میرا یہ خواب سچ ہے

میرا یہ خواب سچ ہے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

آج کل ایک ایسی میرٹ لسٹ ترتیب دینے کو جی چاہتا ہے جس سے پتا چلے کہ کون سے سرکاری محکمہ نے عوامی انٹر ٹینمنٹ کا کتنا سامان فراہم کیا ۔ اول انعام تو پنجاب پولیس ہی کو ملے گا کہ اس کے عملہ کو کسی پہ جھپٹا مارنے اور اسی کے پاؤں پکڑ لینے کی مہارت یکسا ں توجہ سے سکھائی جاتی ہے ۔ دوسرا نمبر ملٹری اکاؤنٹس ڈپارٹمنٹ کا ہونا چاہئیے جس نے پاکستان بنتے ہی پیری مریدی ، ہومیو پیتھک ڈاکٹری اور شعر و ادب سے وابستہ رنگا رنگ کردار متعارف کرائے ۔ صرف شاعری کو لیں تو کون ہے جو عبدالحمید عدم کو نہ جانتا ہو ۔ ایک بڑا نام محمد اظہار الحق کا بھی ہے ۔ بیچ کے ادوار میں شاہد نصیر ، جمیل ملک ، ظفر ابن متین ، آل نبی تابش اور جلیل قریشی سب کے سب ملٹری اکاؤنٹس ہی سے وابستہ رہے ۔ اسی محکمہ کے ایک چپ چپیتے شاعر نذیر حبیب بھی تھے جنہوں نے ایک دن یہ کہہ کر سب کو چونکا دیا:
تیرگئ نظر فزوں، روشنئ خیال کم
منزل شب کے رہروو ، کچھ تو کہو کہاں ہیں ہم
آنکھ کا نور چھین لو، ہاتھ کرو قلم مگر
دیکھیں گے پھول میں شرر ، ڈھالیں گے سنگ سے صنم
میرے اس کالم کا مقصد ملٹری اکاؤنٹس ڈپارٹمنٹ کی شعری خدمات گنوانا نہیں ، جو الگ ریسرچ کا موضوع ہے ۔ البتہ اس سوال میں دلچسپی ضرور ہے کہ انسانی شعور مادی زندگی کی ہزیمتیں اٹھاتے اٹھاتے نہ جانے کس پر اسرار عمل کے ذریعہ دنیا کے خلاف اپنے انتقامی جذبہ کو تخلیقی توانائی میں ڈھال لیتا ہے ۔ درویش صفت نذیر حبیب ، جنہیں دفتر کے ساتھیوں سے کبھی صوفی نذیر اور کبھی چاچا نذیر کا خطاب ملا ، آنکھ کا نور چھیننے اور ہاتھ قلم کرنے والوں کو یہ چیلنج دیتے رہے کہ اے دنیا دارو ، اہل دل سے ہر سختی نرمی کر لینے کے بعد بھی تم انہیں پھول میں شرر دیکھنے اور سنگ سے صنم ڈھالتے رہنے سے باز نہ رکھ سکو گے ۔ اس لئے کہ یہ ایک فطری فنکار کی ضد ہے جو اپنے ریزہ ریزہ وجود کو جوڑنے کا خواب لفظوں ، موسیقی کے سروں اور تصویر کے رنگوں میں دیکھتا ہے ۔
پہلی بار یہ بات طالب علمی کے دنوں میں چھوٹے سے عہدے پہ فائز ایک بہت بڑے آدمی نے سجھائی تھی۔ ایک پوری نسل کے اعزازی استاد اکمل ارتقائی کی زبان سے فن اور فنکار کے درمیان اندرونی تضاد کا رشتہ آسانی سے سمجھ میں نہ آیا ، لیکن جب آ گیا تو دل و دماغ پہ اپنے آپ کئی اور سوالوں کے دریچے وا ہونے لگے ۔ خود کو زیادہ دلکش بنانے کی خواہش کہیں اپنی بدصورتی کے گہرے احساس کا نتیجہ تو نہیں ہوتی ؟ کیا ہمہ وقت انکساری غرور ہی کا دوسرا پہلو تو نہیں ؟ انسانوں کے خواب کس حد تک حقیقت کے ترجمان ہوتے ہیں اور کب کب نا آسودہ خواہشات کی لاشعوری تعبیر ؟ ٹیکسلا اور راولپنڈی کے درمیان جنرل نکلسن کے یادگاری مینار کے بالمقابل مرگلہ کی پہاڑی پہ بار بار چڑھنے کا خواب مجھ سے سنتے ہی استاد نے نفسیات داں سگمنڈ فرائیڈ کی ’انٹرپریٹیشن آف ڈریمز‘ پڑھنے کا حکم دے دیا تھا ۔


یہ کتاب ان جنتریوں کے خواب ناموں جیسا پاپولر لٹریچر نہیں ، جن میں پروفیسر انور مسعود کی نظم ’جہلم دا پل‘ میں درج کوائف کے مطابق دیس کے نامی گرامی پہلوانوں کی تصویریں ، رمضان شریف میں افطار و سحر کے اوقات اور بڑے بڑے ملکوں کا احوال دیا ہوتا ہے اور اس کے علاوہ ’پندرہ بیماریاں دے نسخے وی نال نیں‘ ۔ سگمنڈ فرائیڈ کے بتائے ہوئے نسخے ذرا اور نوعیت کے تھے ۔ پہلے تو اس نے ’ایگو ، سپر ایگو اور اڈ‘ کے چکر میں ڈالا اور ساتھ ہی وضاحت کی کہ انسان اصل میں وہ کچھ ہوتا ہے جو وہ نہیں ہوتا ۔ استاد اکمل نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ مرگلہ کی چوٹی سر کرنے کا تمہارا خواب عمودی چڑھائی چڑھنے کی کوشش کا اظہار تو ہے ، مگر اس میں شدت یوں آگئی ہے کہ عملی طور پہ تم کوہ پیمائی کی بجائے پیر سوہاوہ والی پکی سڑک کو ترجیح دیتے ہو اور آدھے راستے ہی پہ گنگنانے لگتے ہو کہ :
دامن کوہ میں خوابیدہ مکانوں کے نواح
اب بھی چاہت کی ہری شاخ میں کھلتے ہوں گے
شام در شام دمکتے ہوئے چہروں کے نجوم
دھوپ کی فصل میں دکھ سکھ کے جزیروں سے ورا
چھپ کے بچھڑے ہوئے ساتھی کہیں ملتے ہوں گے
اس سے یہ تو پتا چل گیا کہ خواب دیکھنے کے لئے مستند شاعر ، مصور یا سنگتراش ہونے کی شرط نہیں ۔ پھر یہ بھی لازمی نہیں کہ ہر خواب استاد اکمل ارتقائی کے بتائے ہوئے فارمولے کے عین مطابق ہو ۔ چار سال کی عمر میں کھلی چھت پہ سونے کا وہ نیم مانوس منظر ذہن میں زندہ ہے ، جس میں آج بھی ملٹری اکاؤنٹس کے شاعروں کی بجائے منیر نیازی ، میرا جی اور زاہد ڈار کی نظموں کے آسیب جاگنے لگتے ہیں ۔ چاندنی رات ، محلے کے بر گد کی چوباروں کو چھوتی ہوئی شاخیں اور ہماری تنہا ، اداس ممٹی ۔ ممٹی پر چیل سے بڑے سائز کا پرندہ پر پھیلائے بڑی آہستگی سے آ بیٹھتا ہے ۔ میں لیٹے لیٹے ایک کنکر اٹھا کر اسے نشانہ بناتا ہوں ۔ پرندہ اڑ جاتا ہے اور چاندنی رات، ممٹی اور برگد کی شاخیں ایک زلزلہ نما جھٹکا کھا کر یکدم جگہ پہ آ جاتی ہیں ۔ عجیب دلفریب منظر تھا ، مگر اسی طرح جیسے سانپ دلفریب ہوتا ہے ۔


یہ تو سوتے جاگتے میں ٹی وی کے اس ’رولنگ بلیٹن‘ جیسا خواب ہوا جو چھوٹی موٹی کمرشل بریک لے کر نئے سرے سے سٹارت ہوجاتا ہے ۔ ہر مرتبہ گلا بند ہو جاتا ، نہ بولنے کی طاقت نہ ہلنے جلنے کی سکت ۔ سبھی لوگ ایسے تجربہ سے کسی نہ کسی شکل میں گزرے ہوں گے ۔ پر ایک سپنا تو ایسا ہے کہ اس کی جھلک دیکھتے ہی میں آج بھی ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھتا ہوں ۔ وہ ہے برسات کے مہینوں میں بی اے کے امتحان کی تیاری ۔ بارشوں کی نمی سے پرانے گھروں میں لکڑی کے خستہ دروازوں میں جو خوشبو سی پیدا ہو جاتی ہے ، وہ تو بھلی لگتی ۔ پر رات کو بجلی کا لیمپ جلا تے ہی ان سیالکوٹی مچھروں کی یلغار نہیں بھولتی جو جسم کے ایسے مقامات میں داخل ہونے کی کوشش کرتے جن کی نشاندہی نہیں کی جا سکتی ۔ اگر بیماریوں کے حملے میرٹ پہ ہوا کرتے تو میں بی اے میں ڈینگی سے بمشکل ہی بچا ۔


اب خوابوں کی بات چل نکلی ہے تو یہ نکتہ بھی بیان ہو جائے کہ خوابوں کی یہ ساری کیفیتیں ڈرانے والی تو نہیں ہوتیں ۔ بعض نیک پاک لوگ تو ایسی ایسی علامتی جھلکیاں بھی دیکھ لیتے ہیں جنہیں صحیح معنوں میں روحانی تجربہ کہنا چاہئے ۔ ستمبر1965ء کی جنگ کے چند ہفتوں بعد میرے بظاہر انگلش میڈیم والد کے ساتھ کوئی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا ۔ میں نے تفصیل تو نہ پوچھی ، مگر سب نے دیکھا کہ نمائشی زہد و تقوی سے کام لئے بغیر ، جس کا فیشن آج کل عروج پہ ہے ، بزرگوار کی نمازوں میں پابندی آ گئی ہے اور ان کے سجدے قیام سے طویل تر ہو نے لگے ہیں ۔ میرا روحانی تجربہ اتنے اونچے درجہ کا نہیں ۔ لندن میں قیام کے دوران ایک خواب میں اردو سروس کے سینئر ترین ساتھی یاور عباس نظر آئے تھے ۔ اگلی صبح ذکر ہوا تو کہنے لگے ’یوں کہئے کہ رات آپ کو بشارت ہوئی‘ ۔ ہوا نا لطیفہ ۔


پر تین روز ہوئے مجھے واقعی خواب میں ایک خوشخبری ملی اور وہ ہے میرے دوست خرم قادر کی صحت یابی کا اشارہ ۔ ڈاکٹر خرم قادر کون ہیں ؟ کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ قریب قریب میں ہی ہوں ، بس عقلی انسان ہونے کے ناطے سے وہ ذرا تاریخ اور سماجی علوم کی طرف نکل گئے جبکہ میں ’ولا یوڑ‘ آدمی کے طور پہ صحافت او ر ادب کے جنکشن پر ذہنی پختگی کی ٹرین پہ سوار ہوتے ہوتے رہ گیا ۔ سوا مہینہ پہلے خرم قادر ایک انٹرنیشنل کانفرنس کے لئے ترکی گئے تو شدید برفباری میں محب وطن پاکستانی کے طور پہ محض شیروانی اور جناح کیپ پہن کر گھومتے رہے ۔ پھر شدید نمونیہ کا حملہ ہوا ، دو ہفتے استنبول کے آئی سی یو میں رہے اور اب سی ایم ایچ راولپنڈی میں بتدریج روبصحت ہیں ۔ خواب میں اسی خرم کو دیکھا جو پہلی بار گورڈن کالج والے قیصر ہوٹل میں ملا تھا ۔ مجھے یقین ہے میرا یہ خواب سچا ہے ۔

مزید :

کالم -