کراچی میں تاریخی دعوت کا اہتمام

کراچی میں تاریخی دعوت کا اہتمام

کراچی میں گزشتہ دنوں ایک تاریخی دعوت کا اہتمام کیا گیا، جس میں پاکستان فلم انڈسٹری کی نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔ اس دعوت کے لئے سب کے جمع ہونے کا مقصد، اس خیال کو ایک شکل دینا تھا کہ پاکستان میں ایک فلم گلڈ یا اکیڈمی بنائی جائے، جس کے ذریعے فلمی دنیا سے وابستہ تمام افراد کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے اور ایک ایسا پلیٹ فارم تخلیق کیا جا سکے جہاں فلم سے تعلق رکھنے والے ہرشخص، چاہے وہ آرٹسٹ ہو یا ایک ٹیکنیشیئن، ان کی کوششوں کو سراہا جا سکے۔ اس تقریب کی میزبانی کے فرائض سنی پیکس کے سی ای او ہاشم رضا اور ایور ریڈی گروپ آف کمپنیز کے چیئر مین ستیش آنند نیانجام دیئے۔اس تقریب میں انڈسٹری کے نامور افراد نے شرکت کی جن میں شامل تھے مصطفی قریشی، ہمایوں سعید، ساجد حسن، جاوید جبار، سلطانہ صدیقی، بشریٰ انصاری، ثانیہ سعید، نبیل قریشی ، فزا علی، جر جیس سیجا، اسمعیل جیلانی، ندیم مانڈوی والا، معمر رانا اور ان کی بیگم ، ارشد محمود، ثنا ، فواد حسین اور حسن نے ایڈورٹائزنگ کے شعبے کی نمائندگی کی اور ان کے علاوہ بھی بہت سے افراد اس تقریب میں شریک رہے ۔ اسٹار لنکس پی آر اینڈ ایونٹس کی سی ای او شہناز رامزی نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا جس کے بعد ہاشم رضا نے سب کو جمع کرنے کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی اور فلمی دنیا سے وابستہ افراد کے لئے ایک گلڈ کے قیام کی ضرورت پر زور دیا تاکہ انڈسٹری اسٹیک ہولڈرز کے لئے ایک مستند پلیٹ فارم مہیا کیا جا سکے ۔ ہاشم رضا نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ پلیٹ فارم فلمی برادری کے حقوق کا تحفظ کر نے کے ساتھ ساتھ ایسی سرگرمیاں بھی تخلیق کرے گا جو راہنمائی کر سکے، اسکالرشپ دے سکے، میڈیکل انشورنس کی فراہمی اور انڈسٹری کے لئے قانون سازی کی کوشش کر سکے ۔ایور ریڈی گروپ آف کمپنیز کے چیئر مین ستیش آنند نے پاکستانی سینما کے عروج و زوال کے حوالے سے اپنے تجربات بیان کئے اور آج ، جس طرح پاکستانی سینما ابھر رہا ہے وہ قابلِ تعریف ہے۔ انہوں نے گلڈ کے قیام کے مقاصد کے بارے میں تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا کہ گلڈ کا کام ،کاپی رائٹ کا تحفظ، اسکرپٹ رجسٹریشن، انڈسٹری کو چلانے والے افراد کی مدد کرنا، اور نئے ٹیلنٹ کی تلاش اور ان کی راہنمائی کرنے کے ساتھ ساتھ اس ادارے کو مکمل خود مختار بنانا ہے تاکہ سینما کے لئے کام کرنے والوں کی کوششوں کا اعتراف کیا جا سکے اور انہیں انعامات سے نوازا جا سکے۔ہاشم رضا نے گفتگو کو سمیٹتے ہوئے ، اس بات کا یقین دلایا کہ یہاں موجود ہر شخص کی رائے کو سامنے رکھتے ہوئے ایک مہینے کے اندر اندر ٹھوس نتائج پیش کیے جائے گے۔ تقریب میں شریک متعدد مہمانوں جیسے مصطفی قریشی، معمر رانا، بشریٰ انصاری اور اسمعیل جیلانی نے اس کوشش کو سراہا اور گلڈ کے قیام کے لئے انتہائی مفید مشورے بھی دئے کہ کس طرح تیزی سے گلڈ کے قیام کو آگے بڑھا یا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر سلطانہ صدیقی نے سب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی و ہ ملک سے باہر فلم یا ڈرامے کی شوٹ کے کے لئے گئی اور یہی سوچا کہ اپنا میک اپ آرٹسٹ ساتھ لے آ تے ہے مگر ہر مرتبہ سختی سے آگاہ کیا گیاکہ اس ملک کی فلم انڈسٹری کے قوانین کے مطابق ہمیں مقامی ٹیلنٹ کو ہی استعمال کرنا ہوگا، بالکل اسی طرح پاکستان میں بھی ایک ایسا ہی پلیٹ فارم تشکیل دینا بے حد ضروری ہے تاکہ پاکستان کے مقامی فنکاروں اور ہنرمندوں کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے ۔ اس تقریب کا اختتام بہت ہی شاندار ڈنر اور ایک آسکر اسٹائل سیلفی سے ہوا جس میں تقریب میں شریک تمام ہی مشہور افراد موجود تھے۔اس تقریب کے انتظام اور پی آر کی ذمہ دار، اسٹار لنکس پی آر اینڈ ایونٹس تھی۔

مزید : ایڈیشن 2