وہ رسالے جو پاکستانی فوج میں نیم لفٹین سے لے کر جرنیل تک سب کے بریف کیسوں میں لازم و ملزوم تھے

وہ رسالے جو پاکستانی فوج میں نیم لفٹین سے لے کر جرنیل تک سب کے بریف کیسوں میں ...
وہ رسالے جو پاکستانی فوج میں نیم لفٹین سے لے کر جرنیل تک سب کے بریف کیسوں میں لازم و ملزوم تھے

  

لاہور (کالم: لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان)  عالمی میڈیا کو کنٹرول کرنا کوئی معمولی بات نہیں۔ اس کام کے لئے صرف سرمایہ ہی درکار نہیں، ابلاغی معلومات کے درجنوں بند دروازے بھی کھولنے پڑتے ہیں۔ آج کل تو ”ٹائم“ اور ”نیوز ویک“ ہفتہ واری میگزینوں کا وہ جاہ و جلال باقی نہیں رہا جو الیکٹرانک میڈیا کی یلغار سے پہلے ہوا کرتا تھا۔

فوج میں نیم لفٹین سے لے کر جرنیل تک سب کے بریف کیسوں میں یہ دونوں رسالے گویا لازم و ملزوم تھے۔ ان میگزینوں کا ایک ایک صفحہ مصدقہ اطلاعات کا سرمایہ دار ہوتا تھا۔ ان کی تصاویر بلیک اینڈ وائٹ ہونے کے باوجود دامنِ نگاہ کھینچتی تھیں۔ دنیا کے پانچوں براعظموں کی سیاسی خبریں قاری کی معلومات میں اضافہ کیا کرتی اور اس کے مبلغِ علم کو اَپ ڈیٹ رکھا کرتی تھیں۔

سیاسیات، جرم و سزا، ادب و شعر، فلم اور تھیٹر کے عنوانات صفحات مقررہ پر ہوا کرتے تھے۔ جہاں ضرورت ہوتی رنگین تصاویر سے بھی کام چلایا جاتا۔ خبروں کے ساتھ متعلقہ شہروں، ملکوں اور علاقوں کے نقشے اور خاکے بھی دیئے جاتے تھے۔ یہ دونوں میگزین ایک دوسرے کے حریف بھی تھے اور حلیف بھی۔

ان کے تجزیہ نگار بین الاقوامی سیاسی بصیرت کے حامل متصور ہوتے تھے۔ آرمی، نیوی اور ائر فورس کے ہر درجے کے کمانڈروں اور سٹاف افسروں کی میزوں پر انگریزی اخبارات کے ساتھ ہر سوموار کو ان دونوں میگزینوں کی موجودگی ایک طرح کی پروفیشنل ضرورت بن گئی تھی۔

آفیسرز میسوں میں سینئر آفیسرز اپنے جونیئر افسروں کا امتحان لینے کے لئے سب سے پہلے ان رسالوں کو کھنگال کر میس میں قدم رکھتے تھے۔ چائے کا وقفہ فوج میں ایک پرانی روائت ہے۔ اس وقفے کو پروفیشنل معلومات کی ڈسکشن کے لئے وقف سمجھا جاتا تھا۔ کرنل سلیمی، آرمی سکول آف ایجوکیشن اپرٹوپہ(مری) کے کمانڈانٹ تھے۔

بطور ینگ کیپٹن جب میری تعیناتی اس تدریسی ادارے میں ہوئی تو پہلے دن ہی کرنل سلیمی نے مجھ سے عرب اسرائیل جنگ پر تبصرہ کرنے کی دعوت دے دی۔ وہ تو خیریت گزری میں نے ایک شب پہلے مردان سے مری آتے ہوئے، مری کی مال روڈ سے ٹائم اور نیوز ویک کے تازہ شمارے خرید لئے تھے اور کمرے میں جا کر ان کی ورق گردانی کر لی تھی۔ تمام آفیسرز کے لئے یہ ایک معمول کی بات تھی۔

کرنل صاحب نے مجھے سن کر شاباش دی اور ساتھ ہی پوچھا کہ کیا ان میگزینوں کے تازہ شمارے راولپنڈی سے آتے ہوئے خریدے تھے؟ جب میں نے مال روڈ مری کے اخبار فروش کا ذکر کیا تو کہنے لگے، اب وہاں جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ اتوار کی شام سارے افسروں کے لئے ان میگزینوں کی فراہمی کا ذمہ دار ہے۔

مری میں سکول آف لاجسٹکس، سکول آف انٹیلی جنس، جونیئر ائر فورس اکیڈیمی لوئر ٹوپہ اور ڈویژنل ہیڈکوارٹر (12ڈویژن) بھی تھے اور وہ اخبار فروش ان سب اداروں اور سکولوں کو یہ میگزین مہیا کیا کرتا تھا۔ میں جب تک مری میں رہا، یہ رسالے ملتے رہے اور ٹی بریک میں بحث و مباحثہ کا مواد مہیا کرتے رہے۔ 

ان رسالوں کے علاوہ انگریزی زبان کے اخبار بھی سٹاف روم میں آتے تھے۔ سکول کا جو پیریڈ خالی ہوتا، اس میں تمام انسٹرکشنل سٹاف، سٹاف روم میں جا کر اپنی مطالعاتی تشنگی فرو کرتا اور کورس میں شامل زیرِ تعلیم افسروں کی مطالعاتی پیاس بجھاتا۔

یہ پیاس بجھانی اس لئے بھی ضروری تھی کہ لفٹین سے کپتان اور کپتان سے میجر پروموٹ ہونے کے لئے ہر آفیسر کو جس پروفیشنل امتحان سے گزرنا پڑتا تھا اس کے چار امتحانی پرچے ہوتے تھے جن میں ایک پیپر ”معلومات عامہ“ کا بھی ہوتا تھا۔ دوسرا پیپر ملٹری سائنس، تیسرا ملٹری لاء اور چوتھا ملٹری ہسٹری کا ہوتا تھا۔ جب تک کوئی آفیسر یہ امتحان پاس نہ کر لیتا اسے اگلے رینک میں پروموش نہیں ملتی تھی۔ ہماری افواج میں کم و بیش یہی نظام آج بھی جاری و ساری ہے۔“

لیکن آج تو زمانہ بدل گیا ہے، ٹائم اور نیوز ویک اب قصہء پارینہ بن چکے ہیں۔ اب ہر موضوع انٹرنیٹ پر ہے۔ آپ بڑے آرام سے دن ہو کہ رات اپنے سمارٹ موبائل پر یہ ساری معلومات دیکھ اور پڑھ سکتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ موضوع سے متعلقہ تقریباً تمام سپورٹنگ لٹریچر آپ کی دسترس میں ہوتا ہے۔خاکے، نقشے، ٹیبلز اور تصاویر گویا آپ کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں۔

پڑھنے کی پیاس تو آپ کا یہ سمارٹ موبائل بجھاتا ہی ہے لیکن لکھنے کی پیاس بجھانے کا بندوبست خود آپ کو کرنا پڑتا ہے۔ فوج ہی نہیں دنیا بھر کے دوسرے پیشوں کے مضامین و موضوعات آپ کے سامنے دست بستہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔۔۔ یہ ایک انقلابی تبدیلی ہے!

ہم پرنٹ میڈیا کی بات کررہے تھے۔۔۔ ہمارے ہاں پرنٹ میڈیا کی محدودات کو گویا ”امرِ ربّانی“ سمجھ کر قبول کر لیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ٹی وی چینل زیادہ دیکھے اور سنے جاتے ہیں اور اخبارات و رسائل کی مانگ نسبتاً بہت کم ہو گئی ہے۔ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کی بات دوسری ہے۔

ان کی مقدورات  لاریب گوناگوں اور کثیر ہیں لیکن پرنٹ میڈیا کی یہ کمزوری صرف ان ملکوں میں ہے جن میں ایک تو اس شعبے میں سرمایہ لگانے والوں کی کمی ہے اور دوسرا ابلاغ کے تکنیکی امور کا ادراک کم ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں پرنٹ میڈیا کو آج بھی الیکٹرانک میڈیا پر کئی حوالوں سے فوقیت حاصل ہے۔ مثال کے طور پر اگلے روز میں ”دی نیو یارک ٹائمز“ میں ایک آرٹیکل پڑھ رہا تھا۔ جس کا عنوان تھا، ”چین اور انڈیا نے مل کر رشین  آئل انڈسٹری کو ایک نئی زندگی عطا کر دی ہے“۔

یہ آرٹیکل پڑھنے والا ہے(اس پر تبصرہ کسی اگلے کالم میں کروں گا)۔ ایک بات اور بھی یاد رکھنے کی یہ ہے کہ مغربی اخبارات و رسائل میں ”تصویر و تحریر“ کا تناسب ایک اور تین کا ہے۔ بعض مضامین میں تو یہ ترتیب الٹ بھی جاتی ہے یعنی ان کے کالموں / مضمونوں کی تصاویر، تحریری مواد سے تین گنا زیادہ اور بڑی ہوتی ہیں۔

ہمارے ہاں نجانے کب کسی ستم ظریف اخبار نویس نے یہ فیصلہ کر دیا تھا کہ کالموں میں نہ تصویر چھپ سکتی ہے اور نہ نقشہ لگایا جا سکتا ہے جبکہ غیر ملکی پرنٹ میڈیا میں یہ کلچر ایک معمول ہے۔ وہاں نقشے اور خاکے بھی دیئے جاتے ہیں اور تصاویر کی بھرمار سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ ہمارے اخباروں کے اول و آخر صفحات رنگین ہوتے ہیں جن پر ہم سیاسی شخصیات کی تصاویر کی بھرمار کر دیتے ہیں اور اندر کے پورے دو صفحے ”بقیہ جات“ کی نذر کر دیئے جاتے ہیں۔

آخری سے پہلا صفحہ بھی اس لئے رنگین چھاپا جاتا ہے کہ اس پر کوئی ”خاص ایڈیشن“ (مثلاً جرم و سزا،مذہب، بچے، خواتین، شوبز وغیرہ) دے کر اس میں رنگین تصاویر دے دی جاتی ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی کیا جاتا ہے کہ ڈیک رنگین کر دیئے جاتے ہیں۔ اس طرح یہ ترتیب و اہتمام دیدہ زیب ہو جاتا ہے۔

سب سے بڑا ستم ادارتی صفحے پر یہ ڈھایا جاتا ہے کہ ایک صفحے پر سات آٹھ کالم چھاپ دیئے جاتے ہیں۔کالم نگاروں کو (شاید) ہدایت کر دی جاتی ہے کہ کالم میں کوئی نقشہ یا تصویر نہیں چھپ سکے گی۔ اگر چھاپنی پڑ جائے تو اتنی ہی سپیس، تحریر کے حجم سے کاٹ لی جائے گی۔ کالم کا حجم زیادہ سے زیادہ 14سے15 سو الفاظ تک محدود کر دیا گیا ہے جبکہ اخبار کا اداریہ بھی اسی ایک صفحے پر ہوتا ہے اور شذرہ بھی اداریہ کے نیچے اسی صفحے کے نصیب میں آتا ہے۔

اخبار کی تحریروں کا فانٹ سائز اتنا کم کر دیاگیا ہے کہ نوجوان قاری بھی چند برس کے اخباری مطالعے کے بعد نظر کی عینک کا محتاج ہو جاتا ہے اور مزید یہ کہ اردو اخبار کے صفحے کا سائز بھی کم کر دیا گیا ہے۔ ہمارے مقابلے میں انگریزی زبان میں جو بین الاقوامی ایڈیشن چھپتے ہیں۔

ان کے کالموں میں تصاویر بھی ہوتی ہیں اور نقشہ جات بھی۔ میں اگرچہ سمجھتا ہوں کہ میرا کوئی حق نہیں کہ میں اخبار کے مالکان یا اس کی انتظامیہ کو کوئی مشورہ دوں کہ فلاں روایت کو بدل دیں اور فلاں میں ترمیم کر دیں لیکن میری گزارش ہے کہ اگر ادارتی صفحہ پر 7،8 کالموں کی بجائے 5کالم کر دیئے جائیں اور ان کا حجم اور فونٹ سائز بڑھا دیا جائے تو کئی قاری قبل از وقت نصف نابینا ہونے سے بچ جائیں گے۔۔۔

ان کالموں کے ساتھ تصاویر اور نقشے بھی شائع کر دیں تو اس سے بہتوں کا بھلا ہوگا۔ یہ ذمہ داری کالم نگار کی نہیں ادارتی سٹاف کی ہونی چاہیے۔ سرخیوں، شہ سرخیوں اور ڈیک کی عبارت آرائی کے ساتھ جو خالی جگہ مختلف ”بدوبدی“ زیر، زبر، پیش لکھ کر لبریز کر دی جاتی ہے، اس جگہ کو اگر خالی چھوڑ دیا جائے تو ”گِھچ مِچ“ کلچر سے جان چھوٹ جائی گی۔

ہر سیاسی شخصیت کے بیان کے ساتھ اس کی رنگین تصویر بھی آخر کب تک صفحہء اول کی زینت بنائی جائے گی؟ اول و آخر کے صفحات پر کسی خبر کی تین کالمی سرخی اور ایک ڈیک کے بعد اگر قاری کو کہا جائے کہ باقی خبر 4یا 5صفحہ پر ملاحظہ فرمائیں تو یہ گویا غالب کے مصرعے:

دیوار بارِ منتِ مزدور سے ہے خم  

والا معاملہ ہو جائے گا۔ اس روایت کو ایک نئی زندگی دے کر تبدیل کرنا  ہوا کا وہ تازہ جھونکا ثابت ہوسکتا ہے جو جدت اور تازگی کا نقیب بن کر برسوں سے چلی آتی گھسی پٹی روایت کو ختم کر سکتا ہے۔۔۔ آزما کر تو دیکھیں!!!

۔

نوٹ: ادارے کا لکھاری کے نقطہ نظر سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -