پاک سر زمین پولیٹیکل پارٹی

پاک سر زمین پولیٹیکل پارٹی
پاک سر زمین پولیٹیکل پارٹی

  

جی ہاں اس کالم کا عنوان ہی اس سیاسی جماعت کا پورا نام رکھا گیا ہے جسے مصطفی کمال اینڈ کمپنی نے قائم کیا ہے ۔ پاکستان الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ دو سو سے زائد سیاسی جماعتوں میں تاز ہ ترین یہ نئی سیاسی جماعت ہے۔ پاک سر زمین اس سر زمین یا عوام کو کتنا شاد باد کر سکے گی یا نہیں، یہ تو کسی سفر کے بعد ہی طے ہو سکے گا۔ مصطفی کمال کی 24 مارچ کو حیدرآباد آمد کے موقع پر دوستوں نے مجھ سے کئی سوالات کئے۔ میں نے سوچا ان ہی سوالات کے جوابات پر مبنی کالم تحریر کر دیا جائے۔ مصطفی کمال ہوں یا انیس قائم خانی، ایم کیو ایم سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا حتمی خیال انہیں 19 مئی 2013 کو اس وقت آیا جب ایم کیو ایم کے کراچی دفتر پر لندن سے آئی ہوئی ہدایت پر کارکنوں نے مقامی رہنماؤں کی گوش مالی کی۔ لندن نے ایسا کیوں کرایا ؟ دو خیال ہیں۔ دیکھا جائے کہ کارکن لندن کی ہدایت پر کیا کچھ کر سکتے ہیں ؟ یہ بھی دیکھا جائے کہ کھلے عام گوشمالی کے بعد بھی رہنماء قائد یا پارٹی کے ساتھ کتنے وفادار رہتے ہیں۔ انیس قائم خانی ان لوگوں میں شامل ہیں جو ایم کیو ایم کے قیام کے وقت سے ہر موسم میں قائد تحریک کے ساتھ کھڑے رہے ۔ وہ کہہ رہے تھے کہ میں انسان ہوں، کتا نہیں کہ ہر معاملہ پر دم ہلا دوں۔ کتے اور گھوڑے کی وفادری میں بھی فرق ہوتا ہے۔ میں نے 19 مئی کے واقعہ کے موقع پر ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ اب میں ساتھ نہیں چل سکتا ۔

پہلا سوال ہر ایک نے یہ کیا کہ حیدرآباد میں ان کا استقبال کیسا ہوا ؟ لطیف آبادکے ایک ایسے محلہ میں جہاں متوسط طبقے کے تعلیم یافتہ لوگ تین سو مربع گز پر تعمیر مکانات میں رہائش رکھتے ہوں، کوئی ملازمت پیشہ ہویا کوئی تجارت کرتا ہو، ایسے علاقہ میں رہائشی مکان میں قائم کئے جانے والے دفتر کا افتتاح کرنے آئے تھے۔ مقامی منتظمین اپنی ناتجربہ کاری کی وجہ سے گلی میں ہی کرسیاں لگا بیٹھے جن کی تعداد ایک سو سے زیادہ نہیں تھی۔ جب مصطفی کمال پہنچ گئے، کارروائی کا آغاز ہوا تو مجمع نے ان کا پر جوش خیر مقدم کیا۔ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ مجمع بڑا ہو یا چھوٹا، دوران تقریر، کس طرح کا رد عمل دیتا ہے۔ یہ چھوٹا مجمع ضرور تھا لیکن نوجوان پر جوش تھے۔ تالیاں بجارہے تھے مصطفی کمال کے حق میں نعرے لگا رہے تھے ۔ جلسے میں کون لوگ تھے ؟ افتتاحی تقریب میں اردو زبان بولنے والوں کے علاوہ سندھی زبان اور پنجابی زبان بولنے والے لوگ بھی خال خال موجود تھے ۔ خواتین بھی موجود تھیں۔ یہ سماں ویسا ہی تھا جیساتین سال قبل حیدرآباد میں عمران خان کے جلسے کے موقع پر میں نے دیکھا تھا۔ لوگ رنگ و نسل اور زبان کی تمیز کے بغیر شریک تھے ۔ مجھے ایسا لگا تھا کہ حیدرآباد کی آبادی کا کوئی حصہ ایسا بھی ہے جو رنگ و نسل، لسان و زبان، فرقہ و مسلک کے بغیر سیاسی جماعت کا متلاشی ہے۔ جب اس کی تلاش پوری ہو۔ دفتر کے آغاز سے قبل ہی دفتر میں لوگ رکنیت سازی کا فارم بھر رہے تھے۔ خواتین بھی فارم طلب کر رہی تھیں۔ کسی نومولود سیاسی جماعت کی مقبولیت کے کئی ثبوت موجود تھے۔

سوال کیا گیا کہ پاک سر زمین کی پشت پر اسٹبلشمنٹ کا ہاتھ ہے یا نہیں ؟ پاکستان میں جہاں لوگ ہر کام اور ہر قدم پر کسی نہ کسی سازش کی بو سونگھتے ہوں، اس سوال کا جواب دینا آسان نہیں ہے۔ لیکن بعض معاملات وضاحت طلب ہیں۔ پارٹی کو قائم کرنے کے لئے اب تک جو بھی اخراجات ہورہے ہیں، وہ کوئی معمولی رقم نہیں ہے، دفاتر کے حصول سے لے کر ان کی آرائش و زیبائش تک، پر چموں کی بہار ، وغیرہ کے لئے رقم درکار ہوتی ہے۔ کہیں نہ کہیں سے سرمایہ کاری تو ہو رہی ہے۔ پھر جس کر و فر کی گاڑیاں رہنماؤں کے استعمال میں ہیں، وہ بھی کوئی دوست کیوں کر دے گا؟ پاکستان کی سیاست میں سرمایہ کاری کی جاتی رہی ہے۔ لوگ چندہ بھی دیتے ہیں ۔ حیدرآباد میں بھی ایک نوجوان مصطفی کمال کو کچھ رقم دینا چاہتا تھا جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ بنک آکاوئنٹ کھلنے دو، پھر جمع کرا دینا۔ جو بھی اخراجات ہو رہے ہیں ، وہ کہیں نہ کہیں سے پورے تو کئے جارہے ہیں۔ مصطفی کمال بھارتی سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کے طرز پر پاک سر زمین کے آمدنی و اخراجات کو ویب سائٹ پر رکھنا چاہتے ہیں تاکہ ہر شخص دیکھ سکے۔

سوال کیا گیا کہ کیا انہیں (پولس یا اسٹبلشمنٹ ) مکمل تحفظ فراہم کیا گیا تھا ؟ میر اجواب ہے کہ مکمل کا تو مجھے اندازہ نہیں لیکن پولس موجود تھی جو عام طور پر اب جلسے جلوسوں میں ہوتی ہے۔ مصطفی کمال جب آئے تو پولس کمانڈو کا ایک دستہ بھی موجود تھا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ بھی اپنی کارروائی میں مصروف تھا ۔ عام سا تحفظ تھا۔ ان کے ساتھ نجی سیکورٹی سروس کے گارڈ بھی موجود تھے ۔ کسی نے سوال کیا کہ ایم کیو ایم کا رد عمل کیا ہو سکتا ہے ۔ میرا جواب تھا کہ ابھی تک کچھ نہیں ہے۔ جس روز پاک سر زمین اپنے دفتر کا افتتاح کر رہی تھی اسی روز حیدرآباد میں ایم کیو ایم اپنے قائد کے ساتھ اظہار یکجہتی کے جلوس نکا ل رہی تھی۔ ان جلوسوں کا اہتمام مختلف رہائشی بستیوں سے کیا گیا تھا جو پریس کلب پر جمع ہوئی تھیں۔ وہ قوت کا مظاہرہ بھی تھا اور اپنے لوگوں کو کسی سرگرمی میں مشغول رکھنے کی کوشش بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ انیس قائم خانی کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی پرو ڈکٹ (مصنوعات) لوگوں کے سامنے رکھ دی ہیں، لوگوں کا کام ہے اگر وہ نئی پرو ڈکٹ خریدنا چاہتے ہیں تو خریدیں۔ انیس نے اپنے دوستوں کو بتایا کہ انہوں نے طے کیا تھا کہ اگر پارٹی کے قیام کے اعلان کے دس روز کے اندر لوگوں کا مثبت ردعمل نہیں آیا تووہ واپس چلے جا ئیں گے۔ ان کے خیال میں یہاں تو لوگ شائد انتظار میں بیٹھے تھے ۔ مصطفی کمال اور انیس اور دیگر رہنماء حیران ہیں کہ ابھی ایک ماہ مکمل نہیں ہوا ہے اور لوگ ان کے کارواں میں شامل ہونے کے لئے تیار ہیں۔

ایک اور سوال کیا گیا کہ کیا ایم کیو ایم کے رد عمل کا بھی لوگوں میں بدستور خوف ہے ؟ کراچی میں رینجرز کے آپریشن کے بعد ایم کیو ایم کے سرگرم کارکن غیر فعال ہو گئے ہیں۔ جب ایم کیو ایم کے سامنے اکھاڑے میں نیا پہلوان اترا ہے تو لوگوں نے نئے پہلوان کی آمد پر تالیاں بجائی ہیں ۔ وہ پرانے اور نئے پہلوانوں کے درمیان مقابلہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایم کیو ایم کی قیادت چونکہ طویل عرصے سے ملک سے باہر ہے اور اب تو معاملات کو پندرہ رکنی کمیٹی سنبھال رہی ہے جس کی سربراہی ندیم نصرت کر رہے ہیں۔ ندیم نصرت سرگرم کارکنوں کے ساتھ براہ راست رابطے میں نہیں ہیں۔ فون کے ذریعہ فاصلے ختم نہیں ہوتے ہیں۔ قائد تحریک بڑھاپے کی دہلیز میں داخل ہو چکے ہیں۔ ان کی صحت ان کے داؤ پیچ کا ساتھ نہیں دے رہی ہے۔ مصطفی کمال ہوں یا انیس قائم خانی، قائد تحریک کے مقابلے میں ان کی عمر کے تقاضے مختلف ہیں، ان میں زیادہ ہی سرگرم رہنے کا عنصر موجود ہے ۔ صلاحیتوں اور عمر کے تقاضے تبدیل ہو چکے ہیں۔ قائد تحریک کا داؤ پر جو کچھ لگا ہوا ہوتا تھا وہ سب کچھ ندیم نصرت یا دیگر چودہ اراکین رابطہ کمیٹی کا داؤ پر نہیں لگا ہوا ہے۔ ایم کیو ایم کا قیام ، اس کے مقاصد کے بارے میں جس قدر اہمیت کا اندازہ قائد تحریک کو ہے وہ کسی اور کو نہیں ہوگا ۔ سوال کیا گیا کہ ایم کیو ایم کے مقابلے میں پاک سر زمین کا کیا مستقبل ہے ؟ میرا جواب ہے کہ سیاسی جماعتوں کا مستقبل عام انتخابات کے ذریعہ طے ہوتا ہے جو ان کی مقبولیت کا پیمانہ بھی تصور کیا جاتا ہے ۔ عام انتخابات میں ابھی دو سال کا عرصہ باقی ہے۔ اگر پاک سر زمین پارٹی لوگوں میں مقبولیت بھی حاصل کرتی ہے تو بھی فیصلہ تو عام انتخابات میں ہی ہوگا۔

اس تماش گاہ میں عام لوگ بہر حال علاقائی، لسانی، مذہبی سیاست کرنے والی جماعتوں سے بے زار ہو گئے ہیں۔ ن لیگ کو پنجاب کی جماعت ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی کو سندھیوں کی جماعت قرار دیا جاتا ہے، ایم کیو ایم کو مہاجروں کی جماعت قرار دیا جاتا ہے، عوامی نیشنل پارٹی کو پختونوں کی جماعت کہا جاتا ہے، تحریک انصاف میں کچھ دم خم نظر آرہا تھا جسے عمران خان اور وہ خود اور ان کے وہ دوست ختم کر بیٹھے جنہیں سمجھ نہیں آتا کہ ’’ آنکھ اوجھل، پہاڑ اوجھل ‘‘ کیوں کہا جاتا ہے۔ مذہبی جماعتیں اپنے اپنے فرقے اور مسلک کے معاملات میں گھری ہوئی ہیں۔ پھر سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کا اسی پکوان کی دوکان پر ہجوم ہے جسے ٹی وی چینل قرار دیا جاتا ہے۔ قائدین اور رہنماء سمجھتے ہیں کہ عام لوگوں میں بیٹھنے کی بجائے ٹی وی چینل پر بیٹھ کو کام نکل سکتا ہے تو عام لوگوں سے ہاتھ بھی کیوں ملایا جائے۔ انہیں8 ادراک ہی نہیں ہے کہ عام پاکستانی پاکستانیوں کی کسی سیاسی جماعت کے متلاشی ہیں جو ان کے روز مرہ کے علاوہ بنیادی مسائل کا حل پیش کر سکے ۔

مزید :

کالم -