بے روزگاری جنسی بے راہ روی: نوجوانوں کی اکثریت خواجہ سراؤں کے روپ میں شاہراہوں پر بھیک مانگنے لگی 

بے روزگاری جنسی بے راہ روی: نوجوانوں کی اکثریت خواجہ سراؤں کے روپ میں ...

  

 لاہور(انورکھرل)گھریلو حالات سے دلبرداشتہ،بے روز گاری اور جنسی بے راہ روی کے باعث نوجوانوں کی اکثریت خواجہ سراؤں کے روپ میں شہر کی معروف شاہراہوں پر بھیک مانگنے لگی تفصیلات کے مطابق شہر کی معروّف شاہراہوں پر ان دنوں ایسے نوجوانوں کی کثیر تعداد خواجہ سراؤں کے روپ میں بھیک مانگتی نظرآرہی ہے جو گھریلو حالات کی وجہ سے معاشی تنگی،بے روز گاری کے باعث تنگ دستی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ان میں اکثریت پڑھے لکھے نوجوانوں کی ہے جنہیں کوئی کام نہ ملنے کے باعث بھیک مانگ کر گزارا کرنا پڑ رہا ہے ایسے نوجوان خواجہ سراؤں کاروپ دھار کر میک اپ کر کے رات گئے تک مال روڈ،یاد گار،جیل روڈ،وحدت روڈ،اچھرہ، ڈیفنس، گلبرگ، لبرٹی  انار کلی جیسی معروف جگہوں اور بازاروں میں بھیک مانگتے دکھائی دیتے ہیں اس حوالے سے انہوں نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم پیشہ ور بھکاری نہیں ہماری غربت نے ہمیں گداگری پر مجبور کیا ہمارے شہر میں بڑھتی ہوئی غربت تقریبات اور میلوں کے خاتمے کی وجہ سے مانگنے پر مجبور ہوگئے ہیں انہوں نے اپنے پیٹ کی آگ بجھانی ہے آخر وہ کیا کریں کہاں جائیں ان کو کوئی نوکری تو دیتا نہیں اس لئے یہ بھیک مانگ کر اپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں انہوں نے  مزیدکہا کہ لوگ ہمیں جس طرح تنگ کرتے ہیں اس کو الفاظ میں بتانا ممکن نہیں بھیک مانگنے کا کام ٹھیکے پر بھی ہوتا ہے۔ لیکن مجھے اس کے بارے میں کچھ علم نہیں ہر معاشرے اور ملک میں اچھے اور برے سب لوگ ہوتے ہیں ان لڑکوں کے علاوہ حقیقی خواجہ سرا ء بھی لاہور کی مختلف شاہراہوں پر بھیک مانگنے میں مصروف رہتے ہیں زیادہ تر بھکاریوں، گداگروں کے بھی ٹھیکیدار ہوتے ہیں جو ان غریبوں،لاچاروں سے بھیک کی کمائی کا ایک بڑا حصہ وصول کر لیتے ہیں یہ ٹھیکیدار بہترین کپڑوں میں ملبوس ہوتے ہیں، خوبصورت گھروں میں رہتے ہیں، قیمتی گاڑیوں میں گھومتے پھرتے ہیں۔

خواجہ سراء 

مزید :

صفحہ آخر -