سیفی عیدی ظہبی انسٹیٹیوٹ کے طلبا کا مستقبل تاریک کرنے کی کوششیں 

      سیفی عیدی ظہبی انسٹیٹیوٹ کے طلبا کا مستقبل تاریک کرنے کی کوششیں 

  

 کراچی (اسٹاف رپورٹر)گورنمنٹ سیفی عید ی ظہبی انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے طلبا کے تعلیمی تسلسل ومستقبل کو نئی نجی انتظامیہ نے تباہ وبربادکرنا شروع کردیا۔مصدقہ تفصیلات و باوثوق ذرائع کے مطابق نجکاری کے بعد تین تعلیمی سالوں  2018-2019،2019-2020اور2020-2021/سے متعلق داخل واندراج شدہ طلبا کو سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کی واضح و تحریری ہدایات کے باوجود ادارے کے نئے نجی منتظمین کی جانب سے پریشان و گمراہ کیا جا رہا ہے اور اُن کی قانونی حیثیت کو من مانیوں کے ذریعے تبدیل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اس سلسلے میں متاثرہ طلبا کے والدین نے اخبارات کے دفاتر میں فون کرکے اپنی تشویش و پریشانی سے آگاہ کیا۔تین مختلف تعلیمی سالوں سے متعلق طلبا میں ذہنی اضطراب وتناؤ بڑھ رہا ہے۔دوسری طرف والدین کا شکوہ یہ ہے کہ سب کچھ جاننے و سمجھنے کے باوجود سندھ حکومت اس گھمبیر و پیچیدہ مسئلے سے بالکل اجنبی و لا تعلق دکھائی دے رہی ہے۔جب اس سلسلے میں مزید وضاحت حاصل کرنے کے لیے سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر مسرور احمد شیخ سے رابطہ قائم کیا گیا تواُنہوں نے روزنامہ پاکستان کے نمائندے کو بتایا کہ حوالہ خطSBTE/CH-PA/2021-88 بتاریخ 22/جون2021 کے مطابق سیفی عید ی ظہبی انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے پرنسپل کو واضح تحریری ہدایات دے دی گئیں ہیں جن کے تحت تینوں متعلقہ تعلیمی سالوں سے متعلق داخل و اندراج شدہ طلبا کی جاری حیثیت کو کسی طورپر بھی تبدیل نہیں کیا جاسکے گا بصورت دیگر ایسے کسی بھی قسم کے عمل کو قانونی خلاف ورزی متصورکیا جائے گا۔ واضح رہے کہ سندھ ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی نے گزشتہ سال 2020؁ء میں بروز 23/دسمبر سیفی عید ی ظہبی انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ملکیتی حقوق داؤدی بوہری جماعت کے ادارے سیفی گولڈن جوبلی ایجوکیشنل ٹرسٹ کو48/سال بعد واپس کردیے تھے۔ اسی طرح سے گورنمنٹ کا لفظ ہٹاکراسی ادارے کا نام ایک ترمیم کے ساتھ سیفی عید ی ظہبی انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی رکھ دیا گیا تھا۔یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ صنعتی اداروں کے لیے ہنر مند افرادی قوت پیدا کرنے والا یہ ادار ہ 58/سال پہلے 1963؁ء میں کراچی میں واقع بلاک جی نارتھ ناظم آباد میں داؤدی بوہری جماعت کی طرف سے قائم کیا گیا تھا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -