انکوائری کے بغیر ملازمت سے نکالنا قانون کی منشاکے برعکس، عدالت

 انکوائری کے بغیر ملازمت سے نکالنا قانون کی منشاکے برعکس، عدالت

  

 لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے قراردیاہے کہ کسی ملازم کو باقاعدہ انکوائری کے بغیر ملازمت سے نکالنا قانون کی منشا کے برعکس ہے مسٹر جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے یہ فیصلہ ریسکیو 1122 کے ملازم کو بحال کرتے ہوئے جاری کیا محمد وارث نامی ڈرائیورنے درخواست دائر کی تھی کہ 1122کی ایمبولینس کو حادثہ پیش آنے کی بنیاد پر انہیں بغیر انکوائری نوکری سے فارغ کردیاگیا،عدالت نے قراردیاکہ کسی بھی سرکاری ملازم کیخلاف پیڈ ایکٹ کے مطابق انکوائری ہونی چاہیے آئین کے مطابق فیئر ٹرائل کسی بھی شہری کا آئینی اور بنیادی حق ہے بغیر کسی ریگولر انکوائری کے کسی ملازم کیخلاف کارروائی قانون فطرت کے بھی خلاف ہے،عدالت نے قراردیا درخواست گزار محمد وارث ضلع سرگودھا میں ریسکیو 1122 کی ایک ایمبولینس کا ڈرائیور ہے ریسکیو 1122 پر ایمرجنسی کال کی مد میں محمد وارث کو بھیجا گیا اور راستے میں اسکا ایک ٹریکٹر سے تصادم ہوا، حادثے کی صورت میں سرکاری ایمبولینس کا اگلا حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا، درخواست گزار محمد وارث کو اس واقعے کا شو کاز نوٹس جاری ہوا لیکن ریگولر انکوائری نہیں ہوئی،متعلقہ ادارے میں اپیل دائرہوئی لیکن شنوائی نہیں ہوئی۔

عدالت

مزید :

صفحہ آخر -