عید پر ای۔چالانوں کا تحفہ
گاڑی چلاتے ہوئے مجھے کم و بیش پچیس سال سے زائد کا عرصہ ہو چکا اوراس دوران ملک کے طول و عرض میں سفر کرتے ہوئے بھی زمانہ گزر گیا۔میر ی مصروفیات میں سفر بنیادی اہمیت کا حامل ہے اور یوں ملک سے باہر سفر کرتے ہوئے بھی انٹر نیشنل لائسنس ساتھ رکھتا ہوں اور کئی ممالک میں ڈرائیونگ کرنے میں کبھی کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ہمیں بچپن سے قانون کے احترام اور اس کی پاسداری سکھائی گئی اور اس وقت تک ڈرائیو نہیں کرنے دیا گیا جب تک لائسنس حاصل نہیں کر لیا گیا۔ مجھے اس بات پر ہمیشہ فخر رہا کہ دو دہائیوں سے زائد عرصہ شہر کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں دن رات ڈرائیو کرتے ہوئے کبھی کوئی ایسی وائلیشن نہیں کی کہ چالان کی نوبت آئے۔ تعلیم اور تعلم سے وابستہ ہوئے بھی کم وبیش پندرہ سال ہو چکے اور اپنے تمام طلبہ کے اندر ٹریفک قوانین کا شعور اجاگر کرنا بھی اپنی ذمہ داری لگتی ہے۔عید سے ایک دن پہلے موبائل پر میسج موصول ہوا جس میں ایک لنک بھیجا گیا کہ آپ کے ٹریفک چالان ہو چکے ہیں جن کی تفصیل جاننے کے لیے اسے اوپن کریں۔اسے کھولا گیا تو تین صفحات پر مشتمل 23 چالانوں کی ایک فہرست سامنے دکھائی گئی جس کا آغاز 2019ء سے کیا گیا تھا۔ تجسس مزید بڑھا تو کمپیوٹر پر اس کی تفصیلات جاننے کے لئے ویب سائٹ کھولی اور ایک ایک چالان کے مندرجات کو چیک کرنا بھی خاصہ دلچسپ عمل تھا۔ اس میں بیشتر چالان رات کے پچھلے پہر کے تھے جو اکثر لاہور سے باہر سفر کرنے کے بعد واپسی پر کئے گئے۔ ان میں سب کے سب 60 کی سپیڈ سے تجاوز اور اشارے پر نہ رکنے کی وائلیشن تھی۔عید پر ملنے والے ان 23 تحفوں سے میری معلومات میں بھی اضافہ ہوا کہ رات کو 2 بجے یا 3 بجے بھی خالی سڑکوں پر آپ کو 60 کی سپیڈ برقرار رکھنا ہے اور آدھی رات کو بھی سگنل بریک کرنے کی اجاز ت ہر گز نہیں چاہے آپ کو اس وقت سکیورٹی کا کیسا بھی خطرہ لاحق ہو۔ یہ کیسا زبردست نظام ہے جو آپ کو سگنل بریک کرنے پر تو خلاف ورزی پر پکڑ لیتا ہے لیکن آپ کے ساتھ ہونے والے کسی حادثے کے مجرم کو نہیں پکڑ سکتا۔ ای چالان ترقی یافتہ ممالک میں کامیابی سے کام کرنے والا خود کار سسٹم ہے جہاں لوگ اور معاشرہ باشعور اور قوانین سے آگاہ ہیں۔ وہاں اس طرح کی صورت حال کم ہی پیش آتی ہے کہ اکثر جگہوں پر تین سے زائد چالان ہو جانے پر لائسنس کی منسوخی کا عمل بھی لاگو ہو سکتا ہے اور پھر دوبارہ اس کا حصول بہت دشوار ہے۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں چالان ریونیو اکٹھا کرنے کا ایک ذریعہ ہے جس میں ہر وارڈن کو باقاعدہ ٹارگٹ دے کر صبح روانہ کیا جاتا کہ اس نے اتنے چالان ہر صورت کرنے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے چالان کرنے کے لئے فورس ہی الگ ہے جن کا کام رکشوں کے چالان پر چالان کرنا ہوتا ہے۔ موٹر سائیکل رکشہ ہمارے قوانین میں ایک غیر قانونی سواری ہے جس کو روڈ پر لانے کی ہی اجازت نہیں لیکن ہر طرف ان کی بھرمار ہے جن کا روزانہ کی بنیاد پر چالان کیا جاتا ہے اور ایک چالان کروانے کے بعد شائد دو دن تک اس کی مدت ہوتی ہے اور تب تک آپ ہر طرح قانون کی گرفت سے آزاد ہیں۔نمبر پلیٹ اور رجسٹریشن کے بغیر یہ سڑکوں پر دندناتے ہوئے جس گاڑی کو مرضی چھیلتے ہوئے گزر جائیں انھیں پکڑا نہیں جا سکتا کہ ان کی کوئی رجسٹریشن ہی نہیں ہوتی۔ حکومت کی طرف سے پبلک ٹرانسپورٹ کے لئے مکمل انتظامات نہ ہونے کے سبب عوام ان خطرناک سواریوں پر سفر کرنے پر مجبور ہیں اور یہ روز چالان کروانے کے لئے گھر سے ذہنی طور پر تیار ہو کر نکلتے ہیں۔ اسی طرح لوڈر رکشوں کی بات کریں تو ان کو بھی غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے لیکن سامان کی آمد و رفت میں زیادہ تر یہ ہی ہر طرف سڑکوں پر دکھائی دیتے ہیں۔ یہ بھی نمبر پلیٹ کے بغیر ہی سڑکوں پر آتے جاتے ہیں اور گاہک سے کرائے کے ساتھ ساتھ چالان کے پیسے بھی طے کر لیتے ہیں کہ انہیں بھی چالان کے اسی پراسس سے گزرنا پڑتا ہے۔ مختلف سڑکوں پر لوڈر گاڑیوں کی لائن لگی دیکھنا بھی معمول کی بات ہے جس میں ہر لوڈر کو دور سے ہی اشارہ کر دیا جاتا ہے کہ وہ سائیڈ پر آ جائے کہ اس کا چالان بھی وارڈنز کی روزمرہ کے فرائض میں شامل ہے۔بے ترتیبیوں اور کج فہمیوں کی ایک طویل فہرست ہے جس سے بحیثیت قوم ہم گزر رہے ہیں۔ قوانین کا احترام معاشروں کو توانا اور قابل رشک بناتا ہے۔ اس طرح کی ریونیو جنریشن لوگوں کو لاقانونیت کا عادی بنا رہی جس کی مختلف شکلیں ہم روز سڑکوں پر دیکھتے ہیں۔اگر آپ کسی ایسے رکشے سے بچتے یا اسے بچاتے لائن پر آ گئے تو آپ کی ڈرائیونگ تو۔۔۔ گئی کہ آپ سیف سٹی کیمرہ کی زد میں آ گئے۔یہ بات اب کسے معلوم نہیں رہی کہ قوانین نافذ کرنے والوں کی اکثریت نے اپنی گاڑیوں کی نمبر پلیٹیں تبدیل کروا رکھی ہیں یا ان میں سے کسی ایک نمبر کو چھپا دیا جاتا ہے اور اسی عمل کو عام لوگ بھی اختیار کرتے چلے جا رہے ہیں۔یہاں قانون کا احترام کرنے والے ہی سب سے زیادہ قانو ن کی زد میں آنے لگے ہیں جبکہ دوسروں نے اس کے لئے بہت سے طریقے ایجاد کر لئے ہیں جن کو اختیار کرنے کے لئے بھی ضمیر کا مردہ ہونا ضروری ہے۔ دوسری طرف وی آئی پی موومنٹ کے نتیجے میں ہمہ وقت بند ہونے والی ٹریفک سے عام لوگ کس اذیت سے گزرتے ہیں اس احساس کی ریکارڈنگ کے لئے بھی سڑکوں پر کوئی کیمرے لگنا چاہئیں،وی آئی پی موومنٹ اور ان کے ساتھ چلنے والی سکیورٹی کی گاڑیوں کی رفتار کو بھی اس دائرے میں شامل کیا جائے اور شہر بھر کے سرکاری افسروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ملازمین کی نمبر پلیٹیں درست کروا دی جائیں تو سیف سٹی کی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ ہوسکتا ہے۔
