سیاسی ماحول خوشگوار سا دکھتا ہے

سیاسی ماحول خوشگوار سا دکھتا ہے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ہیلو پیارے دوستو! سنائیں کیسے ہیں ،امید ہے کہ اچھے ہی ہوں گے ،دوستو! ہم بھی اچھے ہی ہیں اور دوستو! آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ سیاسی ماحول ایک دفعہ پھر خوشگوار ہو چکا ،جی ہاں سب یہ بات بھی جانتے ہیں کہ جوڈیشل کمیشن کے قیام پر تحریک انصاف کی قیادت اور حکومت کے مابین اتفاق رائے پیدا ہو چکا ہے اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے مکمل ہو جانے کے بعد اسمبلیوں میں بیٹھیں گے۔ دونوں سیاسی جماعتوں میں مفاہمت خاصی خوش آئند خبر ہے ، تاہم دونوں جماعتوں کے قائدین اس سے قبل بھی دہشت گردی کے خلاف اکٹھے بیٹھے ہیں اور نہ صرف عمران خان اور میاں نواز شریف ، بلکہ دیگر جماعتوں کے قائدین بھی دہشت گردی کے خلاف اکٹھے بیٹھ چکے ہیں، بہر حال مخالف سیاسی جماعتوں کے قائدین میں برف پگھلتی نظر آنے لگی ہے جو کہ سیاسی ماحول کو خوشگوار بنانے کے لئے کافی ہے۔


کراچی میں دہشت گردی کے خلاف جو آپریشن شروع کیا گیا تھا ،وہ سرچ آپریشن ملک بھر کے دیگر صوبوں میں بھی شروع کر دیا گیا ہے ،تاہم ایک خبر تھی ملک بھر میں سرچ آپریشن کے دوران ہزاروں مثتبہ افراد کی نشاندہی بھی کی گئی اور انھیں حراست میں بھی لیا گیا ، تاہم کراچی میں نائن زیرو پر رینجرز کے چھاپے کے بعد ملک بھر میں عجیب سی صورت حال قائم ہے ۔سوشل میڈیا پر کراچی آپریشن کو نوجوان نسل نے ضرور سراہا ہے، تاہم وزیر اعظم پاکستان کا بھی یہی کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن بلا امتیاز ہو گا اور وزیر داخلہ نے بھی یہ وضح کیا تھا کہ کراچی آپریشن کسی مخصوص جماعت کے خلاف نہیں، بلکہ محض اور محض دہشت گردوں کے خلاف ہے ،،،


تاہم تحریک انصاف کے رہنماؤں نے بھی کراچی آپریشن کی حمایت کی، ایم کیو اایم کے قائدین کا جو رد عمل ہے وہ بھی دنیا بھر کے عوام کے سامنے ہے اور یہ بات بھی دنیا جانتی ہے کہ رینجرز کی مدعیت میں الطاف بھائی کے خلاف مقدمہ درج ہو چکا ہے ، تاہم جناب زرداری کا کہنا ہے کہ مشکل وقت میں ہم ایم کیو ایم کا ساتھ دیں گے۔ جناب آصف علی زرداری کا یہ بیان بھی اخبارات کی زینت بنا ، بہر حال ایک طرف تو دہشت گردی کے خلاف آپریشن کا بھر پور آغاز ہو چکا ہے اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور انکے بلند حوصلہ پاک فوج کے جوان دن رات دشمنوں کے خلاف لڑنے کے باوجود بھی ہمہ دم تازہ د م و ہشاش بشاش دکھائی دیتے ہیں ،جی ہاں ایک طرف ہماری اندر کی لڑائی اور دوسری طرف سرحدی علاقوں پر روز ہمسایہ ملک بھارت کی طرف سے فائرنگ کر کے پاکستانی سرحدی علاقوں میں خوف و ہراس پیدا کیا جاتا ہے ،بہر حال ساری باتوں سے قطع نظر ایک خبر یہ بھی ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے لئے بھی تمام سیاسی جماعتوں نے میدان میں اترنے کا اعلان کر دیا ۔جی ہاں معزز عدالت سپریم کورٹ کی طرف سے بلدیاتی انتخابات کی تاریخ سامنے آتے ہی ، سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ۔جناب مشرف اور عمران خان نے بھی بھرپور انداز میں بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا ، تاہم بہت سے سیاسی رہنما جناب پرویز مشرف کی جماعت کو نہیں بلکہ عمران خان کو تیسری قوت قرار دے رہے ہیں ، تاہم طاہر القادری موصوف بھی بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر چکے ہیں ، جبکہ ق لیگ اور پیپلز پارٹی نے بھی اپنے اپنے امیدواروں کی تلاش شروع کر دی ہے ۔

تاہم صاف نظر آرہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات بھی اب ہو کے ہی رہیں گے، اسی لئے تو تمام کی تمام سیاسی جماعتیں کمر باندھتی نظر آرہی ہیں ، تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں بھی ن لیگ ہی کامیابی حاصل کرے گی ،بہر حال اب دیکھنا تو یہ بھی ہے کہ حکومت اور تحریک انصاف کے مابین جو خوشگوار فضاء قائم ہوئی ہے ، کتنی دیرپا ہو گی ،، بہر حال بہت سے دوست تو ھکومت اور تحریک انصاف میں مفاہمت کو جمہوریت کے لئے نیک شگون قرار دے رہے ہیں ، بہر حال دیکھنا تو یہ بھی ہے کہ بلدیاتی انتخابات مقررہ مدت تک ہو سکیں گے اور اگر ہوئے تو کونسی جماعت بلدیاتی انتخابات کا سہرا سجائے گی یہ بات بھی وقت ہی بتا سکتا ہے تو فی الوقت ہمیں دیں اجازت توملتے ہیں پیارے پیارے دوستو! آپ سے ایک بریک کے بعد تو چلتے چلتے ،اللہ نگھبان ،رب راکھا ۔

مزید :

کالم -