" عوام کا رگڑا نکالنے کے لئے حکومت کے معاشی مینجروں نے آسان حل ڈھونڈ لیا "

" عوام کا رگڑا نکالنے کے لئے حکومت کے معاشی مینجروں نے آسان حل ڈھونڈ لیا "
سورس: Twitter/@pmln_org

  

لاہور (کالم: نسیم شاہد)  کالم نگار اظہر سلیم مجوکہ کے پاس سوزوکی مہران گاڑی ہے۔ کل پی ٹی وی ملتان ایک پروگرام کے سلسلے میں جانے کے لئے وہ مجھے ساتھ لے گئے۔ راستے میں کہنے لگے پٹرول کچھ کم لگ رہا ہے ڈلوا لیتے ہیں کہیں اس گرمی میں گاڑی رک ہی نہ جائے۔ پٹرول پمپ پر گاڑی روکی، تو پٹرول ڈالنے والے لڑکے نے پوچھا کتنے کا پٹرول ڈالوں، اظہر سلیم مجوکہ نے بڑے فخر سے کہا، پانچ سو روپے کا ڈال دو۔

یہ سن کر اس نوجوان لڑکے کے چہرے پر حیرت کے آثار نظر آئے، شاید وہ سوچ رہا ہوگا، شکل سے تو یہ دونوں پڑھے لکھے لگتے ہیں، مگر کار میں پانچ سو کا پٹرول ایسے ڈلوا رہے ہیں جیسے ٹینکی فل کروا رہے ہوں۔ خیر اس نے دو لٹر سے کچھ زیادہ پٹرول ڈالا اور ہماری حالت پر رحم کھانے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے ہمیں رخصت کر دیا۔ غالباً سوچ رہا ہوگا، یہ راستے میں گاڑی بند کرا کے ہوش میں آئیں گے کہ آج کل پانچ سو کا پٹرول صرف سونگھنے کے لئے استعمال ہو سکتا ہے، گاڑی چلانے کے لئے نہیں اب سنا ہے یکم جولائی سے پٹرول پھر مہنگا ہونے والا ہے۔

پٹرول پر سیلز ٹیکس نافذ ہو رہا ہے، لیوی پہلے ہی موجود ہے، یوں عوام کا رگڑا نکالنے کے لئے حکومت کے معاشی مینجروں نے ایک آسان حل ڈھونڈا ہوا ہے۔ گھوم پھر کر ایک ہی کام کرتے ہیں کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھا دو۔ خود تو پٹرول پلے سے خریدنا نہیں عوام خریدیں گے نہیں خریدتے تو بھاڑ میں جائیں پیدل سڑکیں ناپیں۔

کل ایک صاحب نے بتایا کہ اس نے شہباز شریف کے اس قافلے کی گاڑیاں گنی ہیں، جو آصف علی زرداری کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کے لئے ان کے گھر گیا۔ اٹھائیس بڑی گاڑیاں تھیں جو پٹرول بھی زیادہ کھاتی ہیں بلکہ پانی کی طرح پیتی ہیں، یہ تو مال مفت دلِ بے رحم والی صورت ہے۔ یہی شہباز شریف عوام کو تلقین کرتے ہیں کہ وہ ایک روٹی مل بانٹ کے کھائیں، انہی کے وزیر احسن اقبال کہتے ہیں عوام چائے کم پیئیں۔

مگر خود کسی چیز کو چھوڑنے پر تیار نہیں۔ شیدے ریڑھی والے نے جب سے سنا ہے ججوں اور جرنیلوں کو لاکھوں روپے تنخواہ کے ساتھ پانچ سو لٹر پٹرول بھی فری ملتا ہے اسے بے ہوشی کے دورے پڑ رہے ہیں وہ مہینے میں دو لٹر پٹرول نہیں خرید سکتا، یہاں پانچ سو لٹر دیا جاتا ہے وہ بھی عوام کے ٹیکسوں سے۔

میں نے کہا شیدے تم تو بڑے لوگوں کی بات کر رہے ہو، یہاں ضلع کا ڈپٹی کمشنر سینکڑوں لٹر فری پٹرول استعمال کرتا ہے، اسے کوئی روکنے والا نہیں، چھوٹے موٹے سرکاری کارندے بھی مفت پٹرول کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہیں، کسی حکومت کو یہ خیال نہیں آتا یا اسے یہ توفیق نہیں ہوتی کہ فری پٹرول بند کر کے پٹرول الاؤنس ہی لگا دے، تاکہ جو کرنا چاہتا ہے اسی میں گزارا کرے۔

جب پٹرول سو روپے لٹر تھا تو اس وقت بھی پانچ سو لٹر ملتا تھا، اب تقریباً اڑھائی سو روپے لٹر ہے تو بہت بھی پانچ سو لٹر مل رہا ہے، جمع تقسیم کریں تو لاکھوں کا فرق پڑ جاتا ہے مگر خزانے کو ان لوگوں کو نہیں جن کامفتا لگا ہوا ہے۔

ہر طرف ہا ہا کار مچی ہوئی ہے مگر حکمرانوں کی طرف سے صرف ایک ہی بیان سننے کو ملتا ہے مشکل فیصلے کرنے ہوں گے۔ یہ کیسے مشکل فیصلے ہیں کہ جن کا اشرافیہ پر رتی بھر اثر نہیں پڑتا۔ جو کچھ ہے عوام کو برداشت کرنا ہے، جن کی زندگی پہلے ہی مشکلات سے اجیرن بنا رکھی ہے۔ کل کینٹ کے ایک میڈیکل ہال پر جو محفوظ پان والے چوک پر موجود ہے آصف گلزار سے ملاقات ہوئی، انہوں نے گھر سے آنے کے لئے ایک سائیکل خرید لی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اکثر ادویات نایاب ہو گئی ہیں خاص طور پر جان بچانے والی ادویات مل نہیں رہیں، کیونکہ ٹیکسوں میں اضافے اور ڈالر کی قیمت بڑھنے سے ان کا خام مال مہنگا ہو گیا ہے، جس کے باعث کمپنیوں نے ان کی پیداوار بند کر دی ہے۔ میں نے کہا بھائی پنجاب حکومت نے تو یکم جولائی سے سرکاری ہسپتالوں میں ادویات مفت دینے کا اعلان کیا ہے کہنے لگے میں ان ادویات کی بات نہیں کر رہا، نزلے زکام بخار کی دوائیاں مفت مل جائیں گی مگر پیچیدہ بیماریوں کی ادویات تو وہاں ویسے ہی نہیں دی جاتیں، ہمیشہ بازار سے خریدنی پڑتی ہیں۔

جو اب ہر دن کے ساتھ مہنگی ہو رہی ہیں۔ اُدھر قاسم بیلہ میں نان والے کے پاس جانا ہوا تو اس نے پندرہ روپے والے نان کی قیمت بیس روپے کر رکھی تھی میں نے کہا غضب خدا کا دو دن میں اتنا اضافہ تو کہنے لگا، حکومت نے پندرہ دن میں پٹرول کی قیمت 90 روپے بڑھا دی، میں نے تو صرف پانچ روپے اضافہ کیا ہے، کیا کریں گزارا ہی نہیں ہوتا۔ میں نے اپنے موبائل سے نان کا سرکاری نرخ اسے دکھایا جو پندرہ روپے تھا۔ اس نے اپنے چھابے سے ایک پتلا سا نان نکال اور کہا یہ لے جائیں پندرہ روپے کا اب خدا لگتی کہئے ایسی چالبازی کا کوئی علاج ہے۔

حمزہ شہباز آئے روز یہ اجلاس کر کے حکم جاری کر دیتے ہیں ڈپٹی کمشنرز نا جائز منافع خوری کو روکیں، ڈپٹی کمشنر ایک سرکاری نرخنامہ بنا کے وزیر اعلیٰ کو بھی بھیج دیتے ہیں اور دکانداروں کو بھی اس کے بعد لسی پی کر سو جاتے ہیں۔ لسی سے یاد آیا، ہائر ایجوکیشن کمیشن نے وفاقی وزیر احسن اقبال کی اس بات کا کچھ زیادہ ہی اثر لیا ہے کہ چائے کم پی جائے اس نے یونیورسٹیوں میں امپورٹڈ چاہئے کی بجائے دیسی لسی فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی ہے، جس کے بعد یونیورسٹیاں دھڑا دھڑ لسی کے نوٹیفیکیشن جاری کر رہی ہیں۔

چائے بیس روپے کا کپ مل جاتی تھی، لسی کا گلاس چالیس روپے میں مل رہا ہے۔ پھر سستا ہے لسی پی کر نیند بھی بہت آتی ہے، تو اس طریقے سے اعلیٰ تعلیم کے طالب علموں اور اساتذہ کو سلانے کا خوب اہتمام کیا گیا ہے۔

کہتے ہیں جب حکمرانوں کو کچھ سمجھ نہ آ رہا ہو تو وہ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے ہیں یہی کام آج کل ہو رہا ہے۔ بس جب بھی حاکمان وقت ہڑبڑا کر اٹھتے ہیں انہیں ہر مسئلے کا ایک ہی حل نظر آتا ہے کہ پٹرول کی قیمت بڑھا دو، سو یہ فارمولا آج کل سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ اس سارے کھیل کا بھیانک پہلو یہ ہے کہ عوام کی زندگی کا ستیا ناس کرنے والے فیصلوں کے باوجود آئی ایم ایف ہے کہ مان ہی نہیں رہا۔ حکمرانوں کا اضطراب ہے کہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

اس اضطراب میں وہ نجانے کیا کر بیٹھیں۔ ایسے حالات تو اس ملک نے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ اشرافیہ پہلے بھی عوام سے قربانی مانگتی تھی لیکن اب تو عوام کو مارنے پر تلی ہوئی ہے اپنی کوئی سرکاری سہولت چھوڑنے کو تیار نہیں مگر عوام کے منہ سے آخری نوالہ تک چھین لینا چاہتی ہے، کیا یہ نظام اسی طرح تا دیر چل سکتا ہے؟ یہ سوال بہت اہم ہے اس پر توجہ نہ دی گئی تو پھر اس کا جواب خلق خدا کی طرف سے کچھ بھی آ سکتا ہے۔

۔

نوٹ: ادارے کا لکھاری کے نقطہ نظر سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -