پاکستانی شہری نے پاکستانی دلہن کو برطانیہ لیجا کر ایسے کام پر مجبور کردیا کہ ہم وطنوں کا سر شرم سے جھکادیا، ایسی فرد جرم عائد جو برطانیہ کی تاریخ میں آج تک کسی مرد پر عائد نہ ہوئی

پاکستانی شہری نے پاکستانی دلہن کو برطانیہ لیجا کر ایسے کام پر مجبور کردیا کہ ...
پاکستانی شہری نے پاکستانی دلہن کو برطانیہ لیجا کر ایسے کام پر مجبور کردیا کہ ہم وطنوں کا سر شرم سے جھکادیا، ایسی فرد جرم عائد جو برطانیہ کی تاریخ میں آج تک کسی مرد پر عائد نہ ہوئی

  


لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) ہمارے ہاں اکثر والدین سوچتے ہیں کہ ان کی بیٹی کا بیاہ بیرون ملک مقیم لڑکے سے ہوجائے تو اس کی زندگی سنور جائے گی، لیکن بدقسمتی سے بیرون ملک بسنے والے پاکستانیوں میں ایسے مرد بھی شامل ہیں کہ جو والدین کے اس خواب کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کی بیٹیوں کی زندگیاں برباد کر دیتے ہیں۔

برطانیہ میں مقیم پاکستانی نژاد شخص سرفراز احمد بھی ایک ایسی ہی مثال ہے کہ جس نے گجرات کے ایک خاندان کو سہانے خواب دیکھا کر ان کی بیٹی سے بیاہ کیا لیکن اسے بیوی کا درجہ دینے کی بجائے غلامی کی زنجیریں پہنا دیں۔ اخبار دی میٹرو کے مطابق 34 سالہ سرفراز نے اپنی پاکستانی بیوی پر اس قدر ظلم ڈھائے کہ بیچاری خودکشی پر مجبور ہو گئی۔

سرفراز نے گجرات سے تعلق رکھنے والی سمیرہ ارم سے 2006 ء میں اس وقت شادی کی جب اس کی عمر صرف 18 سال تھی۔ وہ شادی کے بعد برطانیہ لوٹ گیا البتہ سمیرہ نے ایم اے اسلامیات مکمل کیا، جس کے بعد اسے بھی سرفراز کے پاس روانہ کر دیا گیا۔ سمیرہ نے اخبار سنڈے ٹائم کو بتایا کہ سرفراز نے اسے ازدواجی تعلق سے محروم رکھنے اور بیوی کا درجہ نہ دینے کا اظہار صاف الفاظ میں کر دیا، اور بتایا کہ اس کا کام صر ف ایک غلام کے طور پر خدمات سرانجام دینا ہو گا۔

سمیرہ کا کہنا تھا کہ سرفراز کے دوست احباب گھر پر آتے تو اسے خدمت پر معمور کر دیا جاتا۔ اس کی بہنیں اپنے بچوں کو لے کر آتیں تو سامان اٹھانے، ان کی خدمات گزاری کرنے، بچوں کو کھلانے پلانے اور حتیٰ کہ واش روم لیجانے تک کی ذمہ داریاں بھی اسے سونپ دی جاتیں۔

دن رات جبری مشقت لینے کے علاوہ اس پر شدید تشد د بھی کیا جاتا۔ سمیرہ کا کہنا تھا کہ ایک روز اس پر اس قدر وحشیانہ تشدد کیا گیا کہ وہ اپنی جان بچانے کے خوف سے دوڑتی ہوئی گھر سے باہر نکل گئی۔ جب ہمسایوں نے اسے لہو لہان اور ننگے پاؤں سڑک پر دیکھا تو پویس کو اطلاع کردی۔ اس موقع پر بھی سمیرہ انگیریز ی سے لاعلمی اوراپنے خوف کی وجہ سے سرفراز کے خلاف شکایت نہ کر سکی اور یوں اس کی بدقسمتی کا سلسلہ جوں کا توں جاری رہا۔

مزید چھے ماہ گزرنے کے بعد اس کی حالت یہ ہو چکی تھی کہ اس نے خود کشی کرنے کی کوشش بھی کر ڈالی، جس کے بعد اسے زبردستی سرفراز کے بھائی کے گھر میں قید کر دیا گیا۔ اس قید کے دوران اس نے ہمت کا مظاہرہ کیا اور پولیس سے رابطہ کر لیا۔ اس بار پولیس نے نہ صرف اسے قید سے آزاد کرایا بلکہ اس کے سفاک شوہر کے خلاف تحقیقات مکمل کر کے اسے عدالت میں بھی پیش کر دیا۔ عدالت میں اس کے خلاف ایک انسان کو غلام بنا کر رکھنے کے الزامات عائد کئے گئے، جس کی جدید برطانوی تاریخ میں اور کوئی مثال نہیں ملتی۔ مقدمے کی سماعت مکمل ہو چکی ہے اور عدالت جمعہ کے روز سزا کا فیصلہ سنائے گی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس