سندھ اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی، اپوزیشن ارکان جمہوریت کے علامتی جنازے کیلئے چارپائی ایوان میں لے آئے، سپیکر نے 8ارکان کے ایوا ن میں داخلے پر پابندی لگا دی 

سندھ اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی، اپوزیشن ارکان جمہوریت کے علامتی جنازے ...

  

 کراچی(سٹاف رپورٹر،آئی این پی)سندھ اسمبلی کا اجلاس پیر کوشدید ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگیا، اپوزیشن ارکان جمہوریت کے علامتی جنازے کے طور پر ایوان میں چار پائی اٹھا کر لے آئے،سپیکر نے حزب اختلاف کے اس اقدام کو ایوان کی سنگین بے حرمتی قراردیتے ہوئے ذمہ دار ارکان کے خلاف کارروائی کا اعلان کردیا اور8اسکان اسمبلی کے ایوان میں داخلے پر پابندی لگا دی اسمبلی سیکیورٹی میں میں بھی اضٓفہ کر دیا گیا۔ایوان میں سخت نعرے بازی اور شور شرابے کے باعث وقفہ سوالات چند لمحوں میں نمٹ گیا،توجہ دلاؤ نوٹس اور اپوزیشن کے رکن محمد حسین کی تحریک استحقاق  پربھی بات نہ ہوسکی البتہ ہلڑ بازی کے دوران ایوان نے صحافیوں کے تحفظ کے بل کی دوبارہ منظور ی دیدی جسے گورنر سندھ نے بعض اعتراضات کے ساتھ واپس کردیا تھا۔پیر کو سندھ اسمبلی کا اجلاس دوبجے کے مقررہ وقت کے بجائے تقریباً تین بجے ایک گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا تو وقفہ دعا کے دوران پی ٹی آئی کے دو ارکان عدیل احمد اور ادیبہ حسن نے اپنی نشستوں سے کھڑے ہوکر کہا کہ سندھ میں جمہوریت کی موت ہوگئی ہے دعا کروائی جائے۔ دعاکے بعد اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ بھی اپنی نشست سے کھڑے ہوگئے اور انہوں نے بولنے کی کوشش کی تو اسپیکر نے رولنگ دی کہ وہ انہیں وقفہ سوالات کے بعد بات کرنے کی اجازت دیں گے۔حلیم عال شیخ نے اصرار کیا کہ ان کی بات سنی جائے تو اسپیکر نے کہا کہ میں کسی کی ڈکٹیشن نہیں لونگا۔ اس موقع پرحلیم عادل شیخ کا مائیک بند کردیا گیا لیکن انہوں نے اپنی بات جاری رکھی اورایوان میں زبردست شور شرابہ شروع ہوگیا۔ادیبہ حسن نے سپیکر سے کہا کہ اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کو بولنے دیں۔سپیکر نے وقفہ سوالات شروع کرنے کا علان کردیا لیکن ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی کے باعث اپوزیشن کے کسی رکن نے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سے متعلق وقفہ سوالات میں اپنا کوئی سوال نہیں پوچھا حالانکہ سپیکر نے ان کے نام پکارے تھے بعد میں اسپیکر آغا سراج درانی نے خاموش رہنے والے اپوزیشن ارکان کے سوالات ختم کردئیے،اپوزیشن ارکان نشستوں سے کھڑے ہوگئے اور انہوں نے شدید نعرے بازی شروع کردی۔ہنگامہ آرائی کے دوران کچھ اپوزیشن ارکان اپنے کاندھوں پر چارپائی اٹھاکر ایوان میں لے آئے،کچھ کے ہاتھوں میں بستر بھی تھے۔ اسمبلی اسٹاف نے انہیں روکنے کی کوشش کی مگرپی ٹی آئی ارکان منع کرنے کے باوجود چارپائی لیکر ایوان میں زبردستی داخل ہوئے۔اس موقع پر پی ٹی آئی کی خاتون رکن سدرا عمران نے اسمبلی اسٹاف کو متنبہ کیا کہ مجھے ہاتھ لگانے کی کوشش مت کرنا۔اسپیکرآغا سراج نے اس صورتحال پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپ اسمبلی کی بے حرمتی کررہے ہیں انہوں نے اسمبلی اسٹاف کو ہدایت کی کہ چار پائی اور بستروں کو باہر باہر پھینک دیں۔ اپوزیشن ارکان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے سندھ میں جمہوری اقدار اور روایات کا جنازہ نکال دیا ہے اس لئے وہ جمہوریت کے علامتی جنازے کے طور پر چار پائی لانے پر مجبور ہوئے ہیں۔ایم کیو ایم کے محمد حسین نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کو بات کرنے کی اجازت دی جائے۔ وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار چاولہ نے ایوان میں جاری بدنظمی کے حوالے سے کہا کہ ان لوگوں نے پورے ملک اورغریب آدمی کا جنازہ نکال دیا ہے۔کچھ تو شرم کرو۔ایوان نے شور شرابے کے دوران صحافیوں کے تحفظ کے بل کی دوبارہ منظور ی دی وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ نے کہا کہ یہ خود نئے نئے آرڈینس نکال دیتے ہیں۔گورنر نے صحافیوں کے بل پر اعتراض لگایا ہے لیکن ہم دوبارہ بل منظور کررہے ہیں۔اس موقع پر اپوزیشن ارکان نے نعرے لگانے شروع کردیئے کہ اجلاس نہیں چلے گا۔ان کے ہاتھوں میں ایک بینر بھی تھا جس پر تحریر تھا کہ جمہوریت کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔سپیکر نے کہا کہ جنہوں نے اسمبلی کی بے حرمتی کی ہے ان کے خلاف ایکشن لوں گا۔ مکیش کمار چاولہ ہم ہمیشہ صحافیوں کو سپورٹ کرے آئے ہیں اس لئے آج پھر صحافیوں کے تحفظ کا بل دوبارہ منظور کیا۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے جمہوریت کا جنازہ نکالا لیکن اب میڈیا کا جنازہ نکال رہے ہیں۔اپوزیشن کے شور شرابے میں صحافیوں کے تحفظ کا بل ایوان سے دوبارہ منظور کرلیا گیا جس کے بعد اسپیکر نے سندھ اسمبلی کا اجلاس منگل کی دوپہر دو بجے تک ملتوی کردیا۔

سندھ اسمبلی

مزید :

صفحہ اول -