ہم فلمی صنعت کی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں، حکومتی تعاون کے بغیر تجدید ممکن نہیں: ڈائریکٹرز پروڈیوسرز

ہم فلمی صنعت کی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں، حکومتی تعاون کے بغیر تجدید ممکن نہیں: ...

  

 لاہور(فلم رپورٹر)وزیر اعظم پاکستان کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے فلم انڈسٹری کو آنکھ بھر کر تو دیکھا پاکستان فلم انڈسٹری میں کچھ لوگ ایسے رہے ہونگے جنہوں نے بالی ووڈ کی فلموں کو کاپی کیا ہوگا لیکن قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہمارے فلم میکرز نے تاریخی اور یادگار فلمیں بنا کر پوری دنیا میں وطن عزیز کا نام روشن کیا اس وقت بھی ہم لوگ بے یارو مدد گا ر فلمی صنعت کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں ہمارا ماضی تابناک اور روشن ہے بالی ووڈ والوں نے ہماری لاتعداد فلموں کو کاپی کیا ہے۔حکومتی تعاون کے بغیر ریوایؤل آف پاکستان فلم انڈسٹری ممکن نہیں ہے۔ان خیالات کا اظہار فلمی صنعت کے نمائندہ افراد نے شارٹ فلم فیسٹول کے موقع پر وزیر اعظم کی تقریر کے دوران فلم انڈسٹری والوں کو سوفٹ امیج اجاگر کرنے اور بالی ووڈ کی نقل کرنے کی بجائے اپنی ثقافت کو فروغ دینے کے مشورے کے جواب میں کیا۔سینئر رائٹر ڈائریکٹر پرویز کلیم نے کہا ہماری فلموں نے ہمیشہ پاکستان کا سوفٹ امیج اجاگر کیا ہے مجھ سمیت کئی پاکستانی فلم میکرز کی فلموں کو پڑوسی ملک والوں نے کاپی کیا میری 9فلمیں بالی ووڈ والوں نے کاپی کی ہیں جو کہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔حکومت ہمیں براہ راست فنڈ نہ دے بلکہ اپنے نمائندوں کو مقرر کرکے فلم انڈ سٹری بحالی کیلئے 20کروڑ روپے دے ہم اس رقم سے دس فلمیں بنائیں گے ساری نہ سہی کم ازکم دو فلمیں بھی کامیاب ہوگئیں تو تمام رقم واپس آجائیگی۔فلم فیڈریشن آف پاکستان کے چیئرمین سینئر اداکار اچھی خان نے کہا ماضی میں نیف ڈیک جیسا ادارہ قائم کیا گیا تھا جو کہ بعد میں ختم ہوگیا تھا اگر آج بھی ایسا ہی کوئی ادارہ قائم کردیا جائے تو فلمی صنعت اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرسکتی ہے۔اس ادارے میں فلم اور سرکاری نمائندوں پر مشتمل کمیٹی بنادی جائے جو تمام معاملات کی نگرانی کرے۔ سینئر فلم ڈائریکٹرمیڈم سنگیتا نے کہا سب باتیں ہی کرتے ہیں کسی نے فلمی صنعت کیلئے عملی طور پر کچھ نہیں کیا ہ نے کسی کی کاپی کیا کرنی ہے یہ تو تاریخ گواہ ہے کہ بالی ووڈ والوں نے ہی ہمیشہ ہماری فلموں کی نقل کی ہے۔مجھے فخر ہے پاکستان فلم انڈسٹری نے ہمیشہ پوری دنیا میں ملک کا سوفٹ امیج ابھارا ہے۔سٹار میکرڈائریکٹر جرار رضوی نے کہا کہ ہم لوگ نقل کرتے ہیں یا نہیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہے ہمیں یہ بتایا جائے کہ حکومت فلم انڈسٹری کیلئے کیا کررہی ہے ہمیں باتوں کی نہیں عملی کام کی ضرورت ہے۔وزیر اعظم شارٹ فلم فیسٹول میں تو چلے گئے فلم انڈسٹری کی تقریبات میں کیوں نہیں آتے وہ آئیں اور ہمارے مسائل سنیں۔نیشنل فلم فیسٹول کا بھی دوبارہ اجراء کیا جائے۔ الطاف حسین،حسن عسکری اور دیگر نے بھی ملے جلے خیالات کا اظہار کیا۔

فلمی صنعت

مزید :

صفحہ اول -