لاہور پھر لہو لہو!

لاہور پھر لہو لہو!
 لاہور پھر لہو لہو!

  

یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا

ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخرو کرکے

قوم کو ابھی تک دہشت گردی کی لعنت سے مکمل چھٹکارا نصیب نہیں ہوا۔ گزشتہ دس سال سے دہشت گردی کی جنگ میں قوم نے ستر ہزار معصوم جانوں کا نذرانہ دیا ہے، یہ سلسلہ کچھ تھما ضرور ہے، لیکن رکا نہیں ہے۔ پرانے زخم ابھی تازہ تھے کہ دشمن نے نئے زخم دینا شروع کر دیے ہیں۔قوم نے دس سال دہشت گردی کے عذاب کو بھگتنے کے بعد ابھی چین کا سانس لینا شروع کیا تھا، خود کش دھماکوں کا خوف ختم ہو رہا تھا، سکولوں، ہسپتالوں، عبادت گاہوں، بازاروں اور تفریحی مقامات کی رونقیں بحال ہونا شروع ہوچکی تھیں کہ وحشی، مکار اور عیار دشمن نے ایک بار پھر اپنی موجودگی کا احساس دلا دیاہے۔ دشمن نے ایک بار پھر بچوں اور عورتوں سمیت معصوم شہریوں پر وار کر کے قوم کو للکارا ہے۔ خون کی ہولی کھیلی گئی ہے اور وہ بھی پاکستان کے دل لاہور میں۔ 27 مارچ اتوار کے روز لاہور کے گلشن اقبال پارک میں خود کش دھماکے کے نتیجے میں 72 افراد شہیداور 300 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔

گلشن پارک لاہور کے چند بڑے پارکوں میں سے ایک ہے۔ روزانہ ہزاروں افراد تفریح کے لئے یہاں کا رخ کرتے ہیں، جبکہ چھٹی اور تہواروں کے موقع پر یہاں تل دھرنے کو جگہ نہیں ملتی۔ اس کی خاص وجہ شہرت یہ ہے کہ یہاں بچوں اور نوجوانوں کی تفریح کے لئے دیوہیکل جھولے اور ایڈونچر سپورٹس کا اہتمام ہے۔یہ فیملی پارک ہے، پورے پاکستان سے سکولوں، کالجوں اور اداروں کے تفریحی ٹرپ یہاں آتے ہیں۔ گلشن پارک، مون مارکیٹ اقبال ٹاؤن میں واقع میرے آفس سے چند فرلانگ کے فاصلے پر واقع ہے، میں گزشتہ دس سال سے اس کی رونقیں دیکھ رہا ہوں، لیکن آج اس کو لہو لہو دیکھ کر دل دھل گیا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حالیہ چند برسوں میں لاہور میں علامہ اقبال ٹاؤن دہشت گردوں کی کارروائیوں کا مرکز رہا ہے۔ 13 دسمبر 2008 ء کو اسی گلشن اقبال پارک سے چند فرلانگ کی دوری پر واقع دبئی چوک ،مون مارکیٹ میں خود کش دھماکہ ہوا تھا جس میں پولیس اہلکاروں سمیت 20سے زائد افراد شہید ہوئے تھے۔ اگلے ہی سال 7 دسمبر 2009کو اسی جگہ پر مون مارکیٹ کے اندر پے در پے دو خود کش دھماکوں کے نتیجے میں 70معصوم شہری شہید کر دیئے گئے تھے۔ آج چھ سال کے بعد دہشت گردوں نے ایک بار لاہور میں اقبال ٹاؤن کو ہی نشانہ بنایا ہے ۔

یہ واقعہ یقینی طور پر حال ہی میں بلوچستان سے ’’را‘‘ کے ایجنٹ کی گرفتاری کا رد عمل ہے۔ بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کا پاکستان کے اندر ایک مضبوط جال پچھا ہوا ہے، جسے توڑنے کے لئے ابھی وقت درکار ہو گا۔ ’’را‘‘ سی آئی اے، موساد اور بلیک واٹر کا نیٹ ورک پاکستان میں پرویزمشرف دور میں مضبوط ہوا، جب انہوں نے اپنی ساری توجہ اور توانائیاں اپنے غیرقانونی اقتدار کو قائم رکھنے پر مرکوز کی ہوئی تھیں۔اس وقت اطلاعات تھیں کہ ان خفیہ ایجنسیوں کے 12 ہزار افراد پاکستان میں داخل ہو چکے ہیں، لیکن گزشتہ دونوں ادوار میں ان ایجنسیوں کے خلاف کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا گیا، نتیجتاً پورا ملک دہشت گرد حملوں سے گونجتا رہا۔ 2004 ء کے بعد سے آج تک پاکستان میں ہونے والی تمام تر کارروائیوں کو انہی خفیہ ایجنسیوں نے پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔

اب یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ پاکستان میں ہونے والی تمام تر دہشت گردی کا ذمہ دار بھارت ہے۔ وہ کھلم کھلا پاکستان کے اندر ہونے والی دہشت گردی کو سپورٹ کر رہا ہے۔ دہشت گردوں کو فنانس، ٹریننگ اور ہتھیار مہیا کرتا ہے۔ پاکستان کے پاس بھارتی مداخلت کے ٹھوس شواہد بھی موجود ہیں جو پاکستان نے امریکہ اور اقوام متحدہ کو بھی دیئے ہیں، لیکن بھارت کے خلاف ابھی تک کوئی عالمی دباؤ سامنے نہیں آیا۔ جنرل راحیل شریف کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے ان خفیہ ایجنسیوں کا گٹھ جوڑکمزور کر دیا ہے۔ بہت سی این جی اوز جاسوسی کا کام کر رہی تھیں، ان کا بھی خاتمہ کر دیا گیاہے، لیکن مکمل خاتمے میں ابھی اور وقت لگے گا۔ ابھی ہمیں اور زخم سہنے ہوں گے، اور قربانیاں دینا ہوں گا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران ، بیوروکریٹ اور ذمہ دار عوام کا بھی کچھ خیال کریں، کچھ سیکیورٹی عوامی مقامات اور تفریح گاہوں پر بھی لگا دیں۔ ڈی آئی جی آپریشن حیدر اشرف سے درخواست ہے کہ وہ گلشن اقبال پارک میں ناقص پولیس سیکیورٹی کا نوٹس لیں اور عوامی مقامات پر عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائیں۔ دہشت گردوں کو شکست دینے کے لئے پولیس کو بھی پاک آرمی کی طرح اپنی اصلاح کرنا ہوگی۔ بھارتی مداخلت کا بھی حتمی تدارک ضروری ہے، کیونکہ جب تک بھارت کی مداخلت نہیں روکی جاتی ،دہشت گردی کی کارروائیاں ہوتی رہیں گی۔

مزید :

کالم -