قرض کی دو قسطیں ایک ساتھ دینے پر آئی ایم ایف کی کڑی شرائط سامنے آگئیں

قرض کی دو قسطیں ایک ساتھ دینے پر آئی ایم ایف کی کڑی شرائط سامنے آگئیں
قرض کی دو قسطیں ایک ساتھ دینے پر آئی ایم ایف کی کڑی شرائط سامنے آگئیں

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کو انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف)سے پیکیج کی دو قسطیں ایک ساتھ حاصل کرنے کے لیے جولائی کے آخر تک دو مزید پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اعلیٰ حکومتی ذرائع نے انگریزی اخبار ڈیلی ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ 1ارب 85کروڑ ڈالر کی 2قسطیں ایک ساتھ حاصل کرنے کے لیے پاکستان کو وہ بجٹ منظور کرنا ہو گا جس پر آئی ایم ایف کے ساتھ اتفاق ہوا ہے جبکہ دوسرا کام وفاق کو یہ کرنا ہے کہ صوبائی حکومتوں سے 750ارب روپے کا کیش سرپلس حاصل کرنا ہو گا۔ 

ذرائع کے مطابق جو بجٹ 24جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا ہے اس پر آئی ایم ایف متفق ہے۔ اس بجٹ کے تحت صوبائی حکومتوں کے دستخطوں کے ساتھ ایک مفاہمت کی یادداشت بھی پیش کرنی لازمی ہے جس کے مطابق صوبائی حکومتوں مشترکہ طور پر وفاق کو ساڑھے 7ارب روپے کا کیش سرپلس فراہم کریں گی۔وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ پاکستان کو ساتویں اور آٹھویں مشترکہ جائزوں کے لیے آئی ایم ایف سے میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فسکل پالیسیز (ایم ای ایف پی)مل گیا ہے۔ 

رپورٹ کے مطابق ایم ای ایف پی بجٹ اقدامات پر مبنی ہے جس کا اعلان مفتاح اسماعیل نے قومی اسمبلی میں نظرثانی شدہ بجٹ پر اپنی اختتامی تقریر میں کیا تھا جس میں 17کھرب 16ارب روپے کی (جی ڈی پی کا 2.2فیصد) مالیاتی ایڈجسٹمنٹ کی گئی تھی۔ اس میں سے 10فیصد رقم ٹیکسز کے ذریعے اکٹھی کی جائے گی۔ ان ٹیکسز میں صنعتوں پر لگایا گیا13فیصدسپرٹیکس اور 50ہزار روپے ماہانہ سے زائد آمدنی پر عائد کیا گیا ذاتی انکم ٹیکس شامل ہے جس کے ذریعے مذکورہ رقم اکٹھی کی جائے گی۔ 

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -