میں بلند آوازمیں گیت گاتا اور سچی خوشی کے ساتھ ناچتا تھا، یہ ایک بچے کے لئے مشکل کام تھا

 میں بلند آوازمیں گیت گاتا اور سچی خوشی کے ساتھ ناچتا تھا، یہ ایک بچے کے لئے ...
 میں بلند آوازمیں گیت گاتا اور سچی خوشی کے ساتھ ناچتا تھا، یہ ایک بچے کے لئے مشکل کام تھا

  

مترجم:علی عباس

قسط: 1

خوابوں کے ہم جولی بچے

آپ جانتے ہیں کہ میری شروع سے یہ خواہش رہی ہے کہ میں کہانیاں سنا سکوں، وہ کہانیاں جن کا تعلق میری روح کی گہرائی سے ہو۔ میں آگ کے الاﺅ کے سامنے بیٹھ کر لوگوں کو پرُاسرار دیسوں کی سیر کراسکتا۔ انہیں تصاویر دکھاتا۔۔۔ اُن کی آنکھیں پُرنم کرتا اور قہقہے بکھیرتا، انہیں سادہ الفاظ میں اُلجھا کر جذباتی تجربے سے متعارف کراتا۔ میں اُن کی روحوں میں ہلچل پیدا کرنے کے لئے کہانیاں سناتا اور ان کی شخصیت قطعی طور پر تبدیل کر دیتا۔ میری ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ میں ایسا کر سکوں، جیسا کہ بے مِثل ادیب محسوس کرتے ہیں۔ وہ آگاہ ہوتے ہیں کہ وہ ایسا کر سکتے ہیں۔ میں اکثر محسوس کرتا ہوں کہ میں یہ پلِ صراط عبور کر سکتا ہوں۔ یہ ایک ایسا تجربہ ہے جسے میں اپنی ذات کا حصہ بنانا چاہوں گا۔ مثال کے طور پر گیت نگاری اسی نوعیت کی صلاحیتوں کا اظہار ہے، اس کے ذریعے جذبات میں اُتار چڑھاﺅ پیدا کیا جا سکتا ہے لیکن کہانی ایک خاکہ ہے۔ یہ پارے کے مانند ہے۔ افسانہ نگاری کے فن پر بہت کم کتابیں تحریر کی گئی ہے، سامعین کے اذہان کو کیسے تسخیر کرنا ہے، وہ کیا طریقہ ہے کہ لوگوں کو یکجا کیا جائے اور وہ ایک نکتے پر متفق ہو جائیں، کوئی لوازمات نہیں ہیں، میک اَپ سے عاری چہرہ ہے، کچھ نہیں ہے، یہ محض آپ اور آپ کی آواز کا کمال ہے اور اُنہیں اپنے ساتھ ایک انجانے سفر پر رواں رکھنے اور زندگیوں کو چندساعتوںمیں تبدیل کرنے کی صلاحیت کا حیرت انگیز اظہار ہے۔

اس سے قبل کہ میں اپنی کہانی سنانا شروع کروں، میں یہ وضاحت کرنا چاہتا ہوں جو عموماً میں لوگوں کو اُس وقت کرتا ہوں جب وہ ’جیکسن فائیو‘ کے ساتھ وابستگی کے میرے ابتدائی ماہ و ایام کی بابت سوال پوچھتے ہیں۔ اُس وقت میں بہت کم سِن تھا جب ہم نے موسیقی کی ماورائی دنیا میں قدم رکھا تھا اور میں اس بارے میں بہت زیادہ آگاہ نہیں ہوں۔ بہت سارے لوگوں کی پُرآسائش پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز اُس وقت ہوتا ہے جب وہ یہ بتانے کے اہل ہوتے ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور ایسا کرنے کی غرض و غایت کیا ہے، لیکن ظاہر ہے کہ میرے معاملے میں ایسا نہیں ہے۔ وہ اپنی زندگی کی کامیابیوں اور ناکامیوں کے بارے میں آگہی رکھتے ہیں لیکن میں اُس وقت صرف 5 برس کا تھا۔ جب آپ بچپن میں ہی شوبزنس کی دنیا کے دمکتے ہوئے ستارے بن جائیں، آپ اس قابل نہیں ہوتے کہ اپنے اردگرد جاری اُس لازوال سرگرمی کے بارے میںادراک کر سکیں جس کا آپ خود ایک حصہ ہوتے ہیں۔ جب آپ کمرے سے باہر ہوتے ہیں تو دوسرے لوگ آپ کی زندگی کے بارے میں فیصلے کرتے ہیں۔ مجھے ماضی کے اوراق پلٹتے ہوئے وہ دن یاد آ رہے ہیں جب میں بلند آوازمیں گیت گاتا اور ایک سچی خوشی کے ساتھ ناچتا تھا۔ یہ ایک بچے کے لئے مشکل کام تھا۔ ظاہر ہے بہت ساری تفصیلات ایسی ہیں جو مجھے یاد نہیں ہیں۔ میں اُن خوشگوار لمحات کی یاد تازہ کر سکتا ہوں جب’ جیکسن فائیو‘ نے حقیقی معنوں میں شہرت حاصل کرنا شروع کی تھی، اُس وقت میری عمر محض 8 یا 9برس تھی۔

میں 1958ءکی ایک گرم رات کے آخری پہر گیری، انڈیانا میں پیدا ہوا۔ میں اپنے والدین کی ساتویں اولاد تھا۔ میرا باپ جو جیکسن آرکنساس میں پیدا ہوا تھا اور اس نے 1949ءمیں میری ماں کیتھرین سکروس سے شادی کی تھی، وہ لوگ الاباما سے آئے تھے۔ میری بہن مورین کی پیدائش اسی برس ہوئی تھی اور اُسے بڑی بہن ہونے کی مشکل ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونا تھا۔ بعد ازاں جیکی، ٹیٹو، جرمین، لاتویا اور مارلن کی پیدائش ہوئی۔ رینڈی اور جینے میرے بعد اس دنیا میں وارد ہوئے۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -