مائے نی میں کنّوں آکھاں

مائے نی میں کنّوں آکھاں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کل اکرم خاور دُنیا سے رخصت ہو گیا۔ انگریزی کا باصلاحیت پروفیسر اور ٹیچنگ سے عشق کرنے والا انسان، گورنمنٹ ایمرسن کالج کی فضا اُس کے جانے سے سوگوار ہے۔ وہ ایک جنونی انسان تھا۔اُسے اپنے کام سے بھی جنون کی حد تک عشق تھا اور اپنی انا سے بھی شدید محبت تھی۔ وہ منحنی سا جسم رکھتا تھا، اس نے جنرل ضیا ء الحق کے دور میں پشاور سے کراچی تک پیدل مارچ کیا تھا۔ یہ مارچ جمہوریت اور انسانی حقوق کے لئے تھا۔ اسے اپنے حق کے لئے لڑنے کا بہت شوق تھا۔ اِسی شوق کی وجہ سے وہ زندگی بھر حالتِ جنگ میں رہا۔ ایک اکیلا آدمی جب پورے نظام کے خلاف لڑ رہا ہو تو اُسے اس کی بہت بڑی قیمت چکانا پڑتی ہے، یہ قیمت اکرم خاور نے بھی چکائی اور وقت سے پہلے دل کے ہاتھوں گھائل ہو کر دُنیا سے رخصت ہو گیا۔ اپنے پیچھے چھوٹے چھوٹے بچے زمانے کے زخم سہنے کے لئے چھوڑ گیا۔ مَیں اسے اکثر سمجھایا کرتا تھا کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو اتنا سنجیدگی سے نہ لے کہ وہ اُس کی جان کا روگ ہی بن جائیں، لیکن وہ کہتا تھا اگر مَیں نے یہ راستہ چھوڑ دیا تو شاید زندہ نہیں رہ سکوں گا۔ زندہ تو وہ ویسے بھی نہیں رہا، تاہم اب اُس کا ذکر ایک ایسے شخص کے طور پر ہو رہا ہے،جو ظلم و جبر اور جھوٹ کے نظام کا باغی تھا، جس نے سرکاری مناصب پر بیٹھے ہوئے اُن لوگوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے، جو اپنے ماتحتوں کو غلام سمجھتے ہیں۔ وفات سے چار روز پہلے میری اُس سے ملاقات ہوئی تو اُس نے کہا۔۔۔ لگتا ہے میرا دل اب ساتھ چھوڑ جائے گا، میرے حوصلے نہیں ٹوٹے، لیکن دل ٹوٹ رہا ہے۔۔۔ پھر یہی ہوا، وہ دل کی تکلیف کے باعث ہسپتال میں داخل ہوا، جہاں سے ایک لاش کی صورت اُسے گھر واپس لایا گیا۔

اکرم خاور مجھے اکثر کہا کرتا تھا کہ اگر پاکستان سے چھوٹی چھوٹی مملکتوں کا تصور ختم ہو جائے اور سب کچھ قانون قاعدے کے مطابق چلنے لگے تو یہ معاشرہ آئیڈیل بن جائے۔ اُس کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں اپنی مملکت بنا لیتی ہیں، تو بیورو کریسی بھی اپنے محکموں اور دفاتر کو آزاد و خود مختار ریاست کا نام دے دیتی ہے، کوئی ہسپتال کا ایم ایس بن جاتا ہے، تو اسے اپنی ملکیت سمجھ کر چلاتا ہے، چھوٹے سے چھوٹا سرکاری کارندہ بھی اپنی کرسی میز کی حد تک بادشاہ بن کر بیٹھ جاتا ہے، اسے کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا اور اگر پوچھے بھی تو اس کے اس قدر اختیارات ہوتے ہیں کہ اس کا بال بھی بیکا نہیں ہو سکتا۔ مجھے اس کی بہت سی باتیں یاد آتی ہیں۔ اُس کے ساتھ چونکہ زندگی بھر زیادتی ہوتی رہی، جس کے خلاف وہ آواز اٹھاتا رہا، اس لئے اس کا کردار ایک اینگری ینگ مین جیسا بن گیا، حالانکہ وہ ایک صلح جو اور درد دل رکھنے والا انسان تھا،اُس کی آواز بہت اچھی تھی، وہ جب پنجابی گیت سناتا تو ایک بھرپور سوز اُس کی آواز میں اُتر آتا۔ اکثر اوقات کوئی درد انگیز گیت سناتے ہوئے اُس کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے۔ اُس وقت مَیں سوچتا کہ اکرم خاور کس قدر کمزور انسان ہے، درد کا ایک ہلکا کا جھونکا بھی برداشت نہیں کر سکتا، مگر دوسری طرف وہ کس قدرقوت کا مالک ہے کہ حالات سے لڑ رہا ہے۔


دلچسپ بات یہ ہے کہ پروفیسر اکرم خاور نے کوئی لڑائی مالی منفعت یا عہدے کے لئے نہیں لڑی، اس کی ہر لڑائی ایک ایسے واقعہ کی وجہ سے ہوتی تھی جس نے اُن کی عزتِ نفس کو پامال کیا ہو۔ وہ یہ چاہتا تھا کہ کالج اساتذہ کو عزت و تکریم ملے، انہیں بیورو کریسی یا محکمہ تعلیم کے افسران بے توقیر نہ کریں۔ اساتذہ اُس کے نزدیک معاشرے کا ضمیر تھے، اس لئے وہ اس ضمیر کی سربلندی کے لئے ہمیشہ جنگ لڑتا رہا۔ اُس نے یہ جنگ اگرچہ صرف اپنے حوالے سے لڑی، لیکن اس میں ہمیشہ اجتماعی رنگ شامل ہوتا تھا، وہ یہ جنگ اس لئے لڑ سکتا تھا کہ اُس کے دامن پر فرائض منصبی سے غفلت برتنے کا کوئی داغ نہیں تھا۔ وہ وقت سے پہلے اپنی کلاس کے باہر موجود ہوتا، بُرے سے بُرے حالات میں بھی کلاس نہ چھوڑتا۔ وہ کہتا تھا کہ میرا ایک ایک لمحہ میرے طالب علموں کا قرض ہے، اس لئے مَیں اسے ضائع نہیں کرنا چاہتا۔


مَیں اکرم خاور کی زندگی پر نظر ڈالتا ہوں تو یہ سوال میرے ذہن میں کلبلانے لگتا ہے کہ ہم اپنے معاشرے کو کانٹوں کی سیج کیوں بنا چکے ہیں؟ جہاں پڑھے لکھے افراد بھی ہمیشہ نظام کے ہاتھوں ذہنی دباؤ کا شکار ہوں، وہاں علم و شعور کی شمع کیسے روشن رہ سکتی ہے؟ مَیں جب بھی اکرم خاور سے ملتا تو مجھے یوں محسوس ہوتا جیسے اُس کے اندر مایوسی کے جھکڑ چل رہے ہیں۔ کیسی مایوسی، اس کی مجھے خبر نہ ہوتی، البتہ اس کی باتوں سے یہی لگتا کہ وہ اس بات پر افسردہ ہے کہ جس نظام کو معاشرے پر مسلط کر دیا گیا ہے اُس میں عزت نفس کو کچلنے کے عوامل قدم قدم پر موجود ہیں۔ وہ اپنے ساتھ ایک موٹی فائل ہر وقت رکھتا تھا، جس میں اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی سب داستانیں چھپائے پھرتا، وہ جب سٹاف روم میں بیٹھ کر اپنی درد بھری آواز میں’’مائے نی میں کنّوں آکھاں‘‘ سناتا تو یوں لگتا جیسے اُس کے اندر کے تمام دُکھ اُس کی آواز میں ڈھل گئے ہیں۔ وہ کہتا تھا کہ اگر اللہ اسے اچھی آواز اور سر نہ دیتا تو شاید معاشرے کا جبر اُسے بہت پہلے توڑ پھوڑ کے رکھ دیتا۔ حیرت ہے کہ ہم اپنے اساتذہ کو بھی ایک پُرسکون اور پُرامن ماحول فراہم نہیں کر سکے۔


تعلیمی اداروں میں میرٹ کی پامالی صرف طلبہ و طالبات تک محدود نہیں، اساتذہ کے حوالے سے بھی سفارش اور اقربا پروری عام ہے۔ سیاست نے یہاں بھی پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان خطے کی سب سے بڑی درس گاہ ہے، وہاں اس قدر سیاست اور فیورٹ ازم ہے کہ حق دار کڑھ کڑھ کر جی رہے ہیں۔ وائس چانسلر کی صوابدید اس بُرے طریقے سے استعمال ہوتی ہے کہ چہیتوں کو15،15 عہدے دے دیئے جاتے ہیں اور ناپسندیدہ، مگر باصلاحیت اساتذہ کو کھڈے لائن لگا دیا جاتا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کا تعلیمی ماحول حد درجہ کشیدہ ہے، پچھلے دِنوں ٹرانسپورٹ کمیٹی کے سربراہ ایک سینئر پروفیسر کو صرف اس لئے ایک مقدمے میں الجھا دیا گیا کہ انہوں نے ڈرائیوروں کی طرف سے ڈیزل کی مد میں لاکھوں روپے کی خوردبرد کو پکڑ لیا تھا۔ نااہل ڈرائیوروں کی نشاندہی کی جاتی رہی، مگر کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی، لیکن جب دو ہفتے پہلے یونیورسٹی استاد کی بیٹی یونیورسٹی بس کے نیچے آ کر جاں بحق ہو گئی توبکھرے ہوئے اساتذہ یکجا ہو گئے، مگر دوسری طرف ڈرائیوروں کی حمایتی ایمپلائز ایسوسی ایشن بھی حرکت میں آ گئی۔ جب تعلیمی اداروں کا ماحول اس قدر پراگندہ ہو تو پُرامن تعلیمی فضا کہاں برقرار رہ سکتی ہے؟


اکرم خاور جیسے ’’سر پھرے‘‘ اپنی زندگی سے کوئی نہ کوئی پیغام دے جاتے ہیں، لیکن جس ہنگامہ پرور زندگی کا ہم شکار ہیں، اُس میں ایسے پیغامات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ وہ برف پر لکھی تحریر کی مانند ہوتے ہیں، وہ معاشرے کبھی فلاحی نہیں بن سکتے، جن میں یکساں قوانین اور ضابطے نافذ نہیں کئے جاتے، جہاں تمیز بندہ و آقا رکھی جائے اور سرکاری عمال اختیارات کے نشے میں آپے سے باہر ہو جائیں، وہاں حساس آدمی کا دم گھٹتا ہے۔ اکرم خاور بھی ایک حساس آدمی تھا، جس نے خود کو معاشرے کی گھٹن کا عادی بنانے کی بجائے اس کے خلاف مزاحمت کی، وہ اس گھٹن کو تو ختم نہیں کر سکا، البتہ خود ختم ہو گیا۔ کیا یہ گھٹن کبھی ختم ہو گی، کیا ہم ایک ایسا معاشرتی و سماجی نظام وضع کر سکیں گے، جس میں ہر ایک کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع ملیں اور مملکت کے نام پر ملازمت کرنے والے بادشاہوں جیسا وطیرہ اختیار نہ کریں؟۔۔۔ یہ سوال اکرم خاور کی زندگی کا چراغ گل ہو جانے پر اور زیادہ اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔

مزید :

کالم -