سانحہ گلشن اقبال، وزیر اعظم کا خطاب، ذوالفقار چیمہ کی تقریب اور ؟

سانحہ گلشن اقبال، وزیر اعظم کا خطاب، ذوالفقار چیمہ کی تقریب اور ؟
سانحہ گلشن اقبال، وزیر اعظم کا خطاب، ذوالفقار چیمہ کی تقریب اور ؟

  

وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اپنے قوم سے خطاب میں تجدید عہد کیا ہے کہ حکومت دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خلاف کوئی رعایت نہیں کرے گی ۔ خون کے ہر قطرہ کا حساب لیا جائے گا۔ ان کی اس بات میں بھی وزن ہے کہ دہشت گردوں کو دہشت گردی کے خلاف جاری اس جنگ میں بہت نقصان ہوا ہے اور اب دہشت گرد اپنے اصل ٹارگٹ تک نہیں پہنچ سکتے، اس لئے سکولوں اور پارکوں میں جا رہے ہیں۔ وزیر اعظم کی اس تقریر سے یہ تو ظاہر ہے کہ حکومت سنجیدہ ہے، ثابت قدم ہے اور سانحہ گلشن اقبال سے ڈگمگائی نہیں ہے بلکہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔

سانحہ گلشن اقبال نے ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا۔ فضا سوگوار، پرچم سرنگوں، سوگوار جنازے، شہر بھی سنسان، سڑکیں بھی ویران، دفتر خالی، اسکول بند، سانحہ گلشن اقبال کے بعد شہر کی اگلے دن کی اکثرتقریبات ملتوی ہو چکی تھیں، لیکن ذوالفقار چیمہ نے اپنی تقریب ملتوی نہیں کی۔ لہٰذا میں مقررہ وقت پر پہنچ گیا، تو ذوالفقار چیمہ موجود تھے۔ میں نے کہا کہ آپ فنی تربیت پر بات کرنا چاہتے ہیں، لیکن آج کا دن کوئی موزوں نہیں، آپ کو ملتوی کردینا چاہئے تھا۔ وہ کہنے لگے کہ مجھے یہ مشورہ دیا گیا تھا ، لیکن میرے خیال میں اگر میں تقریب ملتوی کر دیتا تو یہ دہشت گردوں کی فتح ہوتی، وہ تو چاہتے ہیں کہ سب کچھ رک جائے، لیکن اگر ہم زندگی کو چلتا رکھیں گے تو وہ نا کام ہو نگے۔ ذوالفقار چیمہ کی تقریب تو فنی تربیت کی ترقی و ترویج کے لئے تھی۔ اس ضمن میں لاہور ایکسپو میں ایک نمائش بھی لگائی جا رہی ہے، جس میں مختلف شعبوں میں فنی تربیت پانے والے نوجوانوں کے درمیان مقابلہ بھی ہو گا۔ اعلیٰ کارکردگی دکھانے والوں کو انعامات بھی دئے جائیں گے۔ ذوالفقار چیمہ کا موقف ہے کہ یہ مقابلے بھی اس لئے ملتوی نہیں کئے گئے تا کہ دہشت گردوں کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ ہم ان سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ بہر حال ذوالفقار چیمہ کی بات میں اس حد تک تو وزن ہے کہ جب تک ہم ملک سے جہالت و غربت کا خاتمہ نہیں کریں گے، دہشت گردی ختم نہیں ہوسکتی۔ اس مقصد کے لئے ان کا موقف ہے کہ ملک میں فنی تربیت کے شعبہ کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، صرف اس طرح ہی بے روزگاری کا خاتمہ ممکن ہے۔

بہر حال سانحہ گلشن اقبال کے ساتھ اسلام آباد کے دھرنے نے بھی فضا کوآلودہ کیا ہے، لیکن اسلام آباد دھرنے پر ایک عمومی رائے یہی ہے کہ یہ حکومت اور انٹیلی جنس اداروں کی نا کامی ہے۔ اسے حکومت پنجاب کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نا اہلی بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومت نے اس ایشو پر تمام زور و توانائیاں میڈیا کو قابو کرنے پر ہی لگا دیں اور مظاہرین کو بھول گئی۔ شاید حکومت اور انٹیلی جنس اداروں کا یہ خیال تھا کہ جب میڈیا قابو میں ہو گا، پھر کچھ نہیں ہو گا اور میڈیا قابو میں تھا، کہیں سنگل کالم خبر بھی نہیں تھی، لیکن سب ہو گیا۔ اب پتہ نہیں حکومت میڈیا کے بعد کس پریہ ذمہ داری ڈالے گی۔اسلام آباد میں جو بھی ہوا ہے، وہ سب قانون نافذ کرنے والوں کی نا کامی ہے۔ اس ضمن میں وزیر اعظم کو ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہئے۔

سانحہ گلشن اقبال کس کی نا کامی ہے، ایک آسان بات تو یہ ہے کہ یہ پولیس کی نا کامی ہے۔ پولیس کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی جان و مال کا تحفظ کرے، تو کیا سانحہ گلشن اقبال پولیس کی نا کامی ہے۔ لیکن اس ضمن میں اصل صورتحال یہ بھی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مینڈیٹ پولیس کا نہیں ہے بلکہ اس ضمن میں سی ٹی ڈی اور دیگر انٹیلی جنس ادارے کام کر رہے ہیں۔ انہی اداروں کا کام ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف کام کریں۔ پولیس کی نا اہلی تو تب ہے جب ان اداروں میں سے کسی نے پولیس کو اس حوالہ سے کوئی اطلاع دی ہو اور پولیس نے کوئی نا اہلی دکھائی ہو۔ اس طرح تو یہ انٹیلی جنس اداروں کی نا اہلی ہوئی۔

سانحہ گلشن اقبال کے بعد ایک اور ابہام پیدا ہو گیا کہ کیا پنجاب میں فوج اور فوجی انٹیلی جنس ادارے کو ئی آپریشن کر بھی رہے ہیں کہ نہیں۔ آئی ایس پی آر کے ٹویٹ کہہ رہے ہیں کہ آپریشن ہو رہا ہے۔لیکن صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ کہہ رہے ہیں کہ کوئی خاص آپریشن نہیں ہو رہا۔ سوال یہ ہے کہ ایسے ٓاپریشن کسی بڑے واقعہ کے اگلے دن ہی کیوں ہوتے ہیں، جن مشتبہ دہشت گردوں کو پکڑا جا تا ہے ، انہیں واقعہ کے بعد کیوں پکڑا جا تا ہے ۔ انہیں واقعہ سے پہلے کیوں نہیں پکڑا جا تا۔ کیوں ایسے کسی آپریشن کے لئے کسی بڑے واقعہ اور اتنے بڑے جانی نقصان کا انتظار کیا جا تا ہے۔

ایک طرف سانحہ گلشن اقبال کا دکھ ہے۔ معصوم بچوں کی لاشیں ہیں، دوسری طرف دانشوروں کی یہ بحث بھی عجیب ہے کہ کیا پنجاب میں آپریشن ہونا چاہئے۔ ایک طرف پنجاب کے بچے مر رہے ہیں، مجھے نہیں سمجھ آتی کہ دہشت گردی کے خلاف اگر کوئی کارروائی فوج اور رینجرز کر سکتے ہیں تو انہیں کس نے روکا ہے۔ جب سانحہ گلشن اقبال کے بعد انہیں کسی اجازت کی ضرورت نہیں تھی تو اس سے پہلے بھی کسی نے نہیں رو کا تھا۔حکومت پنجاب بیچاری میں تو پہلے بھی اتنی ہمت نہیں تھی کہ حساس اداروں کے سامنے کھڑی ہو سکتی اور اب ابھی وہ کوئی مزاحمت نہیں کر رہے۔ بیچارے رانا ثنا اللہ تو صرف اپنی عزت بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پتہ نہیں لاشوں پر سیاست کیوں ہو رہی ہے۔ انٹیلی جنس اداروں کو اپنی نا کامی ماننی چاہئے۔ کاش ہمارے ملک میں ایسا کلچر پیدا ہو جائے کہ ایسے واقعات کے بعد انٹیلی جنس اداروں کے ذمہ داران کا بھی احتساب ہو سکے۔ صرف بیچارے پولیس افسران کو ہی ٹرانسفر کر دینا کافی نہیں۔

ا گر یہ مان بھی لیا جائے کہ اب پنجاب میں فوج اور حساس اداروں نے براہ راست آپریشن شروع کر دیے ہیں۔ تو کم ازکم یہ ہی طے کر لیا جائے کہ اب اگر کوئی واقعہ ہو گا تو وہ ذمہ دار ہو نگے کہ پھر بیچارے پولیس افسران ہی وضاحتیں پیش کریں گے۔ایک سوال اور بھی اہم ہے کہ پی ایچ اے جو پارکس سے پیسے بنا رہی ہے، پارکس کی سیکورٹی بھی اس کی ذمہ داری ہے، لیکن وہ بھی خاموش ہے، تا کہ کسی کی اس پر نظر ہی نہ پڑے۔ کیوں گلشن اقبال کے سکیورٹی انچارج کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا۔

مزید :

کالم -