس دیتا ہے، اس کے اندر ایسے اعلیٰ اوصاف پیدا کرتا ہے کہ وہ بہترین انسان بنے اور معاشرے کے لئے مفید ثابت ہو، مگر ہمارے معاشرے میں مذ ہب کو ہی سب سے زیادہ جارحیت کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے، مختلف مکاتب فکر کے اختلافات کو اس حد تک بڑھا دیا گیا ہے کہ مختلف فرقوں کے افراد ایک دوسرے کے خون کے پیا سے ہیں۔  ایس ایس پی سی آئی اے شعیب خرم جانباز نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انھوں نے اس قتل میں ملوث دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے اور انھیں قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی یہ حقیقت ہے کہ ہم اگر اپنے اندر برداشت کا مادہ پیدا کرلیں تو صورت حال خاصی بہتر ہوسکتی ہے۔ صرف برداشت پیدا کرنے سے ہی معاشرے کا امن و چین لوٹ سکتا ہے۔ انسان ہونے کے ناطے کسی کو بھی قتل کرنا کسی طور مناسب نہیں۔ یہ ہر لحاظ سے قابل مذمت امر ہے لہٰذا بہتری اسی میں ہے کہ تشدد اور عدم برداشت کے رویوں سے جان چھڑائی جائے۔ اعلیٰ اخلاقی اقدار کو فروغ دیاجائے۔ ایک دوسرے کا احترام کیا جائے اور انسانیت کا درس دیاجائے۔

کانسٹیبل معمولی جھگڑے پر دوست کے ہاتھوں قتل

مزید :

ایڈیشن 1 -