عدلیہ مخالف تقریر ہوش و حواس میں کی تھی؟جسٹس اعجاز الاحسن کااستفسار

عدلیہ مخالف تقریر ہوش و حواس میں کی تھی؟جسٹس اعجاز الاحسن کااستفسار

  

اسلام آباد(آن لائن)چیف جسٹس آف پاکستان اور عدلیہ مخالف تقریر کیس میں سپریم کورٹ نے ملزم مسعود الرحمن عباسی سے تحریری جواب مانگ لیا اور مزید سماعت 2 جولائی تک ملتوی کر دی۔سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر جج جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں چار رکنی بنچ نے چیف جسٹس گلزاراحمد اور عدلیہ مخالف تقریر پر توہین عدالت کیس کی ازخودنوٹس کیس کی سماعت کی۔ پولیس نے ملزم مسعود الرحمان عباسی کو عدالت کے روبرو پیش کیا،مسعود الرحمان عباسی نے عدالت کے سامنے اپنے بیان میں  چیف جسٹس اور عدلیہ مخالف تقریر کو تسلیم کرلیا،جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا کہ کیا آپ مانتے ہیں کہ تقریر آپ نے ہی کی تھی؟ جس پر ملزم مسود الرحمن عباسی کاکہنا تھا کہ جی تقریر میں نے ہی کی تھی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ آپ نے تقریرہوش و حواس میں کی تھی کیا؟ جس پر ملزم مسعود الرحمن عباسی نے کہا کہ جی میں بالکل ہوش وہواس میں نہیں تھا،میری تقریردرست تھی کوئی ملاوٹ نہیں کی گئی،تقریر کے حوالے سے کچھ تفصیلات بتانا چاہتا ہوں جس پر جسٹس عطاء عمر بندیال نے کہاکہ آپ نے جو کہنا لکھ کر دیدیں، کیس کو جلد نمٹانا چاہتے ہیں، عدالت نے پی ٹی اے کو بھی جواب کیلئے نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 2 جولائی تک کیلئے ملتوی کردی۔

عدلیہ مخالف تقریر

مزید :

صفحہ آخر -