ذلفی بخاری نے دسمبر میں دورہ اسرائیل کی ایک بار پھر تردید کر دی

    ذلفی بخاری نے دسمبر میں دورہ اسرائیل کی ایک بار پھر تردید کر دی

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم کے قریبی دوست اور سابق معاون خصوصی برائے اوور سیز  زلفی بخاری نے ایک مرتبہ پھر اسرائیل کا خفیہ دورہ کرنے کی خبروں کو جعلی قراردیدیا وزیراعظم عمران خان کے سابق معاون خصوصی  کی طرف سے یہ دوسرا موقع ہے جب انہوں نے اسرائیل کا دورہ کرنے کے متعلق رپورٹس کی تردید کی ہے۔ گزشتہ سال دسمبر 2020ئمیں انہوں نے رپورٹس مسترد کی تھیں اور دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ نومبر میں مبینہ دورے کے وقت  وہ پاکستان میں ہی موجود تھے۔اس وقت ان افواہوں کا اس نیوز رپورٹ کے بعد آغاز ہوا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے امریکا سے دورے کی منظوری کے بعد نومبر 2020ء میں تل ابیب ایئرپورٹ پر اسرائیلی حکام سے ملاقات کی تھی۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ برطانوی پاسپورٹ رکھنے والے نامعلوم مشیر کو اسرائیل کی وزارت خارجہ لے جایا گیا جہاں انہوں نے متعدد سیاسی عہدیداران اور سفارت کاروں سے ملاقات کی اور پاکستانی وزیر اعظم کا پیغام ان تک پہنچایا۔ چونکہ زلفی بخاری برطانوی شہری بھی ہیں اس لیے سوشل میڈیا پر کئی افراد نے یہ قیاس آرائی شروع کردی کہ یہ رپورٹس ان سے متعلق ہیں۔ اب اسرائیل خبارات میں  دوبارہ یہ رپورٹس شائع ہوئی ہیں جس میں اسلام آباد کے نامعلوم ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے مبینہ دورے کا ذکر کیا گیا ہے۔ہاریتز اخبار کے اَوی سکارف نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق زلفی بخاری نے انٹیلی جنس ایجنسی موساد کے سربراہ یوسی کوہن سے ملاقات کے لیے اسرائیل کا دورہ کیا۔ نیوز رپورٹ میں اسلام آباد کے ذرائع کا حوالہ دیا گیا ہے اور اسے اسرائیلی ملٹری سینسر کی اجازت کے بعد شائع کیا گیا ہے۔وزیراعظم کے قریبی ساتھی نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مذاق کی بات یہ ہے کہ پاکستانی اخبار  اسرائیلی نیوز ذرائع  کی بنیاد پر کہہ رہا ہے کہ میں اسرائیل گیا، جبکہ اسرائیلی اخبار  پاکستانی ذرائع  کی بنیاد پر کہہ رہا ہے کہ میں نے اسرائیل کا دورہ کیا، تعجب ہے کہ خیالی پاکستانی ذریعہ کون ہے۔ 

زلفی بخاری

مزید :

صفحہ اول -