بجٹ ، گورکھ دھندہ

بجٹ ، گورکھ دھندہ
بجٹ ، گورکھ دھندہ

  

2021-22کا بجٹ اسمبلی میں پیش ہو گیا، حکومتی ارکا ن کی جانب سے عوام دوست بجٹ کے دعوے بھی جاری و ساری ہیں۔ دوسری طرف اپوزیشن کی جانب سے بجٹ کو ہدفِ تنقید بھی بنانے کا سلسلہ رواں دواں ہے۔  وزیرخزانہ کی بجٹ تقریر کے دوران اور جواب الجواب  میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کی قومی اسمبلی میں کی گئی تقریر کے دوران ہونے والا ہنگامہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ، جس طرح اسمبلی میں حکومتی ارکان کی جانب سے ہنگام بپا کیا گیا  اسمبلی قوانین کی دھجیاں اڑائی گئیں تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، بحرحال یہ ثانوی موضوع ہے۔ بجٹ جو حکومت کی جانب سےعوام دوست قرار دیا جا رہا ہے اس کی عوام دوستی کی حقیقت تو بجٹ پیش ہونے کے اگلے ہی روز عیاں ہونا شروع ہو چکی تھی جب عوام  قومی اسمبلی میں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان ہونےو الی دھینگا  مشتی اپنی ٹی وی سکرینوں پر دیکھنے میں محو تھے اسی دوران حکومت نے چپکے سے  پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کردیا۔ بظاہر تو کہا جارہا ہے کہ نئے ٹیکس عوام پر بوجھ کی صورت میں نہیں لگائے جائیں گے بلکہ ٹیکس نیٹ کو بڑھایا جائے گا لیکن  مہنگائی ہے کہ پھر بھی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔  حکومتی ارکان سب اچھا کا راگ الاپ رہے ہیں۔  پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے بڑھنے کے اثرات ظاہری طور پر اشیائے خورونوش اور دیگر اشیائے ضروریہ پر ضرور مرتب ہوں  گے جس سے مہنگائی کے گراف میں مزید اضافہ ہو گا۔

دوسری طرف حکومت ارکان جو مخملی بستروں اور پُر تکلف کھانوں کے مزے اڑاتے ہیں زمینی حقائق کو ماننے کو تیار نہیں۔  مہنگائی نے جہاں عوام کا جینا دو بھر کررکھا ہے  وہیں  ایک حکومتی وزیر پرویز خٹک نے عوام کے زخموں پر خوب نمک چھڑکا ۔ موصوف نے اسمبلی فلور پر بجٹ  تقریر کے دوران  کہا کہ  اپوزیشن مہنگائی کا واویلا کرتی ہے اپوزیشن کے واویلے میں صداقت نہیں۔ لوگوں کے پاس گھر ہیں اچھا رہن سہن ہے  گاڑیاں ہیں کہاں ہے مہنگائی؟ اس طرح کے بیانات صرف وہی شخص دے سکتا ہے جسے زمینی حقائق کا رتی برابربھی ادراک نہیں۔ ان کو معلوم تب ہو گا جب یہ لوگ  اقتدار کی بھول بھلیوں سے نکل کر  خود بازار کا رخ کریں گے۔ پی ٹی آئی جو ہمیشہ سابق حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتی رہی۔

وزیراعظم عمران خان اپنے اپوزیشن دور میں ہر تقریر کے دوران واشگاف الفاظ میں کہتے رہے کہ سڑکیں اور موٹرویز بنانے سے قومیں نہیں بنتیں، بلکہ تعلیمی ادارے اور ہسپتال زیادہ ضروری ہیں، اس میں شک کی گنجائش نہیں کہ ہسپتال ضروری ہیں، تعلیمی اداروں کی اہمیت بھی کم نہیں۔ انہیں کے وزیر پرویز خٹک نے  اسمبلی فلور پر کھڑے ہو کر کہا  کہ  ملک تعمیراتی کاموں سے ترقی کرتے ہیں۔ جب سابقہ دور حکومت میں تعمیراتی ترقی ہو رہی تھی تو تب کس بنیاد پر کہا جاتا تھا کہ سڑکیں بنانے سے قوم ترقی نہیں کرتی۔ اب حکومت کے تین سال مکمل ہونے کو ہیں نہ ہی کوئی ہسپتال بن سکا  اور نہ ہی کوئی بڑی درسگاہ کی تعمیر دیکھنے میں آئی ہاں البتہ وزیراعظم عمران خان نے وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کا اعلان کیا تھا اب وزیراعظم عمران خان اسی ’’ یونیورسٹی ‘‘ میں حکومتی ارکان کو  ’’ لیکچر‘‘ دیتے ہیں کہ  اپوزیشن کو ٹف ٹائم دو۔ تحریک انصاف کا ویژن ہی یہ تھا کہ حکومت میں آکر بیروزگاروں کو نوکریاں فراہم کی جائیں گی ۔ نوکریاں تو کیا فراہم کرنی تھیں الٹا لاکھوں لوگ بیروزگار  ہو گئے۔

اب تحریک انصاف کے ہی ارکان کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ  ملک نوکریاں دینے سے نہیں چلتا۔ حکومتی ارکان جھوٹ بھی اتنی سنجیدگی اور نفاست سے بولتے ہیں کہ سچ لگنے لگتا ہے۔   وزارت خزانہ کا منصب سنبھالنے سے پہلے شوکت ترین صاحب  حکومت کی معاشی پالیسیوں کو تباہ کن قرار دے رہے تھے جیسے ہی وزارت کامنصب سنبھالا اعدادوشمار کے گورکھ دھندے سے منفی گروتھ ریٹ کو 4 ظاہر کردیا گیا۔ گروتھ ریٹ میں اضافہ  کیسے تسلیم کیا جاسکتا ہے جب اس کے ثمرات عام عوام تک ہی نہیں پہنچ پائے۔ مہنگائی نے عوام کا جینا دو بھر کررکھا ہے۔ اشیائے ضروریہ عوام کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں۔ بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں میں معمولی اضافہ کر کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں جبکہ مہنگائی  کم سے کم تنخواہ سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔ عام آدمی کی کمر ٹوٹ کررہ گئی ہے لیکن حکومتی ارکان کے اللوں تللوں کا سلسلہ جوں کا توں جاری ہے۔

پنجاب حکومت نے  صوبائی وزرا اور مشیروں کے لئے46 نئی گاڑیاں خریدنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ وہی حکومت ہے جس نے اقتدار میں آتے ہی وزیراعظم ہاؤس کی گاڑیوں کو اونے پونے بیچ دیا تھا۔    حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا  یہ بجٹ عوامی تب ہی ہو سکتا ہے جب  اس میں عوام کو حقیقی ریلیف دیا جائے۔ صرف الفاظ کے گورکھ دھندے کو عوامی بجٹ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حکومت کو یہ جان لینا چاہیے کہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہر چیز پر اپنے نقش مرتب کرے گا۔ یہ ان کے لئے سمجھنا زیادہ ضروری ہے جو کہتے ہیں پٹرول کی قیمت20روپے فی لیٹر بڑھ جائے گا تو قیامت نہیں آجائے گی۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.   ‎

مزید :

بلاگ -