جسم وجاں زخمی، قلب وروح زخمی!

جسم وجاں زخمی، قلب وروح زخمی!
 جسم وجاں زخمی، قلب وروح زخمی!

  


27مارچ2016ء کا دن پاکستان کی تاریخ کا ایک اور انتہائی اندوہناک اور سیاہ دن بن گیا ہے۔ اس کے زخم مدتوں تک مندمل نہیں ہوسکیں گے۔ لاہور اور اسلام آباد دونوں مقامات پر ایسے واقعات رونما ہوئے جو انتہائی افسوس کا باعث بنے۔ لاہور میں گلشن اقبال پارک میں اتوار کی تعطیل اور دیگر تعطیلات کے دوران بے شمار لوگ سیر کے لئے آتے ہیں۔ 27مارچ کو بھی بہت بڑی تعداد میں معصوم بچے اور ان کے والدین، دیگر شہروں سے آئے ہوئے مختلف لوگوں کے مہمان اور پُرامن شہری گلشن پارک میں کچھ وقت گزارنے کے لئے داخل ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق ہرچھٹی کے روز اس پارک میں بڑی تعداد میں لوگوں کی آمدورفت ہوتی ہے۔ یہ ایک حساس مقام ہے، جس کی سیکیورٹی کا خاص طور پر اہتمام کیا جاتا ہے۔ کل کے واقعہ نے یہ پول بھی کھول دیا ہے کہ ہمارے انتہائی اہم اور حساس مقامات پر ہماری سیکیورٹی کی کیا صورت حال ہے۔ ایک سنگ دل اور انسانیت دشمن درندہ بہت طاقت ور بم کے ساتھ گلشن پارک کے گیٹ پر آیا۔ سیکیورٹی کا عملہ ہمیشہ کی طرح اس دہشت گرد کو ٹریس نہ کرسکا۔

اطلاعات کے مطابق بدبخت شقی القلب درندے نے اپنے نچلے دھڑ کے ساتھ دھماکہ خیز مواد باندھ رکھا تھا۔ گلشن پارک کے گیٹ پر وہ سیکیورٹی عملے کی طرف سے تلاشی کے بعد اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ ہر جانب ہجوم ہی ہجوم تھا۔ اس بدبخت نے لوگوں کے درمیان خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا اور اپنی مردود موت کے علاوہ سینکڑوں بے گناہ لوگوں کو شدید زخمی کیا۔ زخمیوں میں سے ایک بڑی تعداد کے پرخچے اڑ گئے اور وہ موقع پر ہی شہید ہوگئے۔ مزید زخمیوں میں سے اب تک کی اطلاعات کے مطابق کم وبیش72کے لگ بھگ بے گناہ مرد، عورتیں او ربالخصوص پھول جیسے معصوم بچے موت کی وادی میں اتر چکے ہیں۔ ان کے علاوہ بھی سینکڑوں زخمی ہسپتالوں میں نازک حالت میں ہیں۔ بہت سے شہدا ،جن کے جسم کے چیتھڑے اڑ گئے، اب تک پہچانے نہیں جاسکے۔ یہ سانحہ رونما ہوا تو پورے شہر، بلکہ ملک بھر میں ایک کہرام مچ گیا۔ میڈیا پر جو خبریں اور تصویریں آنا شروع ہوئیں، انہوں نے لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ کئی لوگوں کے لئے آنسو روکنا ناممکن ہوگیا۔

لاہور کا یہ واقعہ کیوں اور کیسے ہوا، اس کی حقیقت کب معلوم ہوسکے گی، کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ البتہ ’’را‘‘ کے ایجنٹ کے انکشافات اور اس کے نیٹ ورک کی موجودگی کا اعتراف یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ انڈیا اپنی خباثت اور انتقامی کارروائیاں آگے بڑھانے کی جسارت کررہا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق خود کش بمبار کے بارے میں یہ انکشاف ہوگیا ہے کہ وہ کون ہے۔ اس کا شناختی کارڈ اور موبائل بھی سیکیورٹی اداروں کے قبضے میں آگیا ہے۔

اس واقعہ کی خبریں آنا شروع ہوئیں تو کئی لوگوں نے بتایا کہ ان کا بھی گلشن پارک جانے کا پروگرام تھا، مگر کوئی مجبوری ایسی حائل ہوگئی کہ پروگرام ملتوی کرنا پڑا۔ کسی کے ہاں اچانک مہمان آگئے، کسی کو ایمرجنسی میں اپنے کسی عزیز کے لئے ہسپتال جانا پڑا ، ایک نوجوان کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ اپنی موٹر سائیکل پر اپنے بچوں کے ساتھ سیر کے لئے گلشن پارک جارہا تھا کہ اس کی موٹرسائیکل راستے میں جواب دے گئی۔ اسی دوران یہ خبریں آنا شروع ہوگئیں کہ پارک میں دھماکہ ہوگیا ہے۔ جن دوستوں کو اچانک کسی مسئلے کی وجہ سے پروگرام منسوخ کرنا پڑا، ان کے بچے شدید شاکی تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی اپنی مشیت ہوتی ہے اور کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ خیریت وخیر کس چیز اور کس کام میں ہے۔ اس سانحہ میں جو شہید ہوگئے ہیں، وہ تو اپنی منزل پر پہنچ گئے، لیکن ان کے اہل وعیال، عزیزواقارب اور دوست احباب، جس کرب واذیت میں مبتلا ہیں، اس کا اندازہ ہر صاحبِ دل اور صاحبِ ضمیر انسان کرسکتا ہے۔ کئی خاندان پورے کے پورے اس درندگی کا شکار ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ ان کو آخرت میں بہت زیادہ اجر عطا فرمائے کہ وہ بے گناہ اس ظلم کی بھینٹ چڑھ گئے۔ کئی خاندان دیگر علاقوں سے بطور مہمان آئے ہوئے تھے، مگر اجل انہیں بھی موت کی وادی میں لے گئی۔ انّا للہ وانّا الیہ راجعون۔۔۔ بے شمار خاندان مارے مارے پھر رہے ہیں کہ ان کے پیاروں، بالخصوص بچوں کی نہ لاشیں ملی ہیں اور نہ اب تک انھیں پتا چل سکا ہے کہ وہ زخمی ہیں تو کہاں ہیں۔ ایسے واقعہ پر اللہ سے ہی مدد مانگی جاسکتی ہے ۔

مزید : کالم


loading...