سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کمپنیز بل 2016ء کے مسودہ پر متعلقہ فریقین سے مزید مشاورت کرے گا

سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کمپنیز بل 2016ء کے مسودہ پر متعلقہ فریقین سے مزید ...

اسلام آباد(اے پی پی) سیکورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان کمپنیز بل 2016ء کے مسودہ پر متعلقہ فریقین سے مزید مشاورت کرے گا تاکہ کاروباری اور پیشہ ور تنظیموں کی تجاویز کی روشنی میں ایک جامع قانون بنایا جا سکے۔کمپنیز بل 2016 منظوری کے مراحل مکمل کرنے کے بعد کمپنیز آرڈیننس 1984کی جگہ لے گا۔ کمپنیز کے قانون کو از سر نو تشکیل دینے کا مقصد پاکستان میں معیشت کو دستاویزی شکل دینا ، کاروباری اداروں کی مکمل کارپوٹائزیشن کرنا اور کاروبار کی رجسٹریشن اور انضباتی قوائد و ضوابط کو آسان بنا ناہے ۔

سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے دو روز قبلکمپنیز بل 2016 کے متعلق ایک سیمینار کا انعقاد کیا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ نیاکمپنی لاء 2016 کارپوریٹ کلچر کے فروغ ، سرمایہ کاری میں اضافے، سرمایہ کاروں کے تحفظ اور ملک میں کاروباری سرگرمیوں کو متحرک کرنے کے لئے اہم ہے۔ نئے قانون کے ملک کی مجموعی معاشی صورت حال پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتہائی اہم قانون ہے اور اس پر مشاورت کے لئے مزید وقت صرف کیا جانا چائیے ۔انہوں نے کہا کہ اس بل کو جون میں وفاقی بجٹ پیش ہونے سے پہلے پہلے پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے گا۔

مزید : کامرس