سانحہ گلشن اقبال پارک کا محنت کش شہید آہوں اور سسکیوں میں سپرد خاک

سانحہ گلشن اقبال پارک کا محنت کش شہید آہوں اور سسکیوں میں سپرد خاک
 سانحہ گلشن اقبال پارک کا محنت کش شہید آہوں اور سسکیوں میں سپرد خاک

  


لاہور(لیاقت کھرل ) سانحہ گلشن اقبال پارک نے جہاں بہنوں سے بھائی چھین لیے وہاں درجنوں ماؤں سے ان کے بیٹے بچھڑ گئے۔ ایسا ہی واقعہ جانی پورہ کوٹ خواجہ سعید کے محنت کش محمد سلیم کے ساتھ پیش آیا جس کا 28سالہ بیٹا 5بہنوں کا اکلوتا بھائی محمد عثمان سانحہ گلشن اقبال پارک میں شہید ہو گیا ۔محمد عثمان شاہ عالم مارکیٹ میں 14ہزار ماہانہ تنخواہ پر سیلز مین اور اور اسے امریکہ جانے کا بے حد شوق تھا ۔28سالہ محمد عثمان کی لاش گزشتہ صبح اس کے لاش گھر پہنچی تو پورے علاقہ میں کہرام برپا ہو گیا۔ اکلوتے بھائی کی جواں سالہ 5بہنیں لاش سے چمٹ چمٹ کر زار و قطار روتی رہیں۔ اس موقع پر 28سالہ محمد عثمان کی والدہ پر کئی گھنٹے تک سکتہ طاری رہا جبکہ بہنیں سسکیاں لیتی رہیں ۔عثمان کے والد محنت کش محمد سلیم نے کہا کہ اس کے بیٹے کو باہر جانے کا بے حد شوق تھا ۔الیکٹریشن کا کورس کررکھا تھا اور بہنوں کے ہاتھ پیلے کر نے کا عہد کر رکھا تھا ۔پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے 28سالہ عثمان کی والدہ نے بتایا کہ عثمان نے تو امریکہ جا کرماں کو ایک بڑا گھر لیکر دینے کا وعدہ کر رکھا تھا ۔وہ اپنی بہنوں اور والدہ سے بے حد پیار کرتا تھا ۔28سالہ عثمان کی والدہ رخسانہ بی بی نے بتایا کہ اس کا بیٹا جب تک گھر نہیں آتا تھا اس وقت تک وہ سوتی نہیں تھی اب میرا عثمان کب کام سے آئے گا ۔عثمان کی بہنوں نے زار و قطار روتے ہوئے کہا کہ وہ کس کے پاس فریاد لیکر جائیں کون ان کا بھائی لا کر دے گا ۔عثمان کا جنازہ اٹھا تو پورے علاقہ میں کہرام مچ گیا ہر آنکھ اس موقع پر ہر آنکھ اشکبار تھی اور پورے علاقے میں سوگ کا سماں تھا جبکہ اہل علاقہ سراپا احتجاج بنے ہوئے تھے ۔محمد عثمان کے رشتے داروں چچا ذوالفقار علی ،سفیان علی ،محمد جاوید ،الیاس سمیت صغراں بی بی اور یاور نے کہا کہ وہ اپنے اپنے لخت جگر کے خون کا حساب کس سے لیں گے ۔حکومت دہشت گردوی کے واقعات کا خاتمہ کرے اور ماؤں کے بے گناہ بچھڑ جانے والے بیٹوں کی جانوں کا خیال کرے ۔حکومت نے دہشت گردی کے واقعات کنٹرول نہ کیے تو دیگر صوبوں شہروں اور علاقوں کی طرح یہاں پنجاب بھی دہشت گردی کی لپیٹ میں آ جائے گا ۔اتنا بڑا سانحہ پیش آیا ہے لیکن تاحال کوئی پیش رفت نہ ہوئی ہے ۔

مزید : علاقائی