جدید نظم کا مرکز لاہور اَور ستیہ پال آنند

جدید نظم کا مرکز لاہور اَور ستیہ پال آنند
جدید نظم کا مرکز لاہور اَور ستیہ پال آنند
کیپشن:   pro muzaffar bukhari سورس:   

  

سو سوا سو سال سے زیادہ کا عرصہ بیت چلا ہے کہ جدید اُردو نظم کا آغاز لاہور جیسے علمی و ادبی مرکز سے ہوا تھا.... انجمن پنجاب کے مشاعروں سے مولانا حالی اَور محمد حسین آزاد نے یہاں جدید نظم کی بنیاد رکھی، پھر اقبال ایک عظیم شاعر کی حیثیت سے سامنے آئے، جنہوں نے جدید نظم میں نئی رُوح پھونک دی۔ سر شیخ عبدالقادر کا رسالہ ”مخزن “ 1901ءمیں جاری ہوا تھا جس میں علامہ اقبال اَور کئی دُوسرے شعرا کی نظمیں چھپتی تھیں۔ پھر ِمیرا جی، ن م راشد، فیض احمد فیض،مجید امجد اَور وزیر آغا جیسے قد آور شعرائے کرام جدید نظم کو لے کر آگے بڑھے، انہوںنے اِس صنف ِ شاعری کو کمال درجے تک پہنچا دیا۔ اِس کے ساتھ ساتھ حلقہ ¿ ارباب ِ ذوق نے بھی جدید نظم کی آبیاری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کہ یہ علمی و اَدبی اِدارہ جدید نظم اَور جدیدیت کا حامی تھا؛ اِس کے توسط سے بھی یہ صنف اِرتقائی مناز ِل طے کرتی چلی گئی۔ مولانا صلاح الدین احمد کے مجلے ”اَدبی دُنیا“ کا شمار اِس تحریک کے بانیوں میں ہوتا ہے، جنہوں نے جدید نظم کے فروغ کے لئے بہت کام کیا۔ اُن کے شریک مدیر وزیر آغا نے اِس پرچے میں جدید اُردو نظم پر بے شمار مضامین اَور مقالے شائع کئے ا ور تفہیم نظم کے لئے اَن گنت نظموں کے تجزیاتی مطالعے پیش کئے، جس سے جدید نظم کو مزید تقویت ملی۔ اَدبی دُنیا کے بعد وزیر آغا نے اپنے مجلے ”اوراق“ کے ذریعے جدید اُردو نظم کو پروان چڑھایا۔ لاہور کی یہی خوبیاں باہر کی دُنیا اَور مضافات میں بسنے والے علم دوستوں کو اَپنی طرف کھینچتی ہیں کہ یہ شہر علم و اَدب کا گہوارہ رہا ہے اَور آج بھی ہے۔

پروفیسر ستیہ پال آنند جدید اُردو نظم کے ایک بڑے شاعر ہیں۔ انہوں نے سینکڑوں نظمیں کہی ہیں اَور نہ صرف اُردو،بلکہ انگریزی اَدب میں بھی اپنی دھاک بٹھائی ہے ۔ پاک و ہند کے کئی جریدے اُن کے فن پر گوشے شائع کر کے انہیں خراج ِتحسین پیش کر چکے ہیں۔ انہیں بھی لاہور سے اِسی لئے رغبت ہے کہ وہ اِسے علم و اَدب کا گہوارہ اَور جدید اُردو نظم کا مرکز سمجھتے ہیں۔ وہ کئی سال پہلے بھی یہاں تشریف لائے تھے اَور ڈاکٹر وزیر آغا کے ہاں ٹھہرے تھے۔ یہاں اُن کے اعزاز میں پریس کلب میں ایک شاندار تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا اَور وہ بڑی خوشگوار یادیں لے کر واپس گئے تھے۔ بھارتی نژاد پروفیسر ستیہ پال آنند کئی سال سے امریکہ میں مقیم ہیں، جہاں مختلف یونیورسٹیوں میں وہ انگریزی اَدب پڑھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے کئی شعرا¿ کی اُردو نظموں کے ترجمے کئے اور وہاں کے طلبہ سے انگریزی نظموں کے ساتھ اُن کے تقابلی مطالعے بھی کرائے ،جس سے ہماری اُردو شاعری بھی مغربی لوگوں تک پہنچی۔ اُن کی اَپنی کئی نظموں کے تراجم انگریزی زبان میں ہو چکے ہیں اَور اُن کی شاعری مغربی دُنیا میں بھی کافی مقبول ہے۔ستیہ پال آنند کی نظموں میں جہاں موضوعات کی رنگا رنگی موجود ہے، وہاں انہیں فن پر بھی دسترس حاصل ہے اور یہ بہت بڑی بات ہے کہ ایک ہندی شاعر نے اُردو زبان سیکھی اَور اُس پر عبور بھی حاصل کیا۔ اُن کا مطالعہ وسیع ہے، جس وجہ سے اُن کا و ِژن آفاقی حدوں کو چھوتا ہوا نظر آتا ہے۔

پچھلے د ِنوں ایک بار پھر پرانی محبتوں کی آنچ اُنہیں لاہورکھینچ لائی۔ یہاں اُنہیں ایک شاعر کی نظموں کی کتاب کی تقریب ِ رونمائی میں شرکت کرنا تھی۔ منتظمین نے اِس تقریب کی صدارت کے لئے غزل کے معروف شاعر ظفر اقبال کا نام چنا (جن کا شمار نظم کے مخالفین میں ہوتا ہے)۔ صاحبِ کتاب نے مہمانِ خصوصی کی تعریف میں کہا کہ ” جناب ستیہ پال آنند ایک مہاتما کی حیثیت رکھتے ہیں اَور میں اُن کے چرنوں میں بیٹھنے والا ایک ادنیٰ سا چیلا ہوں“۔ بعدازاں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ستیہ پال آنند نے دیگر باتوں کے علاوہ یہ بھی کہا کہ ” وزیر آغا جدید نظم کے پارکھ بھی تھے اَور نظم کے ایک بڑے شاعر بھی۔ اگر مجھ سے کہا جائے کہ پاکستان میں جدید نظم کے پارکھ کے طور پر کوئی ایک نام لوں تو مَیں وزیر آغا کا نام لوں گا“۔

بس پھر کیا تھا.... جونہی محفل میں وزیر آغا کا نام گونجا، مخالفین کی جبینوں پر بل پڑنے اَور اُن کی زبانوں کے کھلنے میں دیر نہ لگی : وہی رٹے رٹائے جملے، وہی تعصب اَور وہی اَدب دشمنی، حتیٰ کہ ایک پروفیسر نقاد بولے: ”وزیر آغا تو ایک جاگیر دار تھے، وہ نظم کے پارکھ اَور ایک بڑے شاعر کیسے ہو سکتے ہیں“ پروفیسر نقاد نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا:”یہاں تین گروپ تھے: ایک وزیر آغا گروپ، ایک احمد ندیم قاسمی گروپ اَور ایک اَور گروپ بھی تھا۔ انہوں نے ہماری نظم کا کوئی نوٹس نہیں لیا اَور ہمیں اپنے رسالوں میں جگہ نہیں دی“۔ اِس پر ستیہ پال آنند کا جواب تھا کہ: ”نظم کا پارکھ ہونے اَور جاگیرداری میں کیا تعلق ہے“؟ اَور ساتھ ہی یہ بھی پوچھا کہ ”کیا آپ اِسی لئے اُن کے خلاف ہیں کہ اُنہوں نے آپ کی نظموں کا نوٹس نہ لیا“؟ پروفیسر نقاد کے پاس اِس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ سارا معاملہ در اصل  ِمنتظمین تقریب نے خراب کیا تھا کہ انہوں نے نظم نگاروں کو مدعو کرنے کے بجائے غزل کے شاعروں کو مدعو کر لیا حتیٰ کہ صدارت کے لئے بھی ظفر اقبال کا نام چنا۔ اِس پر طرہ یہ کہ کتاب کی تقریب کے فوراً بعد ستیہ پال آنند کے اعزاز میں منعقد ہونے والی تقریب کے لئے بھی صدارت معروف فکشن نگار اِنتظار حسین کو بخشی گئی ۔ مانا کہ انتظار حسین بڑے فکشن نگار ہیں، مگر شاعری میں وہ عموماً غزل کو پسند کرتے ہیں اَور غزل گو شاعروں میں بھی اُن کی پسند ناصر کاظمی تک پہنچ کر ختم ہو جاتی ہے۔

ویسے تومنتظمین نے دس پندرہ اَدیبوں کے نام بھی دے رکھے تھے، جنہیں ستیہ پال آنند کی شاعری پر مقالے پڑھنا تھے، مگر اُن میں سے بیشتر مقالہ نگار غیر حاضر رہے اور اِکا دُ کا جو تشریف لائے،انہوں نے بھی زبانی گفتگو کی۔ مطلب یہ کہ تقریب ِ پذیرائی قطعاً معزز مہمان کے شایانِ شایان نہیں تھی۔ سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا تو ستیہ پال آنند کو یہ سمجھتے ہوئے بہت ”ٹف ٹائم“ دیا گیا کہ وہ غزل کے دُشمن ہیں.... (کیونکہ انہوںنے اَز راہ ِ تفنن محفل میں یہ کہ ‘دیا تھا کہ ”مَیں غزل کا دُشمن ہوں“).... حالانکہ اُن کے خیال میں ”غزل کی زبان اَور اِس میں اِستعمال ہونے والے اِستعاروں کا دیگر زبانوں میں ترجمہ نہیں ہو سکتا، جس کے نتیجے میں ہماری غزلیہ شاعری اَدب کے عالمی دھارے میں شامل نہیں ہو سکتی“۔ اُن کے مطابق: ”صرف نظم ہی ایک ایسی صنف ِ شاعری ہے ‘ دُوسری زبانوں میں جس کا ترجمہ ہو سکتا ہے، یوں ہم اپنی شاعری کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرا سکتے ہیں“۔ گویا بیشتر حاضرین نہ تو اُن کے خیالات کو سمجھ سکے اور نہ ہی اُن کی نظم کو۔ وجہ یہ کہ نظم حاضرین اَور قارئین سے تقاضا کرتی ہے کہ اُس میں موجود موضوع و مواد اَور زبان و اسلوب کو سمجھ کر، گم شدہ کڑیوں کو آپس میں ملایا جائے، ورنہ وہ اپنے آپ کو قاری پر کبھی نہیں کھولتی اَور پوری کی پوری نظم ہمارے پروفیسر نقاد حضرات کے َسر پر سے گزر جاتی ہے۔

13مارچ ہی کو روزنامہ ”جہانِ پاکستان“ میں ڈاکٹر غافر شہزاد کا ایک کالم شائع ہوا۔ انہیں بھی وزیر آغا کی تعریف ایک آنکھ نہیں بھائی تھی۔انہوں نے اپنے د ِل کی بھڑاس یوں نکالی کہ ”نئی نظم کووزیر آغا، ستیہ پال آنند اَور اُن کے حواریوں نے الگ اَور نئے پن کے نام پر اَیسا تشکیلی پیرہن اَور تخلیقی ضابطہ عطا کرنے میں اپنی عمریں گزار د ِیں۔ ایسی نظم اپنی اِنتہا میں بھی کم تر درجے کی ایک غیر متاثر کن اَور بے جان تخلیق ہی ہو سکتی ہے“.... غور کیجئے، ایک پی ایچ ڈی ڈاکٹر نے ملک بھر کے نظم نگاروں کو وزیر آغا اَور ستیہ پال آنند کے حواری قرار دے کر اُن کی توہین کر دی.... تاہم بھلا ہو مجاہد منصوری کا،جنہوں نے قا ِبل صد احترام مہمان کی آمد پراُن کے شایانِ شان الفاظ اِستعمال کرتے ہوئے 9مارچ کے روزنامہ ”جنگ“ میں لکھا کہ ”پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کی دعوت پر بین الاقوامی شہرت کےحامل، ماہر ِ لسانیات،انگریزی، اُردو، ہندی اور پنجابی کے منفرد شاعر اَور نعت گو پروفیسر ڈاکٹر ستیہ پال آنند پاکستان تشریف لائے“۔ دیگر کالم نویسوں کو مجاہد منصوری کا کالم پڑھ کر سبق حاصل کرنا چاہئے کہ کسی مہمان کو خوش آمدید کہنے کا طریقہ کیا ہو سکتا ہے! انہوں نے نہ صرف مہمان کی ”غزل دشمنی“ (اگر وہ واقعی غزل دشمنی کے زمرے میں آتی ہے )کا دفاع کیا، بلکہ اُن کے خیالات کو نہایت عمدہ طریقے سے قارئین تک بھی پہنچایا۔ مزید یہ کہ انہوں نے صاحب ِ کتاب کی ایک نظم میں سے ایک اقتباس بھی نقل کیا ، مگر یاد رہے کہ تقریب ِ رُونمائی میں لوگوں کی توجہ شاعر کے بجائے وزیر آغا کی نظم شناسی اَور ستیہ پال آنند کی نظم پسندی کو جھٹلانے پر مرکوز رہی۔

جب ہم یہ کالم لکھ رہے تھے، ہمیں شاہد شیدائی نے فون پر بتایا کہ انہیں 3مارچ کو پروفیسر ستیہ پال آنند کا ایک محبت نامہ موصول ہوا تھا،جس میں انہوں نے لکھا کہ وُہ لاہور میں نظم کی ایک کتاب کی تقریب ِ رُونمائی میں شرکت کریں گے، لہٰذاشاہد شیدائی، منتظمین سے رابطہ کریں اَور اُن سے لاہور میں ہونے والی تقریب کی تفصیلات حاصل کرکے انہیں اِی میل کے ذریعے مطلع کر دیںتاکہ وہ پروگرام کے مطابق لاہور پہنچ سکیں۔ شاہد شیدائی کے مطابق جب انہوں نے تقریب کے منتظمین سے رابطہ کیا تو اُنہیں بتا یا گیا کہ نہ تو ان کا ستیہ پال آنند سے کوئی رابطہ ہے اور نہ ہی انہوں نے فی الحال کوئی پروگرام ترتیب دیا ہے ۔ یہ سفید جھوٹ انہوں نے اِس لئے بولا کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ شاہد شیدائی ، تقریب میں شرکت کریں اور نظم دشمنوں کے رنگ میں بھنگ ڈالیں۔ ٭

مزید :

کالم -