محکمہ تعلیم چارسدہ میں اندھیر نگری،طالبات کے متعدد سکولز بند

محکمہ تعلیم چارسدہ میں اندھیر نگری،طالبات کے متعدد سکولز بند

  

چارسدہ(بیوروپورٹ)محکمہ تعلیم چارسدہ کی غفلت اور لاپرواہی کے باعث پچھلے چار سالوں سے لڑکیوں کے متعدد سکولز بند پڑے ہیں جس کے باعث سینکڑوں بچیا ں حصول تعلیم سے محروم ہورہی ہے۔ بند سکولوں میں تین سکول صوبائی وزیر معدنیات اور ایک سکول سابق وزیرقانون سلطان محمد خان کے حلقہ میں واقع ہے۔ موجودہ حکومت نے جہاں معیاری تعلیم کو عام کرنے کے لئے صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ کر رکھا ہے وہی پر ضلع چارسدہ میں لڑکیوں کے متعدد سکولز اب بھی پچھلے کئی سالوں سے محکمہ تعلیم کی عدم توجہ،غفلت اور لا پرواہی کے باعث بند پڑے ہیں جس کے باعث سینکڑوں بچیاں حصول تعلیم سے محروم ہو رہی ہے۔ ان سکولوں میں گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول سریخ،گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول مازارا،گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول گگر،گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول نستہ ڈاگوال اور گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول زرباب گڑھی شامل ہیں جس کو متعلقہ لینڈ اونر نے سکول میں کلاس فور کی نوکری نہ ملنے کی پاداش میں پچھلے چار سالوں سے زبردستی سے بند کر رکھا ہے۔ مذکورہ سکولوں میں تین سکول صوبائی وزیر معدنیات عارف احمد زئی،ایک سکو ل سابق وزیر قانون سلطان محمد خان جبکہ ایک سکول ممبر صوبائی اسمبلی شکیل بشیر خان عمرزئی کے حلقہ میں واقع ہے۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ سکولوں کی تعمیر کے لئے زمین مہیاں کرنے والے لینڈ اونر نے محکمہ تعلیم سے ان سکولوں میں کلاس فور کی ملازمت کا مطالبہ کیا ہے جبکہ ملازمت نہ ملنے پر لینڈ اونرز نے ان سکولوں کوپچھلے چار سال سے بند کرکھا ہے۔مذکورہ سکولوں میں تین سکول ایسے ہیں جو کہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو  نے چار سال قبل کروڑوں روپے کی لاگت سے نئی تعمیرکرکے محکمہ تعلیم کے حوالے کئے ہیں جس کو زبردستی لینڈ اونر نے بند کر رکھا ہے جبکہ گورنمٹ گرلز پرائمری سکول نستہ ڈاگوال جس میں  450طالبات جبکہ گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول زرباب گڑھی میں تین سو سے زائد بچے پہلے سے ہی تعلیم حاصل کر رہی   تھیں لیکن ان دو سکولوں سے  چوکیداروں کے ریٹائرمنٹ کے بعد ان کے بچوں کو مذکورہ سکول میں کلاس فور کی نوکری نہ ملنے کی پاداش میں لینڈ اونر نے زبردستی سے بند کر دیا گیا ہے جس کے باعث ان سکولوں میں پڑنے والے طالبات کو یا تو دور کی سکولوں میں شفٹ کرنا پڑا ہے یا پھر انہیں تعلیم کا سلسلہ بند کرنا پڑا ہے۔ یاد رہے کہ محکمہ تعلیم کی نے مارچ کے مہینے میں 20سے زائد کلاس فور کی اسامیاں پر بھرتی کا عمل مکمل کر لیا تھا لیکن اس میں ان سکولوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے۔دوسری جانب ضلع چارسدہ میں اس وقت بھی 38ہزار سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں جن میں زیادہ شرخ لڑکیوں کی ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -