سامنے میدان کے پار بہتے پانی کی روانی کے سوا ہر شے ساکن تھی ،پرندے یہاں نہ ہونے کے برا بر ہوتے ہیں اس لیے کو ئی چہکار تھی، نہ چہل پہل

سامنے میدان کے پار بہتے پانی کی روانی کے سوا ہر شے ساکن تھی ،پرندے یہاں نہ ...
سامنے میدان کے پار بہتے پانی کی روانی کے سوا ہر شے ساکن تھی ،پرندے یہاں نہ ہونے کے برا بر ہوتے ہیں اس لیے کو ئی چہکار تھی، نہ چہل پہل

  

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط:114

 دبے پاؤں چلنے والی ایک چا لاک لو مڑی:

شمشا ل میں کو ئی ٹریفک یاگا ڑی تو کجا سائیکل اور گدھا گا ڑی تک نہیں تھے اس لیے یہاں کی فضا کی خا موشی بہت مختلف اور مکمل تھی، ایک ساکن جھیل کی طرح جس میں آسمان کا نیلا رنگ اور سفید با دلوں کا عکس جھلکتا ہے، اس بے کراں خا موشی میں روح کا رنگ جھلکتا تھا ۔ رات کا اندھیرا اس خاموش بے کرانی کو دو چند کرتا تھا۔ہم جانے کب تک دنیا و ما فیہا سے بے خبر رات کے سحر میں کھوئے بیٹھے رہے اور جانے کب تک بیٹھے رہتے اگر عثمان اچانک اعلان نہ کرتا کہ اسے ڈائننگ ہال کے پیچھے ایک لو مڑی دبے پاؤں گزرتی نظر آئی ہے۔یہ اعلان سب کو رومانی دنیا سے حقیقت کی دنیا میں واپس لے آیا۔

”کوئی کتا ہوگا۔“ ندیم نے خیال ظاہر کیا۔

”وہ بہت خا موشی سے گزری تھی۔ کتا اتنی خا موشی سے نہیں گزرسکتا۔“ عثمان نے انکشاف کیا۔

”یہ کیا بات ہو ئی؟“ میں نے حیرت سے پو چھا۔ 

 ”درا صل لو مڑیاں بہت چا لاک ہو تی ہیں نا،“ عثمان نے دلیل پیش کی۔”اسی لیے وہ اتنی خا موشی سے گزری ہے۔“

اب گفتگو اس بات پر ہونے لگی کہ کیا لو مڑیاں دوسرے جانوروں کی نسبت واقعی چالاک ہوتی ہیں یا پرانے داستان گوؤں نے محض بہتان باندھ کر اس کی کردار کشی کی ہے؟نیز یہ کہ زیر بحث لو مڑی پر ”دبے پاؤں چلنے“ کا الزام بھی عثمان نے بلا وجہ لگا یا ہے ورنہ بلی، کتے، شیر اور ایسے سب جانور بے آواز ہی چلتے ہیں۔ وہ پا ئلیں تو پہنتے نہیں کہ تھم تھم کر چلتے ہوئے بھی ”چھم چھم کے گیت“ نشر ہوں۔ کافی دیر اس اہم موضوع پر ”ٹاک شو“ جاری رہا۔ہم میں سے کسی نے غالبا ً آج تک کوئی لو مڑی،چڑیا گھر کے علاوہ، اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھی تھی اور شاید ہم دن کے اجالے میں کتے اور لو مڑی میں فرق تک نہیں کر سکتے تھے لیکن پھر بھی اس موضوع پر بحث چلتی رہی۔۔۔ بے مقصد، بے سمت اور دلچسپ،حتیٰ کہ ہمیں ایک دوسرے پر لو مڑ ہونے کا گمان ہو نے لگا کیوں کہ کسی لو مڑی میں اتنی دلچسپی اصو لا ً کسی لو مڑ ہی کو ہو نی چاہیے تھی۔ ماحول کا سارا رومانس ختم ہو چکا تھا۔ سردی بھی بڑھ گئی تھی۔ سب نے سونے کا فیصلہ کیا اور بستروں میں گھس گئے۔ 

میں نے خواب میں بھی ایک لو مڑی دیکھی جس نے جو گرز پہنے ہوئے تھے اور وہ دبے پاؤں چل رہی تھی۔

در مدح ِفواکہات و مذمت ِ حکما:

 صبح آنکھ کھلی تو سورج چڑھ آیاتھا۔ غسل خانے میں دا خل ہوا تو پہلی نظر اسی بلند بام ٹو نٹی پر پڑی۔ صبح کی ٹھنڈی ہوا میں نہانے کو دل نہیں چاہ رہا تھا۔ بڑے ڈرم میں پا نی بھرا ہوا تھا۔مونھ دھو نے کے لیے ڈونگے سے پانی نکالا تو تہہ میں جمع ریت کے سر مئی مر غولے بل کھا کر اٹھنے لگے جیسے میں نے انہیں سوتے سے جگا دیا ہو۔ ٹھنڈے پانی نے نیند آ نکھوں سے دھو دی۔ باہر نکلا تو دھوپ کی سفیدی آنکھیں چندھیا تی تھی۔ کوسی کوسی دھوپ کا لمس ٹھنڈی ہوا میں جسم کو بھلا لگا تو میں تھڑے پر دریا کے رخ کرسی ڈال کر بیٹھ گیا۔ پہلی شام کی طرح نئی جگہ کی پہلی صبح کا بھی، مسرت، حیرت اور جستجُو سے بھرا ایک الگ احساس ہوتا ہے۔ ہر طرف وہی کل والی خاموشی تھی۔ سامنے میدان کے پار بہتے پانی کی روانی کے سوا ہر شے ساکن تھی۔ سکول آج بھی بند تھا۔پرندے تو یوں بھی یہاں نہ ہونے کے برا بر ہوتے ہیں اس لیے کو ئی چہکار تھی، نہ چہل پہل۔ دھوپ گاؤں کے گردا گرد اُگے گھنے درختوںکے اوپر سے اٹھ کر خشک پہاڑوں سے ہوتی میدان میں پھیل رہی تھی۔میں کتاب بند کر کے اٹھا اور ساتھ کے با غیچے سے تازہ خوبا نیاں چن لا یا۔ میٹھی بلکہ بہت میٹھی خو با نیوں نے نیند اور گزرے کل کے سفر کی الکساہٹ دور کر دی۔ ایک ایک کر کے سب اٹھنے لگے۔ جو اٹھتا، دوسرے کو خوبانیاں کھاتے دیکھ کرپہلے خو با نیاں چن کر لاتا پھر کو ئی اور بات کرتا۔ (جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -