گلشن اقبال پارک میں دہشتگردی کے واقعہ کیخلاف ملک بھر کے وکلاء نے یوم سیاہ منایا

گلشن اقبال پارک میں دہشتگردی کے واقعہ کیخلاف ملک بھر کے وکلاء نے یوم سیاہ ...

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی /نامہ نگار)گلشن اقبال پارک میں دہشت گردی کے واقعہ کے خلاف ملک بھر کے وکلاء نے یوم سیاہ منایا اور ہڑتال کی ۔ملک کے دیگر شہروں کی طرح لاہور ہائی کورٹ اور پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے جبکہ آج تمام وکلاء تنظیمیں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ ریلی نکالیں گی ۔گزشتہ روز ہونے والی ہڑتال کی کال پاکستان بار کونسل ،پنجاب بار کونسل اور دیگر منتخب وکلاء تنظیوں نے دی تھی ۔اس سانحہ کے خلاف اور دہشت گردی کے اس واقعہ میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے شہریوں کے خاندانوں سے اظہار یکجہتی کے لئے آج 29مارچ کو وکلاء تنظیموں کی طرف سے نکالی جانے والی مشترکہ ریلی میں پاکستان بار کونسل ،پنجاب بار کونسل ،لاہور ہائی کورٹ بار اور لاہور ڈسٹرکٹ بار کے نمائندوں کے علاوہ ڈاکٹرز ،تاجر،سول سوسائٹی اور وکلاء بڑی تعداد میں شریک ہوں گے ۔ ریلی ایوان عدل سے شروع ہوکر پنجاب اسمبلی کے سامنے اختتام پذیر ہوگی ۔سپریم کورٹ بارکی طرف سے دہشت گردی کے خاتمے تک مہم چلانے کے لئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔ریلی ایوان عدل سے شروع ہوگی اور پنجاب اسمبلی کے سامنے اختتام پذیر ہوگی ۔گزشتہ روز بار رومز میں دہشت گردی کے خلاف اجلاس عام منعقد کئے گئے جن میں دہشت گردی کے واقعہ کی بھر پور الفاظ میں مذمت کی گئی جبکہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو قرار واقعی سزا دینے کے لئے قرار دادیں منظور کی گئیں،یوم سیاہ کی مناسبت سے وکلاء نے بار رومز کی چھتوں پر سیاہ پرچم لہرائے اور بازووں پر سیاہ پٹیاں باندھے رکھیں،وکلاء ہڑتال کے باعث ہزاروں مقدمات کی سماعت متاثر ہوئی ،قومی سوگ کے پیش نظر عدالت عالیہ لاہور کی عمارت پر موجود قومی پرچم اور لاہور ہائیکورٹ کا پرچم بھی سرنگوں رہا۔سانحہ گلشن راوی کے حوالہ سے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر علی ظفر نے کہا ہے کہ وقت کا تقاضہ ہے کہ گورنمنٹ سنجیدگی سے اس بارے میں سوچے کہ وہ پاکستانی افواج کو یہ اختیارات دیں کہ وہ کراچی کی طرز کا آپریشن پنجاب کے ان حصوں میں بھی کروائے جہاں دہشت گردوں کو حمایت حاصل ہے اور انہیں پناہ دی جاتی ہے۔سید علی ظفراور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدے داران نے علامہ اقبال پارک لاہور میں ہونے والے بم بلاسٹ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ حرکت قرار دیا ہے جس میں معصوم بچوں اور ماؤں کو نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گرد یہ بات اچھی طرح سے جان لیں کہ وکلاء برادری ہمیشہ سے ان سفاک دہشت گردوں کے خلاف ہے اور ان کے ناپاک عزائم کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی رہے گی۔ سانحہ گلشن اقبال پارک کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر رانا ضیاء عبدالرحمن کی سربراہی میں اجلاس عام ہوا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت دہشت گردوں کے مقابلہ کے لئے پوری قوم کویکجاکرے ۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کورٹ بار کے صدر رانا ضیاء عبدالرحمن ،سپریم کورٹ بار کے صدر بیرسٹر علی ظفر ،چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی خیبر پختونخواہ بار کونسل نور عالم خان ،پاکستان بار کونسل کے رکن اعظم نذیر تارڑ ،سپریم کور ٹ بار کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر ،ہائی کورٹ بار کے سابق صدور حافظ عبدالرحمن انصاری ،احمد اویس ،پاکستان بار کونسل کے رکن حفیظ الرحمن چودھری اور سپریم کورٹ بار کے سابق سیکرٹری راجہ ذوالقرنین نے سانحہ لاہور کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سانحہ نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ ہمیں مکار دشمن کا سامنا ہے جو گوریلا جنگ لڑ رہا ہے ۔ ہمیں اپنی حفاظت کے انتظامات مضبوط کرنے کے علاوہ رب ذوالجلال کے حضور معافی مانگنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دہشت گردی کی عفریت سے نجات عطاء فرمائیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ پنجاب نے تفریحی مقامات پر دہشت گردی کی پہلے سے اطلاع کا اعتراف کیا جس سے حکومت پنجاب کی نا اہلی اور امن و امان کے قیام میں غفلت کا اظہار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا ہمیں ذہنوں اور دلوں سے نفرت، دھڑے بندی اور گردہ بندی کو نکال کر متحد ہو کر دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ ملک اس وقت حالت جنگ میں ہے جس کیلئے حکومت کو واضح پالیسی اور مربوط لائحہ عمل سے قوم کوآگاہ کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کراچی کی طرح پنجاب میں بھی رینجرز کی مدد سے آپریشن کلین اپ ناگریز ہو چکاہے۔

مزید :

علاقائی -