چاہ پیتی سی کرکے۔۔۔

چاہ پیتی سی کرکے۔۔۔
چاہ پیتی سی کرکے۔۔۔

  

جب پنجاب، دیہات کی دیسی زندگی،سونا اگلتے کھیت،ہل،ٹریکٹر،دریا،بیلے،دیہات میں سجنے والے میلے ٹھیلے،کبڈی،ڈھول اوراس خطے کے کلچر کی بات ہوگی تویہاں لوک فنکار ضروریاد آئیں گے،عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی ہو یامنصورملنگی؟ملک علی ملکو  ہو یاکوئی اور؟جہاں دیگر لوک فنکاروں کی آوازیں ہماری یادوں کیساتھ جڑی ہیں وہی ایک بے مثال آواز،ایک جادوئی سُر رکھنے والے اللہ دتہ لونے والا بھی ہیں،جن کے نام کیساتھ  آج سے ’’تھے‘‘ استعمال ہوگا،اس خطے کے میوزک لورز کو بے شمار گیتوں کی دولت سے نوازنے والے اللہ دتہ لونے والا ایک ناقابل فراموش گلوکارتھے۔

چاہ پیتی سی کرکے،اساں کہڑا نت آونا،توڑے بولے ہاں جی کرکے۔۔چنگادلبرپیارکتوئی۔۔دو،دو تھاں تے پیار وی چنگے ہوندے نئیں۔۔۔ڈھولے تے ساڈی یاریاں۔۔۔پیار نال پیار داجواب ہونا چاہیدا۔۔۔کوئی دسو ہا سجن دا حال۔۔اس جیسے کتنے ہی بول ہوسکتاہے کہ آپ کو اپنے بچپن میں لے جائیں،ہوسکتاہے آپ کو اپنا محبوب یاد آجائے،ممکن ہےاللہ دتہ لونےوالا کی آواز آپ کو وہاں لےجائےجہاں سےگردش ایام نے آپ کو اٹھا کر بہت دور کردیاہو۔

میں جب جب اللہ دتہ لونے والا کی آوازسنتاہوں مجھے اپنے گاؤں کاخوبصورت ماحول نظرآتاہے،مجھے کچے رستوں پرچلنےوالےبیلوں کےبعدٹریکٹرکی آواز سنائی دیتی ہیں جس پر بیٹھاڈرائیورجہاں اپنےکام میں مصروف ہوتاہے وہی وہ لونے والا کی آوازسنتے سنتے محبوب کی زلفوں کا تصورکرنے لگتاہے،یہ وہ دورتھا جب پیارکے جذبے سچائی سے بھرپور تھے،ایسےمیں جن  لوکی فنکاروں کی آوازیں کانوں میں گونجتی تھیں وہیں وہ آوازیں یادوں کیساتھ ایسی جڑ جاتیں کہ سننے والےاپنے پیار،غم اوراپنی ہی کہانیوں کاتصورکرکےخوب لطف اندوز ہوتے۔

میں آج تک اللہ دتہ لونےوالا کو آمنے سامنےنہیں ملا مگرجب لونے والا کی آوازکانوں میں پڑی تو لگاکہ جو غم لونے والا بیان کررہاہے،یہی زمانےکےاکثر افراد کاغم ہے۔۔اگر ہم یہ سنیں’چاہ پیتی سی کرکے،اساں کہڑا نت آونا،توڑے بولے ہاں جی کرکے۔۔۔اس میں اپنےمحبوب،اپنے دوست،اپنے رشتےدار یا جو بھی جس کیساتھ آپ کا گہرا تعلق ہے،اگروہ بےرخی دکھاتاہےتو پھراس قسم کےبول آپ کو اس درد کی کیفیت  بیان کرنے میں آسانی دیتے ہیں۔جیسےکہتےہیں  کہ غم  اندرہی رہنےدیں تو وہ اندر ہی اندر ناسور کی شکل اختیار کر جاتاہےاس لیےغم کو کسی غمگساراورکسی دوست کو سنادیں تاکہ دل ہلکاہو۔۔۔

اللہ دتہ لونےوالےکےگیتوں کو سن کر بھی ایسے لگتاہے کہ جیسے وہ آپ کی کہانی سن کر اسے گیت کی شکل میں سنا رہاہےاورجو شکوہ آپ اپنی زبان سےمحبوب سےنہیں کرسکتے،وہ اللہ دتہ لونے والا نے دکھی دلوں کی ترجمانی کرتے ہوئے بیان کیاہے۔۔۔

اللہ دتہ لونے والااس دنیا میں تو بے شک نہیں رہے مگر اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے،ان کی آواز کانوں میں گونجتی رہے گی اور مجھے تو چائے کی پیالی پر یہ ضرور یاد آئے گا۔۔چاہ پیتی سی کرکے،اساں کہڑا نت آونا،توڑے بولے ہاں جی کرکے۔۔۔

(بلاگر مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز کے نیوزروم سے وابستہ رہ چکے ہیں، آج کل لاہور کے ایک ٹی وی چینل پر کام کررہے ہیں۔ عوامی مسائل اجاگر کرنے کےلیے مختلف ویب سائٹس پر بلاگ لکھتے ہیں۔ ان سے فیس بک آئی ڈی munazer.ali پر رابطہ کیا جاسکتا ہے)

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -