’’شان پاکستان‘‘ تین روزہ تقریبات،بالی ووڈ سٹار زینت امان کی خصوصی شرکت

’’شان پاکستان‘‘ تین روزہ تقریبات،بالی ووڈ سٹار زینت امان کی خصوصی شرکت

  

حسن عباس زیدی

پاکستان اور بھارت کے درمیان ثقافتی تعلقات ماضی کی نسبت بہت اور مضبوط ہورہے ہیں جس سے انٹرٹینمنٹ کے مختلف شعبوں میں تعاون بھی بڑھ رہا ہے ۔اگرچہ یہ سب کچھ غیر سرکاری سطح پر ہی ہورہا ہے لیکن تمام معاملات نہایت سنجیدگی سے مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔پاکستانی فنکاروں کو بھارت میں کام کے مواقع پہلے سے زیادہ مل رہے ہیں ،بھارتی فنکار بھی ہماری فلموں میں کام کررہے ہیں،فنکاروں کا آناجانا بھی لگا رہتا ہے بلکہ اب تو بالی وڈ فنکار وں کی پاکستان آمد تیز ہورہی ہے ۔نصیرالدین شاہ سے اوم پوری اور شرمیلا ٹیگور سے رضامراد تک بالی وڈ کے دیگر سپر سٹار حال ہی میں مختلف تقریبات کے لئے پاکستان آچکے ہیں۔مختلف اداروں کے اشتراک سے ہونے والی ثقافتی تقریبات دونوں ممالک کے فنکاروں کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی قریب کرنے میں اہم کردار اداکررہی ہیں۔ایک ملٹی نیشنل کمپنی کے زیر اہتمام ’’شان پاکستان‘‘کے عنوان سے ہونے والی تین روزہ تقریبات بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں جس کی روح رواں ہما نصرہیں جوپہلے نیو دہلی میں اس اہتمام کرچکی ہیں جہاں مختلف پاکستانی فنکاروں کو کام کا موقع ملا جبکہ بعدا زاں اسی طرح کی تقریبات لاہور میں بھی جاری ہیں جن کا اختتام آج ہوگا۔

تین روزہ تقریبات کے انتظامات ماضی میں ہونے والی بہت سے بڑی بڑی تقریبات سے کہیں بہتر تھے جس کے لئے دیگر لوگوں کے ساتھ’’ لوٹس پی آر‘‘کو بھی جاتا ہے جنہوں میڈیا کے لئے جانفشانی سے کام کرتے ہوئے بہت سی سہولیات مہیا کیں۔ شان پاکستان کی ان تقریبات کا ایک عنوان’’کیا دلی کیا لاہور‘‘ بھی رکھا گیا جس کے مقصد بھی یہی ہے کہ کلچرل تقاریب کے ذریعے دونوں ممالک کے عوام کوقریب لانے کی کوشش کی جائے۔تین روز تقریبات میں شرکت کے لئے بھارت سے فنکاروں کے ساتھ ساتھ معروف فیشن ڈیزائنرزاور دیگر لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی جن ماضی کی سپرسٹارزینت امان اور مقبول پلے بیک سنگر ریکھا بھردواج اور معروف میزبان اینڈی بھی شامل ہیں۔واہگہ کے ذریعے پاکستان پہنچے پر بھارتی فنکاروں کے چہروں کے تاثرات اس بات کی گواہی تھے یہ وہ پاکستان آکر کتنے خوش ہیں اور اسی خوشی کا اظہار انہوں نے اپنی گفتگو کے دوران بھی کیا۔شان پاکستان کا پہلا شو’’ایک شام دوستی کے نام‘‘ سے رائل پام کلب میں کیا گیا جہاں دونوں ممالک کے فنکاروں نے فن کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوتے اہل لاہورکی خوشیوں میں اضافہ کیا۔میوزکل شو کا آغاز سندھ سے تعلق رکھنے والی فوک گلوکارہ مائی ڈھائی نے کیا اور اپنے کئی مقبول گیت سنائے جن کے بھارتی گلوکار شیوم نے پرفارم کیا ،ان کے پاکستان کے مقبول گلوکار اسرار نے اپنی پرفارمنس سماں باندھ دیا ،انہوں نے نے دم علی علی،افغان جلیبی اور شکرونڈاں سمیت اپنے دیگر مقبول گیت سنائے ،شوکے اختتام پر بالی وڈکی مقبول گلوکارہ ریکھا بھردواج نے شاندار پرفارمنس دیتے ہوئے اپنے مقبول گانے سسرال گیندا پھول،وے کبیرا،ڈارلنگ،رانجھا اور نمک عشق کا سمیت بہت سے گیت سنائے۔اس شوکی میزبانی انوشے اور انیڈی نے کی۔شوکے دوسرے روز پاکستانی اور بھارتی ڈیزانئرز کے ڈریسز کی نمائش ہوئی جبکہ شو کا اختتام آج گرینڈ فیشن شو سے ہوگا۔بھارتی فنکاروں نے پاکستان آمد پر انتہائی خوشی کا اظہار کیا ۔اس بارے میں گلوکارہ ریکھا بھردواج نے ’’پاکستان‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں میرے لاکھوں پرستار ہیں اور یہ بات میرے لئے باعث فخر ہے،اس سے بڑھ کر مجھے اس بات کی بہت خوشی ہے کہ اب دونوں ممالک کے فنکار ایک ساتھ کام کررہے ہیں،میرے کئی گانے پاکستانی ڈراموں کے ٹائٹل سانگ بنائے گئے جن میں’’ہم نشین‘‘’’تیرے عشق میں‘‘ بھی شامل ہیں جبکہ میں نے فلم’’بن روئے‘ ‘کے لئے چن چڑھیا گانے کا موقع بھی ملا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مجھے لاہور میں پرفارم کرکے بہت اچھا لگا ہے ،یہاں کے لوگ بہت پیارکرنے والے ہیں اور کھانون کی تو کیا ہی بات ہے۔معروف میزبان اینڈی نے کہا کہ میں پہلی بار پاکستان آیا ہوں اور یہ میرے بچپن کا سپنا تھا جوپورا ہوگیا ہے ۔یہاں کے لوگوں کی محبت ناقابل بیان ہے۔

ادکارہ زینت امان نے’’پاکستان‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے لاہور آنے میں بہت دیرکردی کیونکہ یہاں آکر محسوس ہوا ہے کہ مجھے بہت پہلے لاہورآنا چاہئے تھا۔ یہاں کے لوگ بہت زیادہ پیار کرنے والے ہیں۔لاہور کے کھانوں کی کیا بات ہے۔ میں نے پرانے شہر کی سیر کی، یہاں کی خوبصورت سڑکیں اورہریالی دیکھ کردل بہت خوش ہوا یہاں کے کھانے لاجواب ہیں ، سرسوں کا ساگ ، مکئی کی روٹی اوربریانی کھا کربہت مزہ آیا۔ لاہوآمد کے پہلے روزہی شاپنگ کیلئے مارکیٹ گئی اوراپنے دوستوں کیلئے بہت سے ڈریسز پسند کئے۔ خاص طورپران سب کے لئے لان کے سوٹ لئے ، جو بھارت میں بہت پسند کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی لڑکیاں پاکستانی فیشن کی دیوانی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں زینت امان نے کہا کہ میں نے اپنے فنی کیرئیر کے دوران بہت سے یادگارکردارنبھائے ہیں اوراب ایسی کوئی خواہش نہیں رہی کہ جسیپوراکرنے کیلئے کوئی نیا کردارکروں۔ اب تومیرے بچے بڑے ہوگئے ہیں اوران کی کامیابی کی خواہشمند ہوں۔ میرے بیٹے نے ایک فلم بنائی ہے جس میں ہیرو اپاکستانی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فن اورفنکارکی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ ہم فنکارہیں سیاستدان نہیں ۔ اس لئے ایک فنکارکے چاہنے والے ہرجگہ پرہوتے ہیں۔ پاکستان میں میری توقع سے بڑہ کرپیارملا۔ میں جب اپنے کیرئیر کے عروج پرتھی اوربھارت میں کوئی بھی پاکستانی وفد دلیپ کمار سے ملاقات کیلئے جاتا توان کی اہلیہ سائرہ بانو مجھے بتایا کرتی تھیں کہ ہرکوئی مجھ سے بھی ملنے کی خواہش کرتا تھا۔ اس وقت سے میں پاکستان آنے کیلئے بے تاب تھی۔ ایک سوال کے جواب میں زینت امان نے کہا کہ دیگرچیزوں کیساتھ مجھے لاہورکا تاریخی ہوٹل اس لئے بھی بہت پسند ہے کہ جس کمرے میں میرا قیام ہے، وہاں ہالی وڈ کی معروف اداکارہ ایواگارڈنربھی ٹہری تھیں، جومیری والدہ کی بہت پسندیدہ فنکارہ تھیں۔ایک سوال کے جواب میں زینت امان نے کہا کہ میں اب ماضی بارے نہیں سوچنا چاہتی کیونکہ جو زمانہ گزرگیا اسے یادکرکے پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے۔اب میں اپنے بچوں بارے زیادہ سوچتی ہوں۔اگر مجھے پاکستان میں کام کا موقع ملا توخوشی سے قبول کروں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ زندگی بہت مختصر ہے لہذہ ہمیں پیار ،محبت اور ہم آہنگی بڑھانی چاہیئے۔

مزید :

ایڈیشن 2 -