ایسٹ انڈیا کمپنی کا دور ختم ہوا، ملکہ وکٹوریہ نے ہند کی فرمانروائی اپنے ہاتھ میں لی

ایسٹ انڈیا کمپنی کا دور ختم ہوا، ملکہ وکٹوریہ نے ہند کی فرمانروائی اپنے ہاتھ ...
ایسٹ انڈیا کمپنی کا دور ختم ہوا، ملکہ وکٹوریہ نے ہند کی فرمانروائی اپنے ہاتھ میں لی

  

مصنف : ای مارسڈن 

 ہند کی حالت ملکۂ انگلستان کے ظل حکومت میں

پہلے5 وائسرائے1858ءسے 1877ءتک:

 غدر کے بعد انگلینڈ کی پارلیمنٹ نے دیکھا کہ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ ہند کی حکومت میں کچھ تغیر و تبدل کیا جائے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کا دور ختم ہوا۔ ملکہ وکٹوریہ نے ہند کی فرمانروائی اپنے ہاتھ میں لی اور اب سے گورنر جنرل نائب السلطنت ہونے کی وجہ سے وائسرائے کہلانے لگا۔

 پہلا وائسرائے لارڈ کیننگ 1862ءتک حکمران رہا۔ یہ لارڈ ڈلہوزی کی تجاویز پر عمل کرتا رہا۔ جابجا سڑکیں، ریل اور تار برقی جاری ہوئی اور بہت سے مدرسے اور شفاخانے قائم ہوئے۔

 ملکہ معظمہ نے ہندوستان بھر میں ہر جگہ اعلان کر دیا کہ سرکار انگریز کے نزدیک انگریز اور ہندوستانی ہندو اور مسلمان سب برابر ہیں اور سب کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے گا۔ کسی کی ذات اور مذہب میں دست اندازی نہ ہو گی۔ سب کے حقوق مساوی ہیں اور امیر و غریب سب کے لیے ایک قانون ہو گا۔ یہ بھی اجازت ہو گئی کہ اگر کسی راجہ یا نواب کا اپنا بیٹا نہ ہو تو وہ کسی کو متبنیٰ کر لے جو اسکے بعد اس کی ریاست کا مالک ہو۔

 ہند کی رعایا اس نیک ذات ستودہ صفات ملکہ پر جان دیتی تھی۔ ملکہ بھی رعیت کو اپنے بچوں کی طرح پیار کرتی تھی۔ ملکہ وکٹوریہ جس طرح انگلینڈ کے زبردست سے زبردست امیر پر حکمران تھیں۔ اسی طرح ہند کے مفلس سے مفلس مزدور کی مہارانی تھیں۔ اپنی رعایا کا اس قدر خیال رکھتی تھیں کہ پیشتر کبھی کسی راجہ، بادشاہ یا ملکہ کو نہ تھا۔

 لارڈ الگن دوسرا وائسرائے تھا۔ 1862ءمیں ہند میں وارد ہوا اور 1863ءمیں مر گیا۔ اسی سال افغانستان کا امیر دوست محمد جو ایام غدر میں انگریزوں کا دلی دوست و مددگار تھا مر گیا اور اس کا بیٹا شیر علی اس کا جانشین ہوا۔ شیر علی نے اپنے بڑے بھائی افضل خاں کو جو باپ کے بعد سلطنت کاحقدار تھا قید کر دیا۔

 1864ءمیں سرجان لارنس جو غدر کے ایام میں پنجاب کا حاکم تھا اور اپنے حسن انتظام اور اعلیٰ تدبیر کے سبب سے نیک نام تھا لارڈ لارنس کے خطاب سے ممتاز ہو کر وائسرائے مقرر ہوا۔ اس کے عہد میں بھوٹان کے ساتھ ایک مختصر سی جنگ ہوئی۔ بھوٹان ایک چھوٹا سا ملک نیپال کے مشرق میں واقع ہے۔ لڑائی کی وجہ یہ تھی کہ وہاں کا حاکم کچھ ہندوستانیوں کو غلام بنا کر لے گیا تھا۔ اس کی شکست ہوئی اور غلام رہا کر دیئے گئے۔ دوست محمد کے بڑے بیٹے افضل خاں کو اس کے بیٹے عبدالرحمن نے قید سے نکال کر افغانستان کے تخت پر بٹھا دیا۔ شیر علی بھاگ گیا مگر چند روز بعد افضل خاں کی وفات پر وہ پھر کابل میں آ گیا اور بدستور سابق بادشاہت کرنے لگا۔

سرجان لارنس کے عہد میں دو بڑے بھاری قحط پڑے ایک اڑیسہ میں، دوسرا مغربی ہندوستان میں، سرکار نے زرکثیر قحط زدوں کی امداد میں صرف کیا اور ہزاروں جانیں بچائیں۔

 چوتھا وائسرائے لارڈمیو تھا۔ یہ 1869ءمیں آیا تھا ہند میں آئے 3 سال ہوئے تھے کہ جزیرہ انڈمان کے ملاحظہ کے لیے گیا۔ وہاں ایک مجرم نے اسے قتل کیا۔ اس نے تعمیرات عامہ کی ترقی میں بڑی کوشش کی اور زراعت کا محکمہ قائم کیا۔ اس محکمہ کے افسران باتوں کی تحقیقات کرتے ہیں کہ اور ملکوں کے کسان کیا کیا کارروائی کرتے ہیں وہ کیا کیا جنس پیدا کرتے ہیں۔ کس قسم کے ہلوں سے کام لیتے ہیں۔ اپنے اپنے باغوں میں کیا کیا پھل اور میوے لگاتے ہیں۔ کیا کیا کھاد استعمال کرتے ہیں اور کس طرح زمین کی کاشت کرتے ہیں۔ انگریزوں کے لیے اس قسم کی تحقیقات آسان ہے کیونکہ وہ دنیا کے ہر ملک میں جاتے ہیں اور وہاں کے حالات دریافت کرتے ہیں۔ برخلاف اس کے بہت عرصہ نہیں ہوا کہ ہندو اس ملک سے باہر جاتے ہی نہ تھے۔ پس محکمہ زراعت کے افسر جب ان باتوں کو معلوم کر لیتے ہیں تو اس ملک کے ہوشیار کسانوں کو بھی آگاہ کر دیتے ہیں اور ان کو کھیتی کیاری کے متعلق عمدہ عمدہ اور نفع کی باتیں بتاتے ہیں۔

 پانچواں وائسرائے لارڈ نارتھ بروک تھا اس کے عہد میں بنگال میں ایک بڑے بھاری قحط کے آثار نمایاں ہوئے لیکن اس نے اپنی مدبرانہ تجویزوں سے قحط کو پاس تک آنے نہ دیا، یعنی جن کسانوں کی فصلیں ماری گئی تھیں ان کے لیے کام جاری کر دیا۔ تنخواہیں اور اجرت مقرر کر دی اور خوراک دینی شروع کر دی۔ اس ڈھنگ سے ان کی جانیں بچ گئیں۔ ملکہ وکٹوریہ کے سب سے بڑے فرزند جو اس وقت شہزادہ ویلز تھے اور پھر شہنشاہ ایڈورڈہفتم کے نام سے تاجداروں میں نیک نام ہوئے۔ 1875ءمیں ہند کی سیر کے لیے تشریف لائے۔ ہند کے تمام راجہ اور نواب آپ کی ملاقات سے شرف اندوز ہوئے اور تمام ملک میں خوشی اور خرمی کے شادیانے بجے۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -