سینیٹ قائمہ کمیٹی، حکومت اپوزیشن کے سامنے بے بس، میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹس بل مسترد 

سینیٹ قائمہ کمیٹی، حکومت اپوزیشن کے سامنے بے بس، میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹس بل ...

  

اسلام آباد(آئی این پی) سینیٹ  کی قائمہ کمیٹی برائے صحت میں حکومت اپوزیشن کے سامنے بے بس ہو گئی، اپوزیشن ارکان کی مخالفت کے باعث فیڈرل میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹس بل کثرت رائے سے مسترد کردیا گیا،  بل کے حق میں 2 جبکہ مخالفت میں 5 ووٹ آئے،بل مسترد کرانے کے بعد تمام اپوزیشن ارکان کمیٹی اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے،  جس کے بعد چیئرمین کمیٹی نے قومی ادارہ صحت(تنظیم نو)بل پر رائے شماری کرادی جس پر کمیٹی میں موجود تینوں حکومتی سینیٹرز نے بل کے حق میں ووٹ دیا جس پر بل متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا، اپوزیشن کے ارکان کمیٹی نے پمز میں  خالی آسامیوں  اور ڈاکٹرز کی پروموشن نہ ہونے کا معاملہ اٹھاتے ہوئے حکومت کو تنقید کا نشانہ  بنایا ۔پیر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر ہمایوں مہمند کی صدارت میں ہوا، اجلاس میں فیڈرل میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوٹس بل2021کا جائزہ لیا گیا، اپوزیشن کے ارکان کمیٹی نے بل پر اعتراضات اٹھائے،سینیٹر جام مہتاب نے کہا کہ ادویات کی خریداری کے لیے ایسا سسٹم بنایا جائے کہ بہتر سے بہتر ادویات خریدی جائیں، ارکان کمیٹی نے پمز میں خالی آسامیوں کا معاملہ اٹھاتے ہوئے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیٹر سردار شفیق ترین نے کہا کہ پمز میں ڈینٹسٹ کو بٹھا کو ایڈمنسٹریٹر بنایا ہے وہ اس کے لیئے اہل نہیں ہیں،ڈاکٹرز کو آپ پروموشن نہیں دے رہے، آج بھی ہسپتال بند پڑے ہیں،اچھا ایڈمنسٹریٹر دیں،ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ مکمل ناکام ہو چکا ہے،پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر بہرہ مند تنگی نے کہا کہ پمز میں ابھی بھی خالی آسامیاں ہیں، پمز میں کام کرنے والے لوگ دلبرداشتہ ہیں،میں بل کی مخالفت کرتا ہوں، ہم چاہتے ہیں مسائل حل ہو جائیں، پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ اس میں بہت ساری چیزیں عوامی مفاد کی نہیں ہیں، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ اس بل میں ترمیم بھی لائی جاسکتی ہے لیکن اس کو آج منظور کریں،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پمز کابجٹ حکومت پانچ بلین دیتی ہے،پمز چھ بلین خرچہ کرتا ہے ایک بلین کا پمز خسارہ کرتا ہے، اس موقع پر اپوزیشن ارکان کمیٹی نے بل پر ووٹنگ کرانے کا مطالبہ کیا، ووٹنگ کے دوران پاکستان تحریک انصاف کی سینیٹرز زرقا  سہروردی تیمور  اور سینیٹر مہرتاج روغانی نے بل کی حمایت کی جبکہ اپوزیشن کے پانچ سینیٹرز نے بل کی مخالفت کی جس کے باعث بل کثرت رائے سے مسترد کر دیا گیا، بل مسترد ہونے کے بعد اپوزیشن ارکان کمیٹی اجلاس  اٹھ کر  باہر چلے گئے،اجلاس کے دوران قومی ادارہ صحت (تنظیم نو)بل 2021کا جائزہ لیا گیا، چیئرمین کمیٹی نے بل پر رائے شماری کرائی جس پر کمیٹی میں موجود تحریک انصاف کی تینوں سینیٹرز نے بل کے حق میں ووٹ دیا جس کے باعث بل متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

سینیٹ کمیٹی

مزید :

صفحہ آخر -