پاکستان کے اندرونی معاملات میں امریکی مداخلت کا تاریخی جائزہ
اگرچہ پسماندہ ممالک کے اندرونی معاملات میں غیر ملکی مداخلت کا رجحان ایک پیچیدہ مسئلہ ہے مگردنیا کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہمیشہ سے طاقت ور ممالک نے اپنی معاشی اور سیاسی طاقت کو اپنے مفادات کے حصول کے لیے استعمال کیا اور پسماندہ ممالک کا استحصال کیا ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں پر قابض ہونے کی وجہ سے سپر پاورز اپنے زیر تسلط غیر ترقی یافتہ ممالک میں مرضی کی معاشی پالیسیوں کا نفاذ کرواتی ہیں اور ہمیشہ کمزور اور کٹھ پتلی حکومتوں کی حمایت کرتی ہیں۔ طاقت ور ممالک کی جانب سے دی جانے والی مالی امداد یا انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد کا براہ راست تعلق مخصوص سٹریٹجک مقاصد کے حصول سے منسلک ہوتاہے اوریوں عملی طور پر پسماندہ ملک کی خود مختاری ختم ہو جاتی ہے۔ اب ہم تاریخی حوالوں سے دنیا کے غیر ترقی یافتہ ممالک میں بیرونی مداخلت کے عوامل کو جاننے کی کوشش کریں گے جیسے معدنی وسائل سے مالا مال کانگو میں قدرتی وسائل، منڈیوں اور تجارتی راستوں تک رسائی حاصل کرنا،یورپی طاقتوں اور امریکہ کی کانگو میں مداخلت کا سبب بنا۔ بعض اوقات کمزور حکمرانی،مقامی تنازعات یا سیاسی عدم استحکام بھی بیرونی مداخلت کا دروازہ کھولتا ہے جیسے لیبیا میں قذافی کے بعدکے انتشار اور افراتفری نے غیر ملکی مداخلت کو دعوت دی۔اسی طرح کمزور ممالک کی جغرافیائی اہمیت یا بڑی طاقتوں کے ساتھ سرحدوں کا ملنا بھی انہیں غیر محفوظ بنا دیتا ہے جیسا افغانستان کی جغرافیائی پوزیشن نے اسے پہلے سوویت یونین کی شکار گاہ بنایا اور بعدازاں امریکی مداخلت کا ہدف بنایا۔عموماً طاقت ور ممالک کو کسی بھی ملک میں مداخلت کے لیے ٹھوس بنیادیں درکار نہیں ہوتیں بلکہ وہ کوئی بھی اعتراض کر کے جارحیت کا ارتکاب کر سکتے ہیں جیسے انسانی مداخلت کی آڑ میں 1999ء میں کوسوو میں نیٹو کی مداخلت ہوئی۔
امریکہ کی پاکستان کے ملکی مسائل میں براہ راست شمولیت اور مداخلت کی ایک طویل تاریخ ہے جس کی چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔ 1958ء میں ا مریکہ نے جنرل ایوب خان کی فوجی بغاوت کی حمایت کی جس کی وجہ سے پاکستان کی پہلی جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ 1970ء کی دہائی میں امریکہ نے بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ کے دوران پاکستان کی حکومت کوفوجی امداد اور سفارتی مدد فراہم کی۔دیگر متفرق عوامل میں سے یہ عمل بھی مشرقی پاکستان کے ٹوٹنے اور بنگلہ دیش کی تشکیل میں بلواسطہ برابر کا حصہ دار بنا۔ 1980ء کی دہائی میں جب روس نے افغانستان پر حملہ کیا تو امریکہ نے پاکستان کو پراکسی کے طور پر استعمال کرتے ہوئے، افغانستان میں مجاہدین گروپوں کی مالی مدد کی اور انہیں جنگی تربیت دینے کے ساتھ ساتھ مسلح بھی کیا۔2011ء میں پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں امریکی خفیہ اداروں کی جانب سے ایک خفیہ آپریشن کیا گیا جس کی پاکستانی حکومت سے پیشگی کوئی اجازت نہیں لی گئی تھی اس آپریشن کے نتیجے میں اسامہ بن لادن شہید ہوئے۔ 2011ء میں امریکی دباؤ پر دو پاکستانیوں کے قتل میں ملوث امریکی ایجنٹ ریمنڈ ڈیوس کو پاکستانی جیل سے بحفاظت امریکہ منتقل کر دیا گیا۔اس عملی مداخلت کے علاوہ ماضی میں امریکی کانگریس میں بھی پاکستان کے اندرونی معاملات کو زیر بحث لایا جاتا رہا ہے اور مختلف مواقع پر پاکستان کے داخلی معاملات پر ارکان کانگریس کی جانب سے پیش کردہ قرارداوں کو کانگریس میں منظور کیا گیا۔ 2009 ء میں امریکی ایوان نمائندگان نے ایک قرارداد منظور کی تھی،جس میں پاکستان سے مطالبہ کیا گیا تھاکہ وہ اپنی سرحدوں میں سرگرم طالبان اور دیگر دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کرے۔ 2017 ء میں امریکی ایوان نمائندگان نے پاکستان میں مذہبی اقلیتوں پر ظلم و ستم کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی۔ قرارداد میں پاکستان کے توہین رسالت کے قوانین کو منسوخ کرنے اور ان قوانین کے تحت جیلوں میں بند قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔2019ء میں امریکی ایوان نمائندگان نے پاکستان میں پشتون تحفظ موومنٹ (PTM) کو دبانے کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی گئی تھی۔ قرارداد میں پی ٹی ایم رہنماؤں کی رہائی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔حالیہ دنوں امریکی کانگریس میں ایک قرارداد منظور کی گئی ہے، جس میں پاکستان میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں اپوزیشن کی جانب سے مبینہ بے ضابطگیوں کے دعووں کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔پاکستانی وزارت خارجہ نے اس قرارداد پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے انتخابات کی شفافیت پر اُٹھنے والے اعتراضات کو رد کیا ہے اور قرارداد پیش کرنے والے امریکی کانگریس مین کو انتخابی عمل سے لاعلم کہا گیا ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے ایساجواب خوش آئند ہے اور اس بات کا غمازی ہے کہ ہم ایک آزاد ملک کے شہری ہیں جہاں ملکی معاملات کے موثر حل کے لیے حکومتی ادارے موجود ہیں۔یاد رکھیں!کوئی بھی آزاد ملک کسی دوسرے ملک کو اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتا۔
اب ہم اس بات پر غور کریں گے کہ وہ کون سے عوامل ہیں جن پر عمل پیراء ہو کرہمارا ملک بیرونی مداخلت سے بچ سکتا ہے۔پہلا کام ملکی اداروں کو مضبوط بنانا ہے۔ہمارے حکمرانوں کو مضبوط گورننس، جمہوری عمل اور قانون کی حکمرانی پر کام کرنا ہوگا مثال کے طور پر سنگاپور کے مضبوط ادارے بیرونی مداخلت کو روکنے کا سبب بنتے ہیں۔دوسرا کام اقتصادی خود کفالت پر کام کرنا اور مقامی صنعتوں کو فروغ دینے کا ہے جیسے برازیل کی اقتصادی ترقی نے بیرونی اثرورسوخ کو کم کیا۔تیسرا کام عمدہ سفارت کاری کرنااورمعاشی و اقتصادی طاقتوں کے ساتھ اچھے تعلقات بناناہے۔ ہندوستان کے دنیا کے ممالک کے ساتھ اچھے سفارتی تعلقات اور سٹرٹیجک شراکت داری اس کی آزادی کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔چوتھا کام فوجی، اقتصادی، اور سیاسی صلاحیتوں کو فروغ دینے پر توجہ دینا ہے اس کی بہترین مثال جنوبی کوریا ہے جس کی تیز رفتار ترقی نے غیر ملکی طاقتوں پر اس کا انحصار کم کر دیا۔اگر ہم ایک آزاد ملک کی حیثیت سے اپنے فیصلے خود کرنا چاہتے ہیں اور غیروں کی غلامی سے آزاد ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے مستقبل کے بارے میں بہتر فیصلے کرنے ہوں گے وگرنہ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کے قومی مسائل میں امریکہ کی نمایاں مداخلت پہلے بھی جاری تھی اور مستقبل میں بھی جاری رہے گی۔یاد رکھیں ۱اس طرح کی بیرونی مداخلت نے ماضی میں بھی ملک کے سیاسی، سماجی اور فوجی منظرنامے پر اہم اور دیرپا اثرات مرتب کیے ہیں اور اگر ہم نے مستقبل میں بحیثیت قوم خود انحصاری پر عمل نہ کیا تو نتائج ماضی سے مختلف نہیں ہوں گے۔
