بناولنٹ فنڈ کی تین ہزار سے زائد درخواستیں زیر التواء،ملازمین مایوس

بناولنٹ فنڈ کی تین ہزار سے زائد درخواستیں زیر التواء،ملازمین مایوس

  

لاہور (خبر نگار)سرکاری ملازمین کے بناولٹ فنڈ جاری کرنے والے الفلاح بلڈنگ میں قائم کیئر ٹیکر آفس سے تین ہزار سے زائد تصدیق شدہ درخواستوں پر چیک جاری نہ ہو سکے اس وقت تین ہزار چھ سو سے زائد سرکاری ملازمین نے چھ چھ ماہ سے بناولٹ فنڈ کے حصول کے لیے درخواستیں جمع کر ا رکھی ہیں محکمانہ طور پر تصدیق کرانے کے باوجود ان درخواستوں پر فوری طور پر چیک جاری کر دینے چاہیے تھے مگر سابق سیکرٹری وسیم عباس اور ان کی جگہ تعینات ہونے والے عاشق حسین اولک نے بناولٹ فنڈز کے چیکوں کا انتظار کرنے والے سرکاری ملازمین کی امیدوں پر پانی پھیر کر رکھ دیاہے قانونی طور پر بناولٹ فنڈ کے حصول کے لیے جمع ہونیوالی درخواستوں پر ایک ماہ کے اندر اندر چیک جاری کر دیے جاتے ہیں۔سرکاری ملازمین جن میں گزٹیڈ آفیسر بھی شامل ہیں اپنے زیر تعلیم بچوں کے وظیفہ جات کے لیے اپنی ہی تنخواہ سے کٹوتی ہونے والی تنخواہ سے بناولٹ فنڈ وصول کرتے ہیں جبکہ سرکاری ملازمین کی بچوں کی شادی کے لیے گزٹیڈ افسران کو چالیس ہزار روپے کا چیک جاری کیا جاتا ہے مگر بدقسمتی سے محکمہ بناولٹ فنڈ پنجاب کی مجرمانہ غفلت کے باعث سرکاری ملازمین کے بچے نہ صرف فیس نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم کو خیر آباد کہہ چکے ہیں بلکہ بچیوں کی شادی بھی التوا کا شکار ہو گئی ہے اگر کسی سرکاری ملازم نے بناولنٹ فنڈ کی امید پر قرض لیا ہے تو وہ بھی پریشانی کا شکا ہے سرکاری ملازمین نے وزیر اعلی پنجاب سے اپیل کی ہے کہ وہ بناولٹ فنڈ صوبہ پنجاب کے مذکورہ دفتر کا قبلہ فوری طور پر درست کریں اور سرکاری ملازمین میں پائی جانے والی مایوسی کو دور کریں ۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -