یوم پاکستان کے سلسلے میں قرأت و نعتیہ مقابلوں کا انعقاد

یوم پاکستان کے سلسلے میں قرأت و نعتیہ مقابلوں کا انعقاد
یوم پاکستان کے سلسلے میں قرأت و نعتیہ مقابلوں کا انعقاد

  

ملک بھر میں یوم پاکستان قومی وملی جوش و جذبے سے منایا گیا۔یوں تو یہ دن ہر سا ل منایا جاتا ہے، مگر اس مرتبہ وزیر اعلیٰ محمد شہبازشریف کی ولولہ انگیز قیادت میں’’ یوم پاکستا ن ‘‘کی اساس اور روح کو حقیقی معنوں میں اجاگر کرنے اور نوجوان نسل کو اس کی اہمیت سے روشناس کرانے کے لئے بھرپور انداز میں منانے کا اعلان کیا گیا اور اس سلسلے میں ضلع، ڈویژن اور صوبائی سطح پر پورا ہفتہ تقریبات منائی گئیں۔۔۔ زندہ قومیں اپنے شاندار ماضی اور قومی اہمیت کے حامل دنو ں کو کبھی فراموش نہیں کرتیں ، بلکہ اپنے قائدین اور مفکرین کے اقوال کی روشنی میں اپنے مستقبل کا تعین کرتی ہیں ۔اس سال یوم پاکستان جس شایان شان طریقے سے منانے کا اہتمام کیا گیا، اس سے دنیا کو یہ باور کرایاگیا کہ پاکستانی ایک زندہ او ربھرپور قوم ہے۔نوجوان ہمارے سنہرے مستقبل کی نوید اور عالمی سطح پر ہمارے وقار، عزت اور ترقی کی علامت ہیں۔ نوجوانوں نے اپنی صلاحیتوں سے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیاہے اور یہی نوجوان ہمارا فخر اور سرمایہ ہیں۔ یوم پاکستان کی تقریبات کے سلسلے میں ضلعی،ڈویژن اور صوبائی سطح پر سیمینارز کا اہتمام کیا گیا۔ خصوصاً صوبائی دارالحکومت میں ’’یوم پاکستان‘‘ پریڈ منعقد ہوئی،جن میں مختلف محکموں کے فلوٹس نے حصہ لیا۔ پریڈ میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

حکومت پنجاب نے نوجوان طلبہ وطالبات میں چھپی قائدانہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لئے حسن قرأت اور نعتیہ مقابلے منعقد کرانے کا اعلان کیا۔یہ مقابلے کالج ،تحصیل، ضلع، ڈویژن او رصوبائی سطح پر منعقد کرائے گئے۔حسن قرأت اور نعتیہ مقابلوں میں نمایاں پوزیشنین حاصل کرنے والے طلبہ وطالبات میں انعامات دینے کی تقریب ایوان اقبال میں منعقدہوئی۔صوبائی وزیر ایکسائزاینڈ ٹیکسیشن مجتبیٰ شجاع الرحمن اور صوبائی وزیر ذکیہ شاہنواز مہمان خصوصی تھیں۔ صوبے بھر میں حسن قرأت کے مقابلوں میں گورنمنٹ علامہ ا قبا ل پوسٹ گریجوایٹ کالج سیالکوٹ کے طالبعلم حافظ کامران نے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ گورنمنٹ اسلامیہ پوسٹ گریجوایٹ کالج چنیوٹ کے طالبعلم محمد شعیب نے دوسری او رگورنمنٹ ڈگری کالج حضرو کے عمیر خان نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ اسی طرح نعتیہ مقابلوں میں مرے کالج سیالکوٹ کے محسن علی نے پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج مظفر گڑھ کے ثاقب ریاض نے دوسری او رگورنمنٹ کالج آف کامرس ساہیوال کے محمد ایوب نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ قرارداد پاکستان مفکر پاکستان حضرت علامہ محمد اقبالؒ نے پیش کی تھی، جن کا تعلق سیالکوٹ سے تھا،جبکہ یوم پاکستان کے موقع پر ہو نے والے حسن قرأت اور نعتیہ مقابلوں میں پہلی دونوں پوزیشنیں بھی علامہ اقبالؒ کے شہر سیالکوٹ کے طالب علموں نے حاصل کیں۔

اسی طرح طالبات کے مقابلوں میں گورنمنٹ کالج برائے وومن ٹوبہ ٹیک سنگھ کی طالبہ عائشہ بلال نے پہلی ، گورنمنٹ کالج برائے خواتین بہاولپور کی طالبہ حافظہ میمونہ اشرف نے دوسری اور گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج برائے خواتین سرگودھا کی خدیجہ مشتاق نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ نعتیہ مقابلوں میں گورنمنٹ اسلامیہ کالج برائے خواتین لاہور کینٹ کی تطہیرفاطمہ نے پہلی، گورنمنٹ پوسٹ گرایجویٹ کالج برائے خواتین سٹیلائٹ گوجرانوالہ کی ماہ نور نواز نے دوسری اور گورنمنٹ کالج برائے خواتین سمن آباد فیصل آباد کی اریبہ جبین نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔صوبائی وزراء نے حسن قرأت اور نعتیہ مقابلوں میں اول آنے والے طالبعلم و طالبہ کو ایک ایک لاکھ روپے، جبکہ دوسری پوزیشن حاصل کرنے والوں کو 75 ،75 ہزار روپے اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے طالبعلموں کو 50 ،50 ہزار روپے نقد انعامات اوراسنادپیش کیں۔

یوم پاکستان کے سلسلے میں ایوان اقبال میں23مارچ کو تقریب منعقد ہوئی، جس میں وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف مہمان خصوصی تھے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یوم پاکستان کے عظیم اور تاریخی دن کے موقع پر میں قوم سے وعدہ کرتا ہوں کہ آخری بچے کے سکول داخلے، غربت ، بے روزگاری ، جہالت کے اندھیرے دور کرنے ، سفارش ، دھونس دھاندلی، کرپشن، نا انصافی اور لوٹ کھسوٹ کے نظام کو ہمیشہ کے لئے دفن کرنے تک چین سے نہیں بیٹھوں گا، اس سفر میں معاشرے کے ہر طبقے کو میرا ساتھ دینا ہے، ہم سب نے مل کرایک ٹیم کے طور پر اس مشکل سفر کو طے کرنا ہے ۔ قرار داد پاکستان کی لاج رکھتے ہوئے محنت، امانت، صداقت اور دیانت کو شعار بنا کر آگے بڑھنا ہے ۔ملک کو بانیان پاکستان کے تصورات کے مطابق صحیح معنوں میں ایسی فلاحی اسلامی ریاست بنانا ہے، جہاں ہر شہری کو بلاامتیاز رنگ و نسل آگے بڑھنے کے یکساں مواقع حاصل ہوں ۔ انصاف ، میرٹ اور قانون کی حکمرانی سکہ رائج الوقت ہو اوراس منزل کے حصول کے لئے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنا ہے ۔ سفر مشکل اورطویل ضرور ہے، لیکن ناممکن نہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ تحریک قیام پاکستان اورقرار داد پاکستان والے جذبے کو زندہ کر کے ہم منزل حاصل کرسکتے ہیں ۔

وزیراعلی محمد شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ23مارچ پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی اہم دن ہے ۔ 23 مارچ 1940 ء کو قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں ہندوستان کے کونے کونے سے مسلمان منٹوپارک میں اکٹھے ہوئے اور قائد اعظمؒ کی کرشماتی قیادت میں صرف 7 سال کے عرصے میں مسلمان ایک علیحدہ مملکت کے حصول میں کامیاب ہوئے۔قائد اعظمؒ کی قیادت میں اکٹھے ہونے والے سب لوگ متحد اور پُرعزم تھے اور ایک نیک مقصد کے لئے جدوجہد میں شریک تھے۔ان میں نہ کوئی شیعہ تھا اور نہ کوئی بریلوی ، نہ ہی کوئی اہل حدیث اورنہ کوئی دیوبند ، سب کے سب متحد ہو کر ایک علیحدہ وطن کے حصول کے لئے جدوجہد کر رہے تھے ، لیکن آج قوم فرقوں اور گروہوں میں بٹی ہوئی ہے اور ہر ایک نے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائی ہوئی ہے۔ ہمیں جائزہ لینا ہے کہ اس تاریخی دن کو گزرے 76 سال ہو چکے ہیں، کیا ہم نے قائد اعظمؒ کی روح اور تحریک پاکستان کے عظیم شہداء کی لازوال قربانیوں کے ساتھ کیا انصاف کیا ہے ؟آیا ہم نے وطن عزیز کے حصول کی تحریک میں جانیں نچھاور کرنے والوں کا حق ادا کر دیا ہے؟ کیا ہم یوم پاکستان کے موقع پر ہر سال قائداعظمؒ کی روح سے کرنے والے وعدے کو نبھا رہے ہیں؟ ہمیں کھلے دل سے جائزہ لینا ہے کہ آج ہم کہاں کھڑے ہیں ؟انہوں نے کہا کہ جو قومیں ہم سے پیچھے تھیں، وہ آج آگے نکل چکی ہیں اوراس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے قائدؒ اور اقبال ؒ کے سبق کو بھلا دیا ہے۔

وزیراعظم محمد نواز شریف کی قیادت میں پاکستان ایٹمی قوت تو ضرور بنا ہے اور اس کا دفاع بھی ناقابل تسخیر ہوا ہے ۔ دشمن پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا اور اگر کسی نے وطن عزیز کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی تو قوم اس کی آنکھیں نکال دے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ایٹمی قوت ہونے کے باوجود پاکستان معاشی طور پر مضبوط ملک نہیں بن سکااور کوئی قوم کشکول اٹھا کر ترقی نہیں کر سکتی۔دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ کشکول لے کر پھرنے والی کسی قوم نے آج تک ترقی نہیں کی ۔ چین ، یورپ ، امریکہ اور دیگر اسلامی ممالک نے محنت ، امانت اور دیانت کو شعار بنا کر ہی ترقی کا سفر طے کیا ہے، اس کے علاوہ ترقی کا کوئی اور راستہ نہیں۔انہوں نے کہا کہ یوم پاکستان کے تاریخی دن کے موقع پر میرا وعدہ ہے کہ سماجی، معاشی اور معاشرتی انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں گے ، بے روزگاری اور غربت کے خاتمے اور لوٹ کھسوٹ کے نظام کو ختم کریں گے اورکسی صورت عوام کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچائیں گے ۔ وزیر اعلیٰ نے تقریب میں موجود نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ پاکستان کا تابناک مستقبل ہیں، کیونکہ ملک کی بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ملک کے عوام نوجوانوں کی طرف ہی دیکھ رہے ہیں ۔ نوجوان پاکستان کا قیمتی سرمایہ ہیں، جنہیں ملک وقوم کی ترقی و خوشحالی میں اپنا کردار ادا کرنا ہے، اس ضمن میں ہم نوجوانوں کو با اختیار بنا کر دم لیں گے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ساڑھے سات برس میں عوام کی بے لوث خدمت کی ہے اور خدمت خلق کا یہ سفر آئندہ بھی جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ میرے تمام ادوار میں اگر مجھ پر رتی برابر کرپشن ثابت ہو جائے تو میں قوم سے معافی مانگ کر سیاسی عمل سے علیحدہ ہو جاؤں گا۔

مزید :

کالم -