دھان فصل کی برآمدات سے سالانہ 2 ارب ڈالر کازر ِ مبادلہ حاصل

  دھان فصل کی برآمدات سے سالانہ 2 ارب ڈالر کازر ِ مبادلہ حاصل

  

 لاہور(سٹی رپورٹر)  پاکستان دھان کی فصل کی برآمدات سے سالانہ قریباً2 ارب ڈالر زر ِ مبادلہ کما رہا ہے۔دھان کی بین الاقوامی برآمدات کیلئے ضروری ہے کہ فصل پر زرعی زہروں کا سپرے کاپری ہارویسٹ انٹرول کے متعلق کاشتکاروں کو مکمل آگاہی فراہم کی جائے تاکہ دھان کی فصل کو عالمی منڈیوں میں پذیرائی ہو ان خیالات کا اظہار ڈائریکٹر جنرل زراعت پیسٹ وارننگ اینڈ کوالٹی کنٹرول آف پیسٹی سائیڈز پنجاب ڈاکٹر محمد اسلم نے ضلع گوجرانوالہ،شیخوپورہ اور نوشہرورکاں میں دھان کی فصل پر زہروں کے اثرات اور کاشتکاروں کو اس کے متعلق آگاہی فراہم کرنے کیلئے اپنے دورہ کے موقع پر کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کے ہاتھ سے چاول کی برآمدات بین الاقوامی طور پر اسی لئے نکل گئی کہ اْن کے چاول پر زرعی زہروں کے مضر اثرات پائے گئے۔پاکستان کا باسمتی چاول اپنی خوشبو اور ذائقہ کے اعتبار سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔چاول کی برآمدات بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا حصّہ9 سے10 فیصدہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ چاول کی برآمدات میں اضافہ کیا جائے اور یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ہمارے کاشتکار بھائیوں کے علم میں ہوگا کہ دھان کی برداشت سے کتنے دن پہلے فصل پر زہروں کا استعمال نہ کیا جائے۔ڈائریکٹر جنرل زراعت پیسٹ وارننگ ڈاکٹر محمد اسلم نے بتایا کہ وزیر اعظم پاکستان کے زرعی ایمرجنسی پروگرام کے تحت6 ارب روپے سے زائد خطیر رقم دھان کی فی ایکڑ پیداوار کے قومی منصوبہ پر خرچ کی جا رہی ہے۔اسی منصوبہ کے تحت دھان کی مشینی کاشت کو فروغ دینے اور باقیات کی تلفی کیلئے کاشتکاروں کو50 فیصد سبسڈی پر جدید زرعی مشینری بھی فراہم کی گئی ہے۔ڈاکٹر اسلم نے اپنے دورہ کے دوران فیلڈ میں موجود فصلات کے سیمپل لئے اور زہروں کے اثرات کا جائزہ لینے اور کاشتکاروں کو آگاہی فراہم کرنے کیلئے اپنے عملہ کو خصوصی ہدایات بھی جاری کیں۔انھوں نے کاشتکاروں اور زرعی ادویات کے ڈیلرز سے بھی ملاقات کر کے انہیں دھان کی فصل پر زرعی زہروں کے اندھا دھند سپرے سے اجتناب کرنے اور محکمانہ سفارشات پر عمل کرنے کی ہدایت کی۔

مزید :

کامرس -