ہوائی جہاز اگر کریش لینڈنگ کرے تو مسافروں کو کس پوزیشن میں بیٹھنا چاہیے؟ ماہرپائلٹ نے دنیا کو بتادیا

ہوائی جہاز اگر کریش لینڈنگ کرے تو مسافروں کو کس پوزیشن میں بیٹھنا چاہیے؟ ...
ہوائی جہاز اگر کریش لینڈنگ کرے تو مسافروں کو کس پوزیشن میں بیٹھنا چاہیے؟ ماہرپائلٹ نے دنیا کو بتادیا

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) ہوائی جہاز جب کریش ہونے کے خطرے سے دوچار ہوتا ہے تو مسافروں کو ’بریس پوزیشن‘ میں بیٹھنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ اس پوزیشن میں سیٹ پر آگے کی طرف جھک کر دونوں ہاتھوں کو سر کی پشت پر باندھنا ہوتا ہے اور ماتھے کو سامنے والی سیٹ کی پشت کے ساتھ ٹکانا ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس پوزیشن میں بیٹھنے سے جہاز کو حادثہ درپیش آنے کی صورت میں مسافر کے زندہ بچ جانے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیںتاہم اس پوزیشن کے متعلق ایک یہ افواہ بھی پائی جاتی ہے کہ مسافروں کو اس پوزیشن میں اس لیے بیٹھنے کو کہا جاتا ہے کیونکہ اس طرح بیٹھنے سے جب جھٹکا لگتا ہے تو مسافروں کی فوری موت ہو جاتی ہے۔ان میں سے کون سی بات درست ہے؟ اب ایک ماہر پائلٹ نے اس حوالے سے حقیقت دنیا کو بتا دی ہے۔

 ڈیلی سٹار کے مطابق اس پائلٹ کا نام نک ایڈیز ہے جو دنیا میں بوئنگ 747اڑانے کا سب سے زیادہ تجربہ رکھتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق نک ایڈیز کا کہنا ہے کہ ”بریس پوزیشن (Brace Position)کے بارے میں پائی جانے والی یہ افواہ سراسر غلط ہے کہ اس طرح مسافروں کی فوری موت ہو جاتی ہے۔ یقینا اس پوزیشن کا مقصد مسافروں کو حادثے کی صورت میں محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔ جو لوگ بریس پوزیشن میں بیٹھے ہوتے ہیں، طیارے کے زمین سے ٹکرانے پر جو جھٹکا لگتا ہے، اس میں ان کی گردن ٹوٹنے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے اور ان کی جان بچنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

 طیارے گرنے کی صورت میں بریس پوزیشن میں انسانی جسم کو کم سے کم نقصان پہنچتا ہے۔ اس صورت میں سر کو جھٹکا بہت کم لگتا ہے اور گردن کی ہڈی پر زیادہ دباﺅ نہیں پڑتا۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -