گداگری جرائم میں اضافے کا سبب بننے لگی

گداگری جرائم میں اضافے کا سبب بننے لگی

  

(محمد ارشد شیخ  بیوروچیف)

 قانون غیر فعال ہو تو جرم بے لگام ہوجاتا ہے اور جب قانو ن کے رکھوالے لاپرواہ ہوں تو مجرم نہ صرف بے خوف ہوتا ہے بلکہ نت نئے جرائم بھی سر اٹھاتے ہیں بدقسمتی سے آج ہمارا معاشرہ بھی جرائم کی اماجگاہ بن چکا ہے، کرپشن و رشوت ستانی، ڈکیتی، چوری، راہنزی، دھوکہ دہی، خیانت، قتل و غارت، اغواء برائے تاوان، زیادتی و عصمت دری اور منشیات فروشی سمیت کوئی ایسا جرم نہیں جو ہمارے ہاں موجود نہ ہو جبکہ جرائم کی فہرست میں شامل گداگری ایک ایسا جرم ہے جس کے خاتمہ کی خاطر قانون سازی تو کی گئی ہے مگر عملدر آمد کا شدید فقدان نظر آرہا ہے، گداگری کی پہچان یوں بیان کی گئی ہے کہ کسی سے کچھ مانگنا اور اسکے بدلے میں پیسے دینے والے کیلئے کوئی کام نہ کرنایا خود کو ضرورت مند ظاہر کرکے لوگوں سے مالی فائدہ لینا گداگری یا بھیک مانگنا کہلاتا ہے۔

 ضرورت مند لوگ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے سے قبل سو بار سوچتے اور حتیٰ الامکان انکی کوشش ہوتی کہ ہرگاہ ہاتھ پھیلانے کی نوبت نہ آپائے مگر ہمارے ہاں آج پیشہ ور ڈھونگی بھکاریوں نے بھیک مانگنے کے لا تعداد ڈوھنگ اپنا رکھے ہیں، کوئی التجاء کرکے مانگتا ہے، کوئی فریاد کرکے مانگتا ہے، کوئی تجارتی مراکزاور پبلک مقامات پر نعت و قوالی سناکر اور کوئی گانا گا کر مانگتا ہے، کوئی کسی طرح کا ساز بجاکر مانگتا ہے، کوئی معزوری کا بھیس اپنا کر مانگتا ہے جبکہ مختلف عمر کے مرد و خواتین سمیت بچے بھی گداگری کی لعنت میں مبتلا ہوچکے ہیں جن میں حقیقی ضرورت مندوں کی تعداد انتہائی کم ہے تاہم پیشہ وار بھکاریوں کی ہرگاہ بھرمار ہے گداگروں کی فہرست میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو گداگری کو خاندانی پیشے کے طور پر اپنائے ہوئے ہیں بارہا دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض بھکاری بیناہوتے ہوئے بھی خود کو نابینا ظاہر کرتے ہیں، معزور نہ ہوتے ہوئے بھی اپنے ہاتھ، بازو یا ٹانگ وغیرہ کو ڈھکتے یا چھپاتے ہیں کہ دیکھنے والے کو معذور دکھائی دیں کچھ لوگ خود پر یوں رعشہ طاری کرلیتے ہیں کہ لوگ ان پر ترس کھا کر ان مالی مدد کریں، کوئی خود کو پردیسی ظاہر کرکے پیسے چوری کا بہانا بنا کر گھر پہنچنے کیلئے کرایہ کے طور پر بھیک مانگتے ہیں، کوئی کسی مسجد یا مدرسہ کی تعمیر میں حصہ ڈالنے کا جھانسہ دیکر مانگتے ہیں الغرض ہر گداگر نے اپنی سوچ سمجھ کے مطابق گداگری کا کوئی نہ کوئی طریقہ اختیار کررکھا ہے، ایسا ہرگز نہیں کہ تمام بھیک مانگنے والے پیشہ ور بھکاری ہیں بعض و اوقات کسی خوددار فرد کے حالات بھی ایسے ہوجاتے ہیں کہ وہ دوسروں کے سامنے دست سوال دراز کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں مگر ایسے لوگ اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہیں جبکہ پیشہ ور بھکاریوں کی ہرگاہ بھرمار ہے جن کے باعث آج ہمارے ہاں گداگری مجبوری یا معذوری نہیں رہ گئی بلکہ ایک منظم کاروبار بن چکی ہے، آج کے بھکاری کو دیکھ کر دل کو ٹھیس نہیں پہنچی اور نہ ہی کسی گداگر کو دیکھ کر اسکی خاطر دل پسیجتا ہے بلکہ گداگروں سے سامنا ہونے پر دل میں ایک تنفر سا ابھرتا ہے وہ اس لئے کہ آج کا بھکاری کوئی مجبور انسان نہیں بلکہ وہ ایک پیشہ ور عیار ہے جس کے پاس ممکن ہے آج کے عام محنت کش سے کہیں بڑھ کر مالی اسباب موجود ہوں حالانکہ ملک بھر میں گداگری ایک منظم کاروبار کی طرح جاری ہے۔

 دیگر اضلاع کی طرح ضلع شیخوپورہ میں بھی پیشہ ور بھکاریوں کی تعداد غیر معمولی ہے جن سے شہری عاجز آچکے ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ گداگری ایکٹ پر عملدر آمد سے قاصر ہے جس کے باعث مارکیٹوں بازاروں اور گلی محلوں میں بھکاری فرداً فرداً یا ٹولیوں کی شکل میں سارا دن بھیک مانگتے ہیں، ذرائع کے مطابق ان میں سے بعض بھکاری بھیک مانگنے کی آڑ میں منشیات فروشی اور لوٹ مار کی وارداتوں میں بھی ملوث پائے گئے ہیں، گداگروں میں مختلف عمر کے افراد اور بچوں سمیت خوبرو لڑکیاں بھی شامل ہیں جو شیر خوار بچوں کو گود میں اٹھا کر بھیک مانگتی دکھائی دیتی ہیں ان خوبرو لڑکیوں میں سے بعض کو روزانہ ایک ویگن سے مختلف مقامات پر اتار ا جاتا ہے جو پھر شہر کے مختلف بازاروں اور چوک چوراہوں میں چل یا بیٹھ کر شہریوں کو روک روک کر ان سے بھیک مانگتی ہیں اسی طرح یہ لڑکیاں اور زائد العمر عورتیں چھوٹے چھوٹے بچوں سمیت شہر کی گلیوں بازاروں میں بھی دکان دکان یا گھر گھر جا کر بھیک مانگتی ہیں بعض نوجوان بھی خو د کو اپاہج ظاہر کرکے بھکاریوں کی اس بھرمار کا حصہ ہیں، ذرائع کے مطابق کئی بھکاری بھیک مانگنے کی آڑ میں گھروں میں داخل ہو کر وارداتیں بھی کرتے ہیں جن میں خوبرو لڑکیوں کا ایک گروہ بھی شا مل ہے جو پانی پینے یا ٹائٹل کے استعمال کے بہانے گھروں میں داخل ہو جاتی ہیں اور موقع پا کر جو قیمتی شے ہاتھ لگے لے اڑتی ہیں یا اپنے مرد گداگروں کو بلا کر انکے ذریعے لوٹ مار کی وارداتیں انجام دیتی ہیں اسی طرح انکے نو عمر لڑکے لڑکیاں بھی مختلف مقامات پر بھیک مانگنا معمول بنائے ہوئے ہیں جس کے باوجود شہر میں بھکاریوں کی بھرما ر کی روک تھام کیلئے سرکاری سطح پر کوئی اقدام نہیں اٹھایا جارہا جس کی وجہ سے گداگروں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور یہ خطرناک رجحان جرائم کی شرح میں بھی شدید اضافے کا باعث بن رہا ہے۔

خصوصا ً جمعۃ المبارک اور رمضان المبارک یا عیدین کے ایام میں پیشہ ور بھکاریوں کی تعداد شدید بڑھ جاتی ہے، بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت قدرتی و حادثاتی طور پر اپاہج ہونے والوں کیلئے ایسے آسان کاروباروں کا آغاز کرے کہ جس کے تحت روزانہ کی گزر بسر کاسہل اہتمام ہوسکے بھکاریوں کیلئے قرضوں کی سکیمیں شروع کی جائیں جو اتنی آسان شرائط پر ہوں کہ ان سے گداگروں کو فی الفور قرض مل سکیں جنہیں پابند بنایا جائے کہ وہ اس کاروبار سے دستبردار نہیں ہوں گے اور بھیک مانگنے کی بجائے اس کاروبارکے ذریعے اپنا اور اپنے اہلخانہ کا پیٹ پالیں گے اور یہ اقدام بھی ضروری قرار دیا جارہا ہے کہ حکومت تمام بھکاریوں اور اپاہج افراد کا ڈیٹا لیکر آن لائن کرے تاکہ گدا گری کو پیشہ بنانے والے بے نقاب ہوں اور حقیقی ضرورت مندوں کا بھی عوام کو علم ہوسکے، بلاشبہ گداگری ایک لعنت ہے جسے بہرکیف ختم ہونا چاہئے اس کیلئے وضح کردہ قوانین پر عملدر آمد کی ضرورت ہے اگر گداگری کی لعنت سے چھٹکارا حاصل کرلیا جائے تو اس سے پھوٹنے والی بہت سی برائیاں خود بخود دم توڑ دیں گی معاشی ضروریات ہر فرد کے ساتھ ہیں لہذاٰ پیٹ کے تقاضوں سے انکار نہیں کیاجاسکتا خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو شکم کی ضروریات کو محنت مزدوری سے پورا کرتے ہیں غریب ہونا جرم نہیں بلکہ اپنے آپ کو دوسروں کا محتاج بنایا(یعنی لوگوں سے بھیک مانگنا) جرم ہے، غریب شخص غیور ہو تو وہ ایک ایسی تلوار کی مثل ہوتا ہے جس کی کاٹ کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا اور اگر اپنی غیرت اور ضمیر ایک طرف رکھ کر ہر کسی سے دست سوال دراز کرتا پھرے اس سے بڑا عیار یا بدبخت کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔ 

پولیس سمیت متعلقہ اداروں نے دانستہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے

بعض بھکاری بھیک مانگنے کی آڑ میں منشیات فروشی اور لوٹ مار کی وارداتوں میں بھی ملوث پائے گئے ہیں 

مزید :

ایڈیشن 1 -