لاہور آباد رہے گا

لاہور آباد رہے گا
لاہور آباد رہے گا

  

علامہ اقبال ٹاون کے گلشن اقبال میں خود کش حملہ ہوا، اب تک ستر کے قریب ہلاکتیں ہوچکیں، سوا تین سو سے زائد زخمیوں کوہسپتال پہنچایا گیا، میں نے دیکھا کہ جب پوری قوم غم اور دکھ کا شکار تھی تو اس وقت کچھ شہرت کے بھوکے ان ہلاک اور زخمی ہوجانے والوں کی بوٹیاں نوچ کر اپنی بھوک اور ہوس مٹا رہے تھے، جب بہت سارے لوگ خون دینے کے لئے ہسپتالوں میں پہنچے ہوئے تھے، وہ اس وقت بھی سیاسی پوائنٹ سکورنگ کر رہے تھے۔ مجھے افسوس ہوا کہ اس موقعے پر بھی کچھ لوگوں نے قوم کو متحد کرنے اور اپنے مشترکہ دشمن کی نشاندہی کرنے کی بجائے اپنے اپنے سیاسی مخالفین کی طرف انگلیاں اٹھانی شروع کر دیں۔ کیا میں اس امر کی حمایت کرسکتا ہوں کہ پشاور میں دہشت گردی ہو تو مسلم لیگ ( ن) اور پیپلزپارٹی ، تحریک انصاف پر چڑھ دوڑیں، کراچی میں سانحہ ہو تو تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی کے کپڑے اتارنے شروع کر دیں اور اسی طرح اگر لاہور نشانہ بنا ہے تو پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف اس پر سیاست چمکانا شروع کر دیں۔ ایک منٹ ٹھہرئیے، اس میں میڈیا کی وہ چمگاڈریں بھی شامل ہیں جو اکثر سکرینوں پر ریٹنگ کے لئے الٹی لیٹی ہوتی ہیں اور انہیں پینے کے لئے صرف خون چاہئے ہوتا ہے، کیا میں نام گن سکتا ہوں کہ میڈیا کے کس ڈریکولا کو کس کا خون مزا دیتا ہے۔ شہرت کے بھوکے لاہور میں ہونے والے بم دھماکے کے بعد سیکورٹی کی صورتحال کو بنیا د بنا کے سوال اٹھا رہے تھے۔ ایک صاحب ٹھنڈے سٹوڈیو میں بیٹھے بار بار سوال کر رہے تھے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کہاں ہیں۔

یہ بات درست ہے کہ گلشن اقبال پارک میں سیکورٹی موجود نہیں تھی، وہاں ایسٹر اور اتوار ہونے کی وجہ سے بے پناہ رش تھا، مجھے ساہیوال سے آنے والی ایک فیملی میں زخمی ہونے والی خاتون نے جناح ہسپتال میں بتایا ، وہاں اتنا رش تھا کہ وہ دیوار پھلانگ کے پارک کے اندر گئے، وہاں واک تھرو گیٹس اور پولیس کی طرف سے باقاعدہ تلاشی کا عمل بھی نہیں ہورہا تھا۔ اگر سیکورٹی ہوتی تو پھر مظفر گڑھ سے تعلق رکھنے والا محمد یوسف، اگر وہی خود کش حملہ آور ہے جس کا شناختی کارڈ اس کی مشکوک باڈی کے قریب سے ملا ہے، گندے نالے والی سمت گیٹ نمبر پانچ کے باہر ہی روک لیا جاتا، یہ بھی عین ممکن تھا کہ وہ اپنے آپ کو روکے جانے پر وہیں دھماکہ کر دیتا، ہلاکتیں تو اس سے بھی ہوتیں مگر امکان ہے کہ اس سے بہت کم ہوتیں جو جھولوں کے پاس اپنے بچوں کے ساتھ ٹکٹیں لینے کے لئے لائن میں لگے ہوئے معصوم اور غریب لوگوں کی ہوئیں مگر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہلاکتیں ہی نہ ہوتیں۔ میں اس سے بھی تھوڑا پیچھے جاؤں گا اور پوچھوں گا کہ یہ لاہور میں مشکوک لوگوں کے داخلے کو روکنے کے لئے جو ناکے لگائے جاتے ہیں، ان کا فائدہ کیا ہے۔ میں پھر یہاں پر سوچتا ہوں کہ اگر آپ لاہور میں داخلے کو فول پروف بھی بنا لیں، ایک بھی مشکوک گاڑی اسلحہ اور بارود لے کر لاہور میں داخل نہ ہوسکے تو پھر کیا ہو گا،کیاپشاور، راولپنڈی، جہلم ،ملتان، کراچی اور کوئٹہ ہمارے شہر نہیں ہیں۔ کیا وہاں پاکستان کے مرد ، عورتیں اور بچے نہیں رہتے۔ میں نے جناح اور شیخ زید ہسپتالوں میں اپنے زخمی بچوں کو دیکھا، مجھے یقین ہے کہ کراچی، پشاور اور کوئٹہ کے بچے بھی ایسے ہی معصوم اور پیارے ہوتے ہیں جیسے لاہور کے بچے ہیں۔ گلشن اقبال کی سیکورٹی سخت ہوتی تو خود کش حملہ آور خود کو کسی اور پارک میں دھماکے سے اڑا لیتا، لاہور میں داخلہ ناممکن ہوتا تو وہ شیخوپورہ، فیصل آباد اور گجرات سمیت کسی بھی دوسرے شہر کو ٹارگٹ کر لیتا۔جب ایک خود کش حملہ آور کسی شہر میں پہنچ جاتا ہے تو پھر وہ کسی نہ کسی جگہ کو نشانہ بھی بنا لیتا ہے۔ جب گلشن اقبال نشانہ نہیں بنا تھا توچند سو میٹر کے فاصلے پر مون مارکیٹ بنی تھی اور اس وقت بھی سترکے قریب لوگ دو دھماکوں میں لقمہ اجل بن گئے تھے۔ جب مون مارکیٹ بھی نشانہ نہیں بنی تھی تو آراے بازار میں دھماکہ کر دیا گیا تھا۔ جب دشمن واہگہ بارڈ پر پرچم اتارنے کی تقریب تک نہیں پہنچ سکا تھا تو اس نے خود کوباہر نکلنے کی اس جگہ پر پھاڑ لیا تھا جہاں سے سیکورٹی کی پہلی چیک پوسٹ کا ایریا شروع ہو رہا تھا۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر وہ فیکٹری موجود ہے جو خود کش حملہ آوروں کی پیداوار دے رہی ہے تو پھر یہ ممکن ہی نہیں کہ آپ اس کی پیداوار کو پورے ملک میں پھیلنے سے روک سکیں۔آپ کو اس فیکٹری کو ختم کرنا ہو گا، کیا یہ ستم نہیں کہ ہمارے پاس نہ صرف ایسے خود کش حملہ آور تیار کرنے والے کارخانے موجود ہیں بلکہ انہیں مخصوص نظریاتی اور مفاداتی بنیادوں پر سرمایہ اور سہولتیں فراہم کرنے والے بھی پائے جاتے ہیں۔ یہ لوگ چھپے ہوئے بھی نہیں ہیں، یہ بہانے بہانے سے دہشت گردی کی وارداتوں کو جواز فراہم کرتے ہیں۔ ایک وقت میں کہا جاتا تھا کہ ڈرون حملوں کے جواب میں خود کش حملے ہوتے ہیں پھر ڈرون حملے بہت ہی کم ہو گئے مگر دہشت گردی بڑھ گئی۔ میں نے زخمی اور مرجانے والے بچوں کو دیکھا تو یقین پختہ ہوا کہ دہشت گردی کا کوئی بھی جواز قابل قبول نہیں ہے۔ دہشت گردی کو جواز دینے والے بہت ہی بے رحم اور ظالم لوگ ہیں اور ان میں بہت سارے منافق بھی ہیں۔ یہ مرجانے والوں کے جنازے پڑھتے ،ان کے ورثاء سے پکے منہ بنا کے تعزیتیں بھی کرتے ہیں ۔ یہ ٹی وی پروگراموں کی ملک کی موجودہ حالت پر مگرمچھ کے آنسو بھی بہاتے ہیں مگر جب کس سانحے کو دو چار روز گزر جاتے ہیں تو دہشت گردی کا ذکر چھڑنے پر انتہائی چالاکی کے ساتھ اس کادفاع کرنے لگتے ہیں۔

یہ مانا جا سکتا ہے کہ پنجاب پولیس نااہل بھی ہے او رکرپٹ بھی، میں اس الزام کے ساتھ بھی چلا جاتا ہوں کہ اسے سیاسی مقاصد کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا دہشت گردی کا خاتمہ اکیلی پنجاب پولیس کی ذمہ داری ہے؟ لاہور کے ڈی سی او اور ڈی آئی جی آپریشنز بتا رہے تھے کہ ایجنسیوں نے گلشن اقبال میں کسی قسم کے کسی حملے کا خطرہ ظاہر نہیں کیا تھا،ہاں ، کسی حد تک جیلانی پارک المعروف ریس کورس پارک میں ضرور خدشہ تھا جہاں جشن بہاراں جاری تھا اور وہاں سیکورٹی کے انتظامات کئے گئے تھے۔ سوال یہ ہے کہ کیا آپ کسی بھی دہشت گرد کو کسی بھی سافٹ ٹارگٹ کا چناو کرنے میں مجبور پاسکتے ہیں، ہرگز نہیں، وہ ریس کورس کو نہیں چنے گا تو گلشن اقبال کو چن لے گا، وہ کینٹ کے ایریا میں داخل نہیں ہو سکے گا تو آراے بازار جیسے سویلین علاقے میں دھماکہ کر لے گا۔ اگر ایک فیکٹری نے موت بانٹنے والے سیلزمین تیار کر کے بھیج دئیے تو وہ کسی بھی جگہ جا سکتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب انہی فیکٹریوں کو ختم کرنے کے لئے ہے۔ یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ اس آپریشن نے دہشت گردوں کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے مگر ایک ہی دہشت گرد گروہ نے چار مرتبہ لاہور کو نشانہ بنا لیا ہے مگر کیا وہ یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ انہوں نے لاہور کو ویران کر دیا ہے۔ میں نے دیکھا گلشن اقبال سے زخمیوں کو ریسکیو سروسز سے کہیں پہلے ہمارے عام شہریوں نے اپنی گاڑیوں میں ہسپتالوں تک پہنچایا، ان ہسپتالوں میں خون بہانے والوں سے کہیں زیادہ لوگ اپنا خون دینے کے لئے موجود تھے، وہ یہ بھی نہیں دیکھ رہے تھے کہ ان کا خون کسی مسلمان کو لگے گا یا کسی مسیحی کو، وہ صرف یہ جانتے تھے کہ وہ اپنے پاکستانی بھائیوں ، بہنوں اور بچوں کی جان بچا رہے ہیں۔ جناح اور شیخ زاید ہسپتال میں انتظامیہ کو لکھ کر لگانا پڑا کہ اب ان کے پاس مزید خون کے عطیات وصول اور محفوظ کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ وہاں ڈاکٹروں نے ڈیوٹی کے گھنٹوں کی پرواہ کئے بغیر مریضوں کو خدمت کی ۔لاہور سے جلنے والوں کی نظر لاہور کو لگی ہے مگر مجھے زخموں سے چور چور بچوں نے بتایاہے کہ وہ بڑے ہو کر ڈاکٹر ، انجینئر او رفوجی بننا چاہتے ہیں۔ میں نے ان کی آنکھوں میں اپنے پیارے اختر حیات مرحوم کے کالم کا نام لکھا ہوا پڑھا ہے، انہوں نے کہا تھا، لاہور آباد رہے گا اور اختر حیات نے درست کہا تھا بس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خود کش حملہ آور تیار کرنے والے کارخانوں کو تباہ کر دیں ، ان کے سرمایہ کاروں اور سہولت کاروں کی سوچ تبدیل کر لیں، کام بڑا ہے مگر اس کے سوا امن، ترقی اور خوشحالی کی منزل پر پہنچنے کے لئے کوئی دوسرا رستہ بھی نہیں ہے۔

مزید :

کالم -