حکومت کہاں ہے؟فوج کہاں ہے؟ عدلیہ کہاں ہے؟

حکومت کہاں ہے؟فوج کہاں ہے؟ عدلیہ کہاں ہے؟
حکومت کہاں ہے؟فوج کہاں ہے؟ عدلیہ کہاں ہے؟

  


آج (سوموار) صبح بیدار ہوا تو غم اور غصے سے طبیعت نڈھال تھی۔ کل اتوار کا دن تھا۔ ہمارے ہاں مارچ کا مہینہ شادیوں اور پارٹیوں کا مہینہ ہوتا ہے۔ ہر طرف پھول کھلے ہوتے ہیں اور بہاریں چھا رہی ہوتی ہیں۔ رات ’’ڈیفنس آفیسرز سروسز میس (De SOM) لاہور کینٹ میں کینیڈا سے آئے ہوئے ایک عزیز نے ڈنر پر بلا رکھا تھا۔ نشستوں اور کھانے وغیرہ کا انتظام میس کے وسیع و عریض گھاس کے سرسبز لانوں میں تھا۔ میں اور بیٹی تیار ہو کر جب وہاں پہنچے تو لان میں لگی ہوئی دیوقامت ٹی وی سکرین پر خبریں چل رہی تھیں۔ سکرین ہم سے تقریباً 30گز دور تھی۔ ویسے بھی یہ ایک معمول ہے۔ بچے اور بچیاں لانوں میں بھاگتی اور کھیلتی کودتی نظر آتی ہیں۔ لیکن آج سارے لان خالی تھے۔ ناگہاں میں نے پیچھے مڑ کر سکرین پر نگاہ ڈالی تو اقبال ٹاؤن کے گلشن اقبال پارک کی لائیو کوریج چل رہی تھی۔ سارے لوگ خاموش اور بت بنے سکرین پر نگاہیں جمائے بیٹھے تھے۔ کچھ کھڑے بھی تھے۔ میں نے عمر بلاک (اقبال ٹاؤن) میں اپنے برادرِ نسبتی کو کال کیا لیکن ان کا موبائل مصروف جا رہا تھا۔ پھر میں نے لینڈ لائن پر کال کی تو وہ بھی مصروف تھی اور مسلسل مصروف ہی رہی۔

اس حادثہ ء جانکاہ کی لمحہ بہ لمحہ تفصیلات ٹیلی ویژن پر آ رہی تھیں اور مہمان بھی آہستہ آہستہ چلے آ رہے تھے۔کیا فوجی اور کیا سویلین، کیا مرد اور کیا خواتین سب کی زبان پر اس حادثے کا ذکر تھا۔ مدعوین میں تقریباً پانچ سات خواتین ڈاکٹر بھی تھیں۔ ان کے موبائل کی گھنٹیاں بج رہی تھیں اور وہ میزبان سے اجازت مانگ رہی تھیں۔ کوئی جناح ہسپتال میں جا رہی تھی تو کوئی جنرل ہسپتال میں اور کوئی سروسز ہسپتال میں۔ ان کے میاں اور بچے بھی ساتھ ہی رخصت ہو گئے اور جو باقی بچے وہ بھی میری طرح غم و غصے سے افسردہ بھی تھے اور تمتما بھی رہے تھے۔ سب کی زبان پر ایک ہی سوال تھا: ’’حکومت کدھر ہے؟‘‘

پھر ساتھ ہی اسلام آباد سے خبریں فلیش ہونے لگیں۔ بتایا جا رہا تھا کہ مظاہرین D چوک تک پہنچ گئے ہیں۔ پولیس، فرنٹیئر کور اور رینجرز کے اہلکار زخمی ہو رہے تھے اور ہجوم بتدریج آگے بڑھ رہا تھا۔ رات کے گھپ اندھیرے میں کشادہ شاہراہ پر جگہ جگہ آگ کے بھیانک الاؤ جل رہے تھے اور لگتا تھا، آسمانوں سے شیاطین اتر کر رقص کناں ہیں۔ مجھے بالکل معلوم نہ تھا کہ یہ کون لوگ ہیں، احتجاج کیوں کیا جا رہا ہے، آتش زنی کیوں ہو رہی ہے اور جلوس پارلیمنٹ کی طرف کیوں بڑھ رہا ہے۔ میں نے ایک دوست سے پوچھا کہ یہ مظاہرے کس بات پر ہو رہے ہیں؟ کیا ایشو ہے؟۔۔۔ اور جب اس نے بتایا تو میرے غم اور غصے میں مزید اضافہ ہوگیا۔ ایک طرف لاہور جیسے شہر میں آگ اور خون کی ہولی کھیلی جا رہی تھی اور عین اسی وقت دارالحکومت کے ریڈزون کے سیکیورٹی حصار کو توڑ کر ہجوم، پاکستان کی حساس ترین عمارتوں (سپریم کورٹ، پارلیمنٹ ہاؤس، وزیراعظم ہاؤس اور صدارتی محل) کی طرف دھاوا بولنے جا رہا تھا!

میں نے بھی اپنے میزبان سے پیٹ کی خرابی کا بہانہ کیا اور واپس جانے کی اجازت مانگی۔ اپنے بیٹے اور بہو کو بتایا کہ وہ اپنی بہن کو ساتھ لے آئے، میں جا رہا ہوں۔۔۔ گھر آکر سوچتا رہا کہ ایک طویل عرصے کے بعد لاہور میں یہ بڑا دھماکہ کیوں ہوا ہے اور کیا اس کا تعلق اسلام آباد کے بے ہنگم مظاہرے سے بھی کوئی ہے؟ کوئی جواب نہیں سوجھ رہا تھا۔۔۔ کیا تین روز پہلے ’’را‘‘ کے جس ایجنٹ کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا یہ دھماکہ اور مظاہرہ اس کا فال بیک تھے؟ کیا ’’را‘‘ کے لاہور اور اسلام آباد کے خوابیدہ جاسوسی نیٹ ورکس ایک دم بیدار کر دیئے گئے تھے؟ کیا یہ صورتِ حال دسمبر 1971ء میں مشرقی پاکستان کی صورت حال کے مماثل تھی کہ جب سارا مشرقی بازو شعلہء جوالہ بن گیا تھا؟ کیا آج 45برس بعد پاکستان میں وہی تاریخ دہرائی جا رہی ہے؟ کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ لاہور اور اسلام آباد کے ان دونوں حادثوں کا بیک وقت ہونا کس سبب سے ہے۔

دو روز پہلے ایران کے صدر پاکستان تشریف لائے تھے۔ اگر یہ حادثے دو دن پہلے رونما ہو گئے ہوتے تو کیا ہوتا؟ ہمارے ہمسائے (بھارت، افغانستان اور ایران) ہمارے بارے میں کیا سوچتے؟ یہ بھی معلوم نہ ہو سکا کہ حکومت نے ممتاز قادری کے چہلم کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ’’منانے‘‘ کی اجازت دیتے ہوئے اس حساس ترین ایشو کے مابعدی اثرات پر کوئی غور کیوں نہ کیا۔ اگر اس چہلم میں ہزاروں شرکاء نے حصہ لیا تھا اور اس کا پروگرام اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کا تھا تو ہمارے انٹیلی جنس ادارے کہاں تھے؟ کیاکسی نے بھی وزارت داخلہ کو آنے والی یلغار کی کوئی سُن گن نہ دی؟ آئی بی، آئی ایس آئی، ایم آئی وغیرہ کیا اسلام آباد ، راولپنڈی اور لاہور میں سو رہی تھیں؟ اگر جاگ رہی تھیں تو اس وارننگ کو میڈیا پر کیوں فلیش نہ کیا گیا۔ ایسٹر اور اتوار لاکھ تقریباتی مواقع سہی اگر عوام کو پیشگی وارننگ دے دی جاتی کہ وہ اس روز تفریح گاہوں کا رخ نہ کریں تو کم از کم اتنے معصوم اور بے گناہ بچوں، خواتین اور مردوں کی جانیں تو نہ جاتیں۔۔۔ میں انہی باتوں کو سوچتا رہا اور پریشان ہوتا رہا اور پھر آنکھ لگ گئی۔

صبح سوموار کو جاگا اور اخباروں کو دیکھا تو غم و غصہ کا گراف مزید بڑھ گیا۔ زخمی ماؤں نے اپنے پھول سے دودھ پیتے بچوں کو گود میں لیا ہوا ہے اور چیختی چلاتی نامعلوم اطراف کی طرف بھاگے جا رہی ہیں۔ ہلاک ہونے والے 70افراد میں زیادہ تعداد بچوں اور خواتین کی تھی۔ ساڑھے تین سو لوگ زخمی ہوئے تھے اور ان میں بھی نجانے اور کتنے ہوں گے جو زخموں کی تاب نہ لا سکے ہوں گے۔ اللہ کریم سے دست بدعا ہوں کہ وہ مرنے والوں کے لواحقین کو صبر عطا کرے کہ جو کچھ ہو چکا ہے وہ واپس نہیں آ سکتا، جو پھول مرجھا کر ٹہنیوں سے گر گئے ہیں وہ دوبارہ شاخوں پر نہیں ٹانکے جا سکتے!

آج حسب معمول سارا پرنٹ میڈیا لاہور سانحے کی تفصیلات سے بھرا ہوا تھا۔۔۔۔ حسب معمول ایک ایک تفصیل دی ہوئی تھی کہ کتنے زخمی کس ہسپتال میں منتقل کئے گئے، کتنی خواتین جان کی بازی ہار گئیں، کتنے معصوم موت کی نیند سو گئے۔۔۔ حسب معمول خبر تھی کہ کوئی یوسف نام کا شخص خود کش دھماکہ کر کے خود بھی دھماکے کی نذر ہو گیا تھا۔ اس کا شناختی کارڈ مل گیا ہے اور مظفر گڑھ سے اس کا چچا اور رشتہ داروں کو پوچھ گچھ کے لئے گرفتار کر لیا گیا ہے۔۔۔ حسب معمول کسی کی آدھی کھوپڑی مل گئی تھی جسے فارنزک انسپکشن کے لئے بھجوا دیا گیا تھا، اس رپورٹ کا اب انتظار کیا جائے گا۔۔۔ حسب معمول وزیر اعظم نے اپنا لندن کا دورہ منسوخ کر دیا ہے اور ہائی پاور وزرائے داخلہ و خزانہ کی ٹیم کا اجلاس چار گھنٹے تک جاری رہا۔ وزیرا عظم کے سیکیورٹی مشیر نے بھی ان کو بریفنگ دی کہ اس دھماکے میں کون کون ملوث ہو سکتا ہے۔۔۔ حسبِ معمول آرمی چیف نے اپنی ٹیم کا اجلاس بلایا۔ ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی ایم آئی وغیرہ اجلاس میں شریک ہوئے اور ان کو ہدایت کی گئی کہ دھماکہ کرنے والوں کا فوری سراغ لگائیں۔ ’’عہد‘‘ کیا گیا کہ معصوم لوگوں کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ اور دہشت گردوں سے روابط رکھنے والوں کو بھی منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا وغیرہ وغیرہ ۔۔۔

خدا گواہ ہے نجانے کتنی بار ماضی میں ہم سب یہ کتھا سن چکے ہیں۔ ’’کیفر کردار‘‘ اور ’’منطقی انجام‘‘ تو گویا لوحِ حافظہ پر نقش ہو چکے ہیں لیکن نہ کرداروں کا ’’کیفر‘‘ آتا ہے اور نہ کسی ’’انجام‘‘ کا منطق معلوم ہوتا ہے۔سوچتا ہوں ان حضرات کے منہ سے نکلے ہوئے یہ الفاظ مرنے اور زخمی ہونے والوں کے لواحقین کے دلوں کو کیا تسلی دیں گے؟ حکومت شائد اس حادثے میں مرنے والے اور زخمی ہونے والے اشخاص کے لئے بالترتیب پانچ سات لاکھ روپوں کے امدادی چیک کا اعلان بھی کر دے لیکن اشرفیاں لٹ جانے پر کوئلہ گوداموں کو سربمہر کرنے کا فائدہ؟

ترا جلوہ کچھ بھی تسلئ دلِ ناصبور نہ کر سکا

وہی گریہء سحری رہا، وہی آہِ نیم شبی رہی

اتوار والی اس دعوت میں لوگ بڑے غصے سے کئی سوال پوچھتے رہے۔۔۔ آرمی کیا کر رہی ہے؟۔۔۔ کیا جنوبی پنجاب میں پنجابی طالبان کے خلاف آپریشن کے لئے اقبال ٹاؤن کے اس دھماکے کا انتظار کیا جا رہا تھا؟۔۔۔ نیشنل ایکشن پلان کی 20 شقوں کا کیا ہوا؟۔۔۔ کیا پانچ برس تک صرف اور صرف اعداد و شمار ہی اکٹھے کئے جاتے رہیں گے؟ ۔۔۔کیا گراؤنڈ ایکشن کا وقت 29 نومبر 2016ء کے بعد آئے گا؟ ۔۔۔کیا مشکوک مسجدوں اور مدرسوں کی فہرست حکومت کے پاس الماریوں میں رکھی ’’انڈے‘‘ دے رہی ہے؟۔۔۔ کیا لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم اقدامات صرف میڈیا کا منہ بند کرنے کے لئے جاری کئے جاتے ہیں؟۔۔۔ کیا فوج کے سینئر کمانڈر کسی ایسی مصلحت کے تحت چپ ہیں جس کو کھولنا، اسپغول پھرولنے کے مترادف ہے؟ ۔۔۔کیا اعلیٰ عدلیہ اس گُتھی کو نہیں سلجھا سکتی؟ ۔۔۔کیا انتظامیہ بے بس ہے؟۔۔۔ کیا اس کے وابستہ مفادات کوئی سخت اقدام کرنے کی راہ میں حائل ہیں؟ ۔۔۔کیا نجی یا سرکاری سکول بند کرنے سے ہمارے بچے بچیاں محفوظ ہو جائیں گی؟۔۔۔ اور تو اور اب تو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی اس دھماکے کی ’’مذمت‘‘ کر دی ہے اور پاکستان کی انتظامیہ(مع افواجِ پاکستان)، عدلیہ اور مقننہ کے زخموں پر نمک چھڑکا اور آئینہ دکھایا ہے۔ ایک طرف مودی صاحب کی کرکٹ ٹیم، آسٹریلیا کو شکست دے کر فتح کا جشن منا رہی ہے۔ کل رات بھارتی میڈیا کوہلی اور دھونی کے ترانے گا گا کر ساری قوم کو محوِ رقص و سرود دکھاتا رہا اور دوسری طرف ہمارا میڈیا، گلشن اقبال سے لاشیں اٹھانے کے مناظر دکھا تا رہا۔۔۔ سوال پھر یہی ہے کہ حکومت کہاں ہے؟ فوج کہاں ہے؟ عدلیہ کہاں ہے؟

مزید : کالم