یہ خبر پڑھنے کے بعد آپ کبھی بھی اپنا موبائل فون اپنے ساتھ ٹوائلٹ میں نہیں لے کر جائیں گے کیونکہ۔۔۔

یہ خبر پڑھنے کے بعد آپ کبھی بھی اپنا موبائل فون اپنے ساتھ ٹوائلٹ میں نہیں لے ...
یہ خبر پڑھنے کے بعد آپ کبھی بھی اپنا موبائل فون اپنے ساتھ ٹوائلٹ میں نہیں لے کر جائیں گے کیونکہ۔۔۔

  


لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) ٹوائلٹ میں اپنے ساتھ اخبار لے کر جانا ماضی کا قصہ ہوا، اب لوگ اپنا فون ساتھ لے کر جاتے ہیں اور اسی پر ’فراغت‘ کے لمحات میں خبروں وغیرہ سے استفادہ حاصل کرتے ہیں۔ لیکن اب ماہرین نے متنبہ کیاہے کہ ٹوائلٹ میں فون ساتھ لیجانا انسان کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

برطانوی اخبار ”دی میٹرو“ کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ”باتھ رومز میں انواع و اقسام کے جراثیم ہوتے ہیں اور وہاں جا کر آدمی فلش کے ڈھکن سمیت دیگر کئی چیزوں کو ہاتھ لگاتا ہے جس سے وہ جراثیم اس کے ہاتھوں کو لگ جاتے ہیں اور جب وہ ہاتھ دھوئے بغیر فون پکڑ کر اس پر مصروف ہو جاتا ہے تو ہاتھوں پر لگنے والے خطرناک جراثیم فون پر منتقل ہو جاتے ہیں اور آخر میں آدمی فون جیب میں ڈال کر ہاتھ دھو کر باہر آتا ہے اور دوبارہ فون کو ہاتھ لگاتا ہے تو وہ جراثیم فون کے ذریعے دوبارہ اس کے ہاتھوں میں منتقل ہو جاتے ہیں اور طرح طرح کی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔“

ماہرین کا کہنا تھا کہ ”ٹوائلٹس میں سیلمونیلا(Salmonella)، ای کولی (E. Coli) اور سی ڈیفیشل(C. Difficile) جیسے خطرناک جراثیم ہوتے ہیں جو فون کے ذریعے آسانی سے انسان میں منتقل ہو جاتے ہیں۔“حفظان صحت کی ماہر ڈاکٹر لیزا ایکرلے(Liza Ackerley)کا کہنا تھا کہ ”اگر آپ بہرحال اپنے ساتھ فون ٹوائلٹ میں لیجانا چاہتے ہیں تو آپ کو کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ جب آپ ٹوائلٹ میں جائیں تو کسی بھی چیز کو ہاتھ مت لگائیں۔ صرف اپنا کام کریں اور ساتھ موبائل فون استعمال کریں اور فراغت کے ساتھ ہی فون کو اپنی جیب میں ڈال لیں اور پھر جس چیز کو ہاتھ لگانا ہو لگائیں، پھر ہاتھوں کو اچھی طرح دھو کر باہر آ کر ہی فون کو دوبارہ ہاتھ لگائیں۔ اس طرح جراثیم آپ کے فون پر منتقل ہوں گے نہ دوبارہ آپ کے ہاتھوں تک پہنچ سکیں گے۔ ٹوائلٹس میں ہمیں ہمیشہ اس بات کا دھیان رکھنا چاہیے کہ ہم وہاں کس کس چیز کو چھو رہے ہیں۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس