افغانستان بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے‘اعجاز اے ممتاز

افغانستان بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے‘اعجاز اے ممتاز

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 لاہور(کامرس رپورٹر) پاکستان اور افغانستان نہ صرف ہمسایہ ممالک بلکہ سارک اور او آئی سی کے اراکین بھی ہیں، افغانستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے پاکستان ہر ممکن اقدامات اٹھارہا ہے، ہر مشکل وقت میں پاکستان نے افغانستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے اور افغانستان کو مکمل طور پر پْرامن ملک دیکھنے کا خواہاں ہے۔ ان خیالات کا اظہار لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر اعجاز اے ممتاز نے افغان صحافیوں کے ایک وفد سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر میاں نعمان کبیر، نائب صدر سید محمود غزنوی، سابق نائب صدر آفتاب احمد وہرہ، اکبر شیخ اور طاہر محمود نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ اگرچہ پاکستان اور افغانستان کے سرکاری سطح پر تعلقات میں اْتار چڑھاؤ آتا رہا لیکن عوامی سطح پر تعلقات ہمیشہ بہترین اور پرْجوش رہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے ۔ انہوں نے وفد کو آگاہ کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے فروغ کی وسیع گنجائش موجود ہے جس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2000-01ء میں پاکستان کی افغانستان کو برآمدات کا حجم 140ملین ڈالر تھا جو سال 2010-11ء میں بڑھ کر 2.33ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ انہوں نے کہا توقع کی جارہی تھی کہ 2014-15ء میں باہمی تجارت کا حجم 5ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا لیکن عالمی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے ایسا نہیں ہوسکا۔ اعجاز اے ممتاز نے کہا کہ افغانستان وہ واحد ملک ہے جسے پاکستان نے واہگہ باڈر کے ذریعے بھارت سے تجارت کی اجازت دے رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان قدرتی وسائل سے مالامال ہے ، دونوں ممالک کے تاجروں کے درمیان مشترکہ منصوبہ سازی بڑے مفید نتائج کی حامل ہوسکتی ہے، لاہور چیمبر اس سلسلے میں بھرپور کوششیں کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے زراعت، ہیلتھ اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبوں میں پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے بڑے اچھے مواقع موجود ہیں ۔لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر میاں نعمان کبیر اور نائب صدر سید محمود غزنوی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سمگلنگ ایک سنگین مسئلہ ہے جس پر قابو پاکر دونوں ممالک ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کے ذریعے اپنے خزانوں کو بھاری فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ پاکستان کی افغانستان کو برآمدات میں گندم، چینی، صابن، چائے، فٹ ویئر، کارپٹس، پیپر اینڈ پیپر بورڈ، فارماسیوٹیکل جبکہ افعانستان سے درآمدات میں قالین ، نمدے اور سونف وغیرہ شامل ہیں۔ لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی وفود کا تبادلہ تجارت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، اس کے علاوہ دونوں ممالک کے چیمبرز کے درمیان دیرپا روابط قائم ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کبھی نہ ٹوٹنے والا برادرانہ رشتہ ہے جسے مزید پائیدار بنانے کے لیے افغان صحافیوں کو بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ افغان وفد کے سربراہ ڈاکٹر انور نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کو باہمی تعلقات مزید مستحکم بنانے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔

مزید :

کامرس -