حکومت نے عوام کو غربت کے سونامی کے علاوہ کچھ نہیں دیا: خورشید شاہ 

  حکومت نے عوام کو غربت کے سونامی کے علاوہ کچھ نہیں دیا: خورشید شاہ 

  

 سکھر (ڈسٹرکٹ رپورٹر)پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق اپوزیشن لیڈر سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ حکومت نے مہنگائی اور غربت کی سونامی کے علاوہ عوام کو کچھ نہیں دیا۔ حکومت نے تین سالوں میں سترہ ہزار ارب ڈالر کا قرضہ لے چکی ہے اور اس وقت ملک کا ہر فرد 2 لاکھ روپے کا مقروض بن چکا ہے سکھرکی احتساب عدالت میں پیشی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن ٹوٹے گی تو بھی ملک کا نقصان ہوگا اور اگر حکومت ٹوٹے گی تو بھی اس کا نقصان ملک کا ہوگا۔خورشید شاہ نے کہا کہ جتنی توجہ حکومت اپوزیشن کو پسینے پر دے رہی ہے اتنی توجہ وہ قومی مسائل کے حلپر دے تو تمام مسائلکا حل نکل سکتاہے ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہمارے حالات اچھے نہیں ہیں ہمارے قریبی پڑوسی ممالک ہم پر شکوک و شہبات کا اظہار کررہے ہیں یہاں تک کہ چین بھی ناراضگی کا اظہار کررہا ہے اور ان حالات میں حکومت پہلی فرصت میں اپوزیشن اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے اور ان معاملات کا حل نکالے کیونکہ اگر اپوزیشن ٹوٹے گی تو بھی ملک کا نقصان ہوگا اور اگر حکومت ٹوٹے گی تو بھی اس کا نقصان ملک کا ہوگا اس لیے وقت ہے کہ مل بیٹھ کر افہامو تفہیم سے مسائل کا حل نکالا جا ان کا کہنا تھاکہ حکومت تین سال میں سترہ ہزار ارب ڈالر کا قرضہ لے چکی ہے اور اس وقت ملک کا ہر فرد 2 لاکھ روپے کا مقروض بن چکا ہے ہمارے دور حکومت میں یہ قرضہ 78 ہزار روپے فی کس تھا ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ جارہاہوں فنانس بل پر بات کروں گا اپنی نہیں عوام کی بات کروں گا میری جماعت میرے ساتھ ہے اور میرا پروڈکشن آرڈر جاری ہونا میرے چیئرمین کی کوششوں کا نتیجہ ہے ان کا کہنا تھا کہ مجھے پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کرنے کی سزا دی جارہی یے مگر میں آج بھی کہتا ہوں پارلیمنٹ عوام کا ادارہ ہے اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے ان کا کہنا تھا کہ الیکشن میں عوام کو کس کو جتواتے ہیں یا کس کو نہیں یہ فیصلہ عوام کا ہے اور عوام کو ہی کرنے دیا جائے۔

مزید :

صفحہ اول -