جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والی پاکستان کی مایہ ناز سکواش کھلاڑی، طالبان سے بچ کر کس طرح کھیلنے کا شوق پورا کیا؟ زندگی کی ایسی کہانی سنادی کہ دنیا دنگ رہ گئی

جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والی پاکستان کی مایہ ناز سکواش کھلاڑی، طالبان ...
جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والی پاکستان کی مایہ ناز سکواش کھلاڑی، طالبان سے بچ کر کس طرح کھیلنے کا شوق پورا کیا؟ زندگی کی ایسی کہانی سنادی کہ دنیا دنگ رہ گئی

  


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ماریہ طور پکئی پاکستان کی مایہ ناز سکواش پلیئر ہیں جن کا تعلق جنوبی وزیرستان سے ہے۔ انہوں نے طالبان کے دور میں تمام تر خطرات کی موجودگی میںسکواش کھیلنا جاری رکھی، جس کا وزیرستان میں تصور بھی محال تھا۔ ایک کمسن لڑکی نے اس ناممکن کام کو کس طرح ممکن بنایا، یہ کہانی واقعی حیرت انگیز ہے۔

برطانوی اخبار ”دی مرر“ کی رپورٹ کے مطابق ماریہ طورپکئی نے A Different Kind Of Daughterکے نام سے ایک کتاب لکھی ہے جس میں اپنی داستان بیان کی ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ ”میرا تعلق جس علاقے سے ہے وہاں خواتین گھر میں صرف کھانا پکاتی اور صفائی کرتی ہیں۔زندگی بھر ان کا یہی معمول ہوتا ہے۔مگر مجھے بچپن ہی سے کھیل کود کا شوق تھا ۔ اور ہمارے علاقے میں کسی خاتون کے لیے اس کا تصور کرنا بھی محال تھا۔ ہمارے ہاں تو لڑکیوں کا سکول جانا بھی ممنوع تھا۔ میں نے اپنے اس شوق کی خاطر قتل کی دھمکیاں برداشت کیں اور کئی حملے سہے لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری۔میں اپنا شوق پورا کرنے کے لیے اپنے بھائی کا لباس پہن کر کھیلنے جاتی تھی تاکہ لوگ مجھے لڑکا سمجھیں۔ میرے والد نے میرے شوق کو دیکھتے ہوئے مجھے ویٹ لفٹنگ کی کلاسز کے لیے بھیج دیا، انہوں نے وہاں مجھے اپنا بیٹا بتایا۔ 12سال کی عمر میں میں نے جونیئر ویٹ لفٹنگ ٹورنامنٹ جیت لیا اور اس کے کچھ ماہ بعد میں پاکستان میں دوسرے نمبر پر آ گئی۔“

ماریہ نے مزید لکھا ہے کہ ”مجھے ویٹ لفٹنگ کا کھیل کچھ پسند نہ آیا لہٰذا میں نے سکواش کھیلنے کا فیصلہ کیا اور اپنے باپ سے درخواست کی کہ وہ مجھے پشاور کی سکواش اکیڈمی میں داخل کروا دے۔میرے والد نے میری بات مان لی لیکن انہیں ایک بار پھر یہاں جھوٹ بولنا پڑا اور انہوں نے اکیڈمی کے ڈائریکٹر کو کہا کہ یہ میرا بیٹا ہے، اسے میں اکیڈمی میں داخل کروانا چاہتا ہوں۔ لیکن انہیں اس وقت سچ بولنا پڑا جب ڈائریکٹر نے پیدائش کا سرٹیفکیٹ مانگ لیا۔ ڈائریکٹر کا شکریہ کہ انہوں نے ہمارے اس راز کو راز ہی رکھا اور میں لڑکا بن کر سکواش کھیلتی رہی۔ڈائریکٹر نے نہ صرف شناخت چھپانے میں میری مدد کی بلکہ انہوں نے مجھے ایک ریکٹ بھی تحفے میں دیا،جس پر دنیا کے بہترین سکواش پلیئر اور سابقہ ورلڈ چیمپئن جوناتھن پاور کے دستخط تھے۔کئی سال بعد یہی جوناتھن پاور میرے کوچ بھی بنے۔ مگر با لآخر میرا راز فاش ہو گیا، میری جنس کے بارے میں سب کو معلوم ہو گیا اور مجھے سخت اذیت سے گزرنا پڑا۔ میں مستقل ذہنی تشدد کا شکار ہوتی رہی۔ اکیڈمی میں مجھے بالکل تنہا کر دیا گیا تھا۔ اس سارے سفر میں میرے والد نے میرا بھرپور ساتھ دیا۔ آج میں اس مقام پر ہوں کہ دنیا میں پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہوں۔ میرے والد میرا ساتھ نہ دیتے تو میں کبھی یہاں تک نہ پہنچ پاتی۔“

مزید : کھیل