گلشن اقبال پارک دھماکہ ،دہشتگردوں کا بزدلانہ قدم

گلشن اقبال پارک دھماکہ ،دہشتگردوں کا بزدلانہ قدم

رپورٹ:محمد یو نس با ٹھ

لاہور کے بیشتر علاقو ں میں دہشت گردی کے نا سور نے ایک مرتبہ پھر سر اٹھا لیا ہے۔خود کش حملو ں اور بم دھما کو ں نے شہر یو ں کے دن کا سکو ن اوررات کا چین چھیننا شروع کر دیا ہے۔ قبا ئلی علا قو ں سمیت دیگر مقا ما ت پر آپر یشن ضر ب عضب اور کراچی سمیت دیگر مقامات پر جرائم پیشہ افراد کے خلا ف کی جا نیوالی کا رروائیو ں کے بعددہشت گردانہ وارداتوں میں کچھ ٹھراؤ آیا تھالیکن ایک دو ما ہ سے یہ بز دلا نہ کارروائیا ں پھر سر اٹھا رہی ہیں۔

کئی شہر یو ں کی زند گیا ں ان وحشیا نہ اور سفا کانہ واقعا ت کی نظر ہو کر ضائع ہو رہی ہیں۔با لخصو ص 27ما رچ کو صو با ئی دارالحکو مت کی معرو ف تفر یح گا ہ گلشن اقبا ل پا ر ک علا مہ اقبا ل ٹاؤن میں ہنستے کھیلتے بچو ں کو انکے والدین اورعز یز و اقارب سمیت جس بیما نہ انداز میں موت کی آغوش میں دھکیلا گیا وہ سنگد ل اور سفاکی کی بد تر ین مثا ل ہے ۔ گلشن اقبا ل پا ر ک علا مہ اقبال ٹاؤن تفر یح کیلئے آئے ہو ئے اہل خا نہ کی زندگی کے چراغ گل کر کے مو ت سے ہمکنار کر نا پو ری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔کوئی مذہب،کوئی مسلک اور کوئی فقہ یا شرع قطاً اس کی اجاز ت نہیں دیتی۔اتور کی چھٹی اور مذہبی ایسٹر کی بدولت لاہور کے بیشتر علاقو ں میں دہشت گردی کے نا سور نے ایک مرتبہ پھر سر اٹھا لیا ہے۔خود کش حملو ں اور بم دھماکو ں نے شہر یو ں کے دن کا سکو ن اوررات کا چین چھیننا شروع کر دیا ہے۔ قبا ئلی علا قو ں سمیت دیگر مقامات پر آپر یشن ضر ب عضب اور کراچی سمیت دیگر مقامات پر جرائم پیشہ افراد کے خلا ف کی جا نیوالی کا رروائیو ں کے بعددہشت گردانہ وارداتوں میں کچھ ٹھراؤں آیا تھالیکن ایک دو ما ہ سے یہ بز دلا نہ کا رروائیا ں پھر سر اٹھا رہی ہیں۔ اتوار کی چھٹی اور مذ ہبی ایسٹر کی بدو لت گلشن اقبال پا ر ک علا مہ اقبا ل ٹاؤن میں غیر معمو لی رش تھا اور بچو ں کے جھو لو ں والے مقا ما ت کھچا کھچ بھر ے ہو ئے تھے کہ ایل خو کش حملہ آور نے اپنے آپ کو دھما کے سے اڑالیا۔سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ اتنی بڑ ی تعدادمیں بچو ں اور خواتین سمیت شہر ی جہا ں موجو د ہو ں وہا ں سکیو رٹی نا م کی کوئی چیز میسر نہ تھی۔یہ کس کی نا اہلی یا غفلت ہے اتنی بڑ ی تعداد میں انسا نی جا نوں کا ضیا ع اور لو گو ں کے زخمی ہو نے کی زمہ داری کس پر عا ئد ہو تی ہے ہر محب وطن اس حو الے سے سراپا سوال ہے کہ شہر یو ں کو دہشت گردو ں کے رحم وکر م پر کیو ں چھو ڑ دیا گیا ہے ۔یہ دہشت گر د ی کی بز دلا نہ کا ررائیو ں کے تا نے با نے اور بننے وا لو ں نے اس مر تبہ پنجا ب کا رخ کیو ں کیا ہے؟ یہ بھی ایک اہم سوال ہے ۔سا نحہ گلشن اقبا ل پا ر ک علا مہ اقبال ٹاؤن کے خدو خا ل آرمی پبلک سکو ل پشاور کے سا نحہ سے خاصے ملتے جلتے ہیں۔ اس کی سنگینی اور شد ت بھی کسی طر ح اے پی ایس سے کم نہیں۔ گلشن اقبا ل پا ر ک علا مہ اقبا ل ٹاؤن میں ہو نیوالے دلخراش واقعہ کی تفصیلا ت پر غور کیا جا ئے تو معلو م ہو تا ہے کہ یہ لاہور میں دہشتگردی کا سب سے بڑا واقع جس میں خودکش حملہ آور نے اقبال ٹاؤن کے علاقہ گلشن اقبال پار ک میں گزشتہ شام دھماکہ کر کے 72 افراد کو جاں بحق جبکہ 300سے زائد افراد کو زخمی کر دیا ہے جبکہ زخمیوں میں بھی کم سن بچوں اور عورتوں کی تعداد زیادہ ہے اس دھماکہ کے بعد پارک میں قیامت صغری برپا ہو گئی ۔ بچوں اور خواتین کے خون کے لوتھڑے ہر طرف نظر آ نے لگے ،بھگدڑ مچنے سے کئی افراد پاؤں تلے کچلے گئے ،جائے وقوعہ پر ہر طرف خون ہی خون نظر آ رہا تھا ۔جبکہ خواتین اور بچوں کی چیخ و پکار نے وہاں پر موجود ہر شخص کو رلا کر رکھ دیا ۔ گلشن اقبال پارک میں ہونے والے خودکش دھماکے کے شہداء کی لاشیں اور زخمیوں کی آہ و بکا سے جناح اور شیخ زید ہسپتال میں قیامت صغری برپا تھی ہر طرف چیخ و پکار سنائی دے رہی تھی اور لوگ اپنے پیاروں کی لاشوں اور زخمیوں کی تلاش میں پاگلوں کی طرح مارے مارے پھر رہے تھے ۔کوئی فون کر رہا تھا تو کوئی اپنوں کا نام پکار کے آوازیں دے رہا تھا،جس سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔مائیں اپنے لخت جگر اور اپنے خاندانوں کے سربراہوں کو ڈھونڈتی ہوئی سینہ کوبی کر رہی تھیں تو بھائی اپنے بھائیوں اور بہنوں کی لاشوں سے لپٹ لپٹ کر دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے ۔خودکش حملہ آور نے کتنے خاندانوں کی دنیا تاریک کر دی کسی کا بھائی شہید ہوا تو کسی کا بیٹا ،تو کسی کا پورے کا پورا خاندان اس دھماکے کی لپیٹ میں آ کر دنیا سے رخصت ہوا اور وہ ان دنوں جب عالم اسلام دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے اور ہر ملک ان دہشتگردوں کو جڑ سے ختم کرنے کا دعوی کر رہا ہے ۔یہ دھماکہ اپنے پیچھے کئی کہانیاں چھوڑ گیا ۔اس میں بڑی دور دور سے لوگ جو پارک میں سیر کے لیے آئے ہوئے تھے نشانہ بنے ایسے ہی کئی خاندان جو دیگر شہروں سے چھٹی کے روز پارک میںآئے ہوئے تھے وہ بھی اس دھماکہ کا نشانہ بن گئے ۔انہیں کیا معلوم تھا کہ آج جہاں وہ جا رہے ہیں وہاں سے شاید واپس بھی نہ لوٹ سکیں ۔وہ تو ہنستے ہنستے گئے تھے ۔لیکن ان کے پیاروں کو ان کی لاشیں روتے ہوئے اٹھانی تھیں کس کو یہ معلوم تھا کہ یہ خاندان جو پارک میں سیر کرنے کے لیے آیا تھا دھماکہ کی نظر ہو جائے گا ۔ایک خاندان کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ کراچی سے آیا تھا اور اپنے دیگر رشتہ داروں کے ہمراہ پارک میں سیر کے لیے گیا جہاں یہ8 افراد دہشتگردوں کی بربریت کا نشانہ بن گئے خودکش دھماکہ پارک میں لگے جھولوں کے پاس کیا گیا ،اس کے بعد ہسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ،پاک فوج کا دستہ جائے وقوعہ پر پہنچ کر زخمیو ں اور جاں بحق ہو نیو لے افراد کو شہر کے مختلف ہسپتا لو ن مین بھجواتا رہا ۔صرف جناح ہسپتال میں 34لاشیں لائی گئیں جبکہ جناح ہسپتال کی انتظامیہ نے زخمیوں کی بڑی تعداد وہا ں آتے دیکھ کر مزید زخمیوں کو وہاں لانے کے لیے معذرت کر لی اور وہ خون کے عطیہ کی بھی با ر با راپیل کرتے رہے ۔ایس پی ماڈل ٹاؤن کا کہنا تھا کہ 21افراد کی لاشیں جناح ہسپتال ،4کی سروسز ہسپتال میں منتقل کی گئیں ۔100سے زائد افراد شہر کے مختلف ہسپتالوں میں زیرعلاج بیا ن کیے گئے وہ ہلاکتوں میں مزید اضافہ کا خدشہ بھی ظا ہر کرتے رہے۔ دھماکہ کے بعد سیکیورٹی اداروں نے پورے علاقے کو گھیرے میں لیکر جاں بحق اور زخمیوں کو شہر کے مختلف ہسپتالوں میں بھجوایا ۔پنجاب حکومت نے اس افسوسناک واقع کے بعد 3روزہ سوگ کا اعلان کیا ۔روز نا مہ پا کستا ن کی تحقیقات کے مطا بق اتوار کی شام کو سینکڑوں افراد گلشن اقبال پارک میں سیر کے لیے آتے ہیں جن میں لاہور سے باہر کے شہروں کے افراد بھی شامل ہوتے ہیں جبکہ گزشتہ شام کو ایسٹر ہونے کی وجہ سے پارک میں شدید رش تھا شام کے وقت تقریباََ 6 بجکر 45منٹ پر لوگ پارک میں تفریح کے بعد گھروں کو جانے لگے تھے کہ پارک کے گیٹ نمبر 1 پر زور دار دھماکہ ہو ا، دھماکہ گلشن اقبال پارک کے گیٹ نمبر 1 کی کینٹین اور پارک میں لگے ہوئے جھولوں کے درمیان میں ہوا جہاں پر لوگوں کا رش لگا تھا۔ دھماکہ کے بعد ہر طرف انسانی اعضاء بکھرے پڑے تھے۔۔ پارک میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی۔گز شتہ رات آخری اطلاعات آنے تک 72 افراد کے شہیدہونے کی تصدیق کی گئی جبکہ 300سے زائد افراد زخمی ہو ئے ، زخمیوں میں 17بچے اور 66سے زائدخواتین شامل تھیں۔واقعے میں شہید ہونیوالوں کی میتوں اور زخمیوں کوجناح ہسپتال ،سروسز،گنگا رام،شیخ زید اورمیو ہسپتال منتقل کیاگیااورلاہور کے اسپتالوں میں ایمرجنسی بھی نافذ کر دی گئی۔ واضح رہے کہ لاہور میں خودکش حملہ کے حوالے سے دہشت گر دی کی رپورٹ تھی جس کے لیے پولیس کی جانب سے گزشتہ دوپہر کو شہر بھر میں جنرل ہولڈ اپ بھی کیا گیا تھا ۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو1122،ایدھی اور دیگر فلاحی اداروں کی امدادی ٹیمیں مو قع پر پہنچ گئیں۔واقع کے بعد جائے وقوعہ پرڈی جی ریسکیو،ڈی آئی جی آپریشن ،ڈی سی او لاہور سمیت دیگر اعلیٰ افسران اور عوامی نمائندے بھی پہنچے ۔لا ہور کے تما م ہسپتالوں کی انتظامیہ شہریوں سے اپیلکر تی رہی کہ جلد از جلد خون کے عطیات دئیے جا ئیں تاکہ قیمتی جا نو ں کو بچایا جا سکے۔دھماکہ کے بعد جناح ہسپتال لا شوں اور زخمیوں سے بھر گیا جبکہ دوسر ے نمبر پر سب سے زیادہ زخمی شیخ زید ہسپتال لا ئے گئے۔ہسپتال ذرائع کے مطابق جناح ہسپتال میں 34لاشیں ،شیخ زید ہسپتال میں 5لاشیں اور 44زخمی ، سروسز ہسپتال میں 7لاشیں ،30زخمی اور میو ہسپتال میں 5لاشیں لائی گئیں جبکہ ان ہسپتالوں میں لائے گئے زخمیوں میں سے بھی کئی زندگی کی بازی ہار گئے ۔آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا نے بتایا کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب لوگ شام ہونے پر گھر واپس جا رہے تھے ۔پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق 22 سے 27 سال کی عمر کے خود کش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ دھماکے میں15سے 25 کلو بارودی مواد استعمال ہوا ہے، بارودی مواد میں بال بیرنگ کثیر تعداد میں استعمال کیے گئے ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکہ شام 6بج کر 45 منٹ پر ہوا۔ زخمیوں کی کثیر تعداد کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں انھیں مشکلات کا سامنارہا۔ جبکہ ہسپتال میں جگہ کم ہونے کے باعث زخمیوں کو دوسرے ہسپتالوں میں منتقل بھی کیا گیا ۔دوسری طرف وزیراعلیٰ پنجاب نے قیمتی جانوں کے نقصان پر افسوس کااظہار کرتے ہوئے بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی،ملک کی تمام سیاسی اور سماجی قد آور شخصیات نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملزمان کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری رپورٹ طلب کرلی ،قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دھماکے کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقا ت کا آغاز شروع کیا ہے ، جبکہ اس افسوس نا ک واقعہ سے نمٹنے کے لیے فوج کو بھی طلب کیا گیا اور فوج کے 40رکنی دستہ نے موقع پر پہنچ کر امدادی کاموں میں حصہ لیا۔جناح ہسپتال میں قیامت صغری کے مناظر دیکھے گئے، لوگ اپنے پیاروں کی لاشوں سے لپٹ کر دھاڑیں مار مار کر روتے رہے جناح ہسپتال میں جگہ کم پڑجانے کے باعث لاشوں کو پارکنگ ایریا میں رکھا گیا ۔ عینی شاہدین خالد،امجد ،طاہر ،ریحان اور فیاض نے پاکستان کو بتا یا کہ وہ بچوں کو لیکر پارک میں سیر کرنے آئے تھے شام کے وقت مغرب کی آذانیں ہونے پر وہ با ہر جانے کے لیے گیٹ نمبر 1کی جانب جا رہے تھے کہ اس دوران ایک ضرور دار دھماکہ ہوا جس سے بھگدڑ مچ گئی۔ہر طرف چیخ وپکار تھی۔ہر شخص اپنی جان بچانے کے لئے بھاگ رہا تھا اس وقت قیامت کا سماں تھا وہاں کھڑی کئی گاڑیوں کو آگ لگی ہو ئی تھی۔پشاور سے آئی ایک فیملی نے بتایا کہ اس کے ساتھ ایک دوست تھا جوکہ پارکنگ میں گاڑی لینے گیا اس کو اس کے بارے میں کو ئی علم نہیں ہے۔یہ بھی بتایا گیا ہے کہ زخمیوں اورمرنے والوں کے اعضاء ہر طرف بکھرے پڑے تھے جنہیں ریسکیو ٹیمیوں نے اکٹھا کیا۔ اعلیٰ حکام نے بعد ازاں لاشوں کو میو ہسپتال کے مردہ خانے میں منتقل کر دیا جبکہ زخمیوں کو سروسز ،جناح میں بھی منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔اس کے علاوہ لاہور کے دیگر ہسپتالوں میں بھی ایمرجنسی نافذ تھی اور ڈاکٹروں اور دیگر عملے کی چھٹیاں منسوخ کرکے انھیں بلوایاگیا تھا اور سروسز ہسپتال کے علاوہ جناح اور شیخ زید ہسپتال میں بھی خون دینے والوں کا تانتا بندھارہا۔لاہور پولیس کے ڈی آئی جی آپریشن ڈاکٹر حیدر اشرف کے مطابق دھماکہ خودکش تھا ،حملہ آور نوجوان تھا جس نے خودکش جیکٹ پہن رکھی تھی۔مبینہ خودکش حملہ آور کی شناخت ہو نا بیا ن کیا گیا ہے اور اس کا نام محمد یوسف بتایا جاتا ہے جو کہ مظفر گڑھ کا رہائشی تھا اور اس کی تاریخ پیدائش یکم جنوری 1988 ہے ۔

خودکش حملہ آور کے حوالے سے ایک ادارہ کی جانب سے تیار کردہ ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ حملہ آور گزشتہ کئی دنوں سے اس علاقہ میں موجود تھا اور اس کے کئی اور ساتھی بھی اس علاقوں میں موجود ہونے کے امکانات ہیں ۔رپورٹ کے مطابق خودکش حملہ آور حملے سے پہلے اس ہی علاقہ کے ایک ہوٹل پر کئی گھنٹے تک بیٹھا رہا جہاں اس نے کھانا کھایا اور چائے پی اس امر کی تصدیق زخمی ہونے والے ایک شخص نے بھی کی ہے ۔رپورٹ کے مطابق حملہ آور کے اور بھی ساتھی وہاں قریب ہی موجود تھے جو کہ اس کی مانیٹرنگ کر رہے تھے ۔رپورٹ کے مطابق خودکش حملہ آور اور اس کے پیچھے کام کرنے والی تنظیموں کا تعلق بھارت سے ہے اور ایک باقاعدہ سازش کے تحت اس جگہ کو تارگٹ کیا گیا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا حملے کے فوری بعد پاکستانی میڈیا سے پہلے بھارتی میڈیا نے اس خودکش حملے کی خبر چلائی بلکہ پاکستانی فورسز پر تنقید بھی کی جاتی رہی جس سے واضح ہوتا ہے کہ اس واقع پر بھارتی میڈیا کے ذریعے پاکستانی فورسز کو ناکام قرار دینے کا پلان بھی پہلے سے تیار تھا ۔قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس دھماکہ کے بعد اپنی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے ۔

زندہ دلوں کے شہر میں ،یہاں آنے والوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ ان پر حملہ عقب سے ہو گا ،کوئی گھاٹ لگا کر ان کی واپسی کا منتظر ہو گا ،بچے ،بڑے ،بوڑھے ،خواتین سب خوشی خوشی گھروں کا جانے کے لیے پارک سے نکل رہے تھے کہ دھماکے کے ساتھ آگ کا گولا بلند ہوا اس کے بعد قیامت خیز مناظر تھے ،چاروں طرف لاشیں تھیں ،زخمیوں کی چیخ و پکار تھی ،جو بچ گئے وہ اپنے پیاروں کے لیے دیوانہ وار تڑپ رہے تھے دہشتگرد کون تھے ؟ان کے مقاصد کیا تھے ،اس حوالے سے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں ممکنہ خودکش حملے کی وارننگ کے باوجود ٹھوس حفاظتی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے ،جامع تحقیقات ہوں گیں ،تہہ تک جائیں گے کہ اتنا بڑا سیکیورٹی لیپس کیوں ہوا ،یہ وہ باتیں ہیں جو صوبائی وزارت داخلہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سامنے آئی ہیں ۔قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بتایا ہے کہ لاہور میں خودکش دھماکے کی پیشگی اطلاع تھی اس کے باوجود دہشتگردی کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیوں نہیں کیے گئے ۔آئی جی پولیس پنجاب نے اس دھماکے کے بعد موقف اختیار کیا ہے کہ دہشتگرد قوم کو تقسیم اور خوف زدہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے ۔نیشنل ایکشن پلان کے مطابق آخری دہشتگرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا ۔قوم دہشتگردوں کے شکست خوردہ نظریہ کے خلاف متحد ہے ،دہشتگرد ملک و قوم کا امن تباہ کرنا چاہتے ہیں مگر ان کی کوششوں کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ خودکش دھماکے کے حوالے سے سیکیورٹی اداروں اور محکمہ داخلہ کی جانب سے چند روز قبل مراسلہ جاری کیا گیا تھا جس میں لاہور پولیس کو تفریحی مقامات کی سیکیورٹی سخت کرنے کا کہا گیا مراسلہ میں دہشتگردی کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا ۔دوسری جانب انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ تفریحی مقامات پر حملے کی اطلاع صبح 10بجے دے دی گئی تھی جس کے باعث شہر میں جنرل ہولڈ اپ بھی کیا گیا ۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پیشگی اطلاع کے باوجود دھماکہ کیسے ہو گیا پنجاب حکومت نے اس پر بھی رپورٹ طلب کر لی گئی ہے ۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ محکمہ داخلہ پنجاب نے لاہور میں خودکش دھماکہ کے بعد سیکیورٹی پلان میں بعض اہم تبدیلیاں بھی کی ہیں اور ضلعی افسروں کو احکامات بھی جاری کر دیئے گئے ہیں ۔جبکہ اس دھماکے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس پارک میں سیکیورٹی کے انتظامات نہ ہونے کے برابر تھے اور یہ ایک سافٹ ٹارگٹ تھا۔ ۔

مزید : ایڈیشن 1