نیک نامی دولت سے بہتر ہے کیونکہ دولت فنا ہو جاتی ہے نیک نامی باقی رہتی ہے

نیک نامی دولت سے بہتر ہے کیونکہ دولت فنا ہو جاتی ہے نیک نامی باقی رہتی ہے
نیک نامی دولت سے بہتر ہے کیونکہ دولت فنا ہو جاتی ہے نیک نامی باقی رہتی ہے

  

مصنف : ملک اشفاق

 قسط :39

٭ نیند ایک ہلکی موت اور موت ایک لمبی نیند ہے۔

٭ ایک شاگرد سے کہا ”زمانہ کی طرف مائل نہ ہونا کیونکہ اپنی جانب مائل ہونے والوں کے حق میں یہ تیزی سے خیانت کرتا ہے۔

٭کسی حالت میں کوئی زمانہ سے خوش ہو گا تو دوسری حالت میں اس سے تکلیف ہو گی۔

٭ دنیا کی محبت جو اپنے دل میں داخل کرے گا۔ اس میں 3 صفات بھر جائیں گی۔

-1احتیاج جس سے بے نیازی نصیب نہ ہو گی۔

-2 آرزو جس کی کوئی انتہا نہ ہو گی۔

-3 مصروفیت، جو ختم ہونے کا نام نہ لے گی۔

٭ اپنا راز پوشیدہ رکھنے کے لیے تم کسی کے ضرورت مند ہو تو اس کے یہاں اپنا رازنہ رکھنا۔

٭ پوچھا گیا ”دریا کا پانی شور کیوں ہو گیا ہے؟“ اس نے کہا ”اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ اسے سمجھ لینے سے فائدہ کیا ہے تو سبب بتاﺅں۔“

٭ جہل سے زیادہ نقصان دہ کوئی نقصان نہیں ہے۔

٭ ایک شاگر دسے کہا ”پیارے بیٹے! اگر عورتیں ضروری ہی ہوں تو ان سے ملاقات اس طرح رکھو جسے مردار کھانا، مردہ مجبوری کی حالت ہی میں کھاﺅ گے اور اتنا ہی کھاﺅ گے جتنے میں اپنی جان بچا سکو، اگر ضرورت سے زیادہ کوئی کھا لے گا تو بیمار ہو کر ہلاک ہو جاتا ہے۔“

٭پوچھا گیا ”عورتوں کے باب میں کیا فرماتے ہیں؟“ جواب دیا ”عورتیں دفلی (ایک درخت) کے مانند ہیں، یہ نہایت خوبصورت اور بارونق ہوتا ہے مگر سادہ لوح اسے کھا لیتا ہے تو ہلاک ہو جاتا ہے۔“

٭ پوچھا گیا ”عورتوں کی مذمت کرنا کس طرح جائز ہے، اگر وہ نہ ہوتیں تو آپ اور آپ جیسے دوسرے حکماءپیدانہ ہوتے؟“ جواب دیا ”عورت کی مثال کانٹے دار کھجور کے درخت کی ہے کانٹا کسی انسان کے جسم میں داخل ہو جائے تو اے ہلاک کر دے گا مگر اس کا پھل کیا ہوتا ہے تازہ خرما۔“

٭ ارشیجانس نے کہا ”اہل شہر سے جو گفتگو آپ نے کی ہے وہ مقبول نہ ہوگی“ اس نے جواب دیا ”میرے لیے تکلیف دہ یہ نہیں کہ وہ مقبول نہ ہو گی تکلیف دہ یہ ہے کہ وہ صحیح نہ ہو۔“

٭ جسے حیا اور شرم نہ ہو اسے خاطر میں نہ لاﺅ۔

٭ کسی منکر احسان کا انکار تجھے احسان سے باز نہ رکھے۔

٭ جاہل وہ ہے جو کسی پتھر سے دوبار ٹھوکرکھائے۔

٭ تعلیم و تربیت کے لیے تجربے، موعظت و نصیحت کے لیے انقلاب زمانہ اور عرفان کے لیے سماج والوں کے اخلاق کافی ہیں۔

٭ یاد رکھو جو لوگ گزر گئے ہیں انہی کے پیچھے تم بھی جا رہے ہو۔ جو لوگ فوت ہو گئے ہیں ان کی جگہ تم مقیم ہو اور جس عنصر سے تمہاری آفرینش ہوئی ہے اس کی جانب لوٹ رہے ہو۔

٭ عبرت و موعظت حاصل کرنے والوں کے لیے گردش ہائے دہر کافی ہیں جو دن بھی زمانہ میں آتا ہے اپنے ساتھ ایک نیا علم لاتا ہے۔

٭ آفتوں کے پیش آنے سے نعمت میں رہنے والوں کی نعمتیں مکدّر ہو جاتی ہیں۔

٭ مافات کی فکر جسے کم ہو گی اس کا دل راحت سے پر اور ذہن روشن ہو گا۔

٭ نعمتوں کا جو شکر ادا نہ کرے گا۔اس کی نعمتوں میں اضافہ نہ ہو گا۔

٭کسی چیز سے احتراز کرنے والا گاہ اسی چیز سے ا س پر آفت آتی ہے۔

٭ غصے کا علاج خاموشی سے کرو۔

٭ نیک نامی دولت سے بہتر ہے کیونکہ دولت فنا ہو جاتی ہے نیک نامی باقی رہتی ہے۔ حکمت ایک ایسی دولت ہے جو نہ معدوم ہوتی ہے نہ مضمحل۔

٭حلال کی موجودگی میں فقر ہو تو اسے پسندکرو، حرام کے ساتھ غنا کو پسند نہ کرو۔

٭ سب سے عمدہ چلن یہ ہے کہ کمائی پاک ہو اور خرچ بہ اندازہ۔

٭ تجربہ کار علم میں اور مومن یقین کے اندر بڑھتا جائے گا جسے یقین حاصل ہو گا۔ وہ جدوجہد سے عمل کرے گا جو عمل کا حریص ہو گا۔ اس کی طاقت بڑھے گی۔ جو سستی کرے گا اس کا ضعف بڑھے گا۔ جو پس و پیش کرے گا شک و شبہ اس کا زیادہ ہو گا۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -