پنجاب میں آپریشن شروع 300گرفتار ،دہشتگردوں کو دوبارہ سر نہیں اٹھانے دینگے :نواز شریف

پنجاب میں آپریشن شروع 300گرفتار ،دہشتگردوں کو دوبارہ سر نہیں اٹھانے دینگے ...

راولپنڈی/لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک،آن لائن) لاہور دھماکے کے بعد پنجاب میں امن دشمنوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا گیا۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے حکم پر لاہور سمیت پنجاب بھر میں انٹیلی جنس بنیاد پر بڑے پیمانے پر آپریشن میں تین سوسے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ آپریشن میں پاک فوج اور رینجرز کے اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ لاہور، فیصل آباد اور ملتان میں حساس اداروں نے 5 آپریشنز کئے۔ اس دوران بڑی تعداد میں اسلحہ اور بارود بھی برآمد ہوا۔ فیصل آباد میں حساس اداروں کی کارروائی کے دوران 80 سے زائد افرادحراست میں لئے گئے۔ گوجرانوالہ سے 78 مشکوک افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ کارروائی ماڈل ٹاؤن، کوتوالی، باغبانپورہ، نندی پورکے علاقوں میں کی گئی۔ سیالکوٹ سے بیس، کامونکی میں سات افراد پکڑے گئے۔ بہاولپور کے علاقے احمد پور شرقیہ سے بھی کالعدم تنظیم کے کارندے کو حراست میں لے لیا گیا اس کے علاوہ جہلم، خانیوال، بھکر، ننکانہ، ملتان، شیخوپورہ اور مظفرگڑھ سے بھی گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد کی اکثریت کا تعلق کالعدم تنظیموں سے ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پیر کے روز آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا ہے جس میں گزشتہ رات شروع کیے گئے آپریشن کا جائزہ لیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاک فوج نے پنجاب بھر میں دہشت گردوں سہولت کاروں ، سرپرستوں اور معاونین کیخلاف آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، آرمی چیف جنرل راحیل شریف اس آپریشن کی خود نگرانی کریں گے ، فوج کی دو ٹیمیں جنوبی پنجاب روانہ کر دی گئی ہیں اور آپریشن کی پیش رفت سے کور کمانڈر لمحہ بہ لمحہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو آگاہ کریں گے ،آپریشن کا مقصد پنجاب سمیت ملکر بھر سے دہشت گردوں کا خاتمہ کرنا ہے ، آپریشن میں فوج رینجرز ، اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے حصہ لیں گے ، آپریشن انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیا جائے گا ۔آپریشن جنوبی و سینٹر پنجاب کے مشتبہ علاقوں میں کیا جائے گا ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی ہدایت پر آپریشن گزشتہ رات سے شروع کر دیا گیا تھا اور آرمی چیف کی جانب سے جوانوں کو کسی بھی جرائم پیشہ شخص سے رعایت نہ برتنے کی ہدایت کی گئی ہے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے دوٹوک الفاظ میں واضح کر دیا ہے کہ آپریشن کے راستے میں کسی قسم کا سیاسی اثرروسوخ برداشت نہیں کیا جائے گا ، درندہ صفت دہشت گردوں کا ملک بھر سے صفایا کریں گے۔

لاہور( جنرل رپورٹر)وزیراعظم محمد نواز شریف نے کے پی کے اور سندھ سے ملنے والی پنجاب باؤنڈری لائن کے قرب و جوار میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ وقت ضائع کئے بغیر ان علاقوں میں آپریشن شروع کردیا جائے ،آپریشن سی ٹی ڈی کرے گی تاہم اس میں رینجرز اور پولیس بھی حصہ لے گی اور اس سلسلے میں تمام وسائل برؤے کار لائے جائیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس سے پہلے کہ دہشت گرد معصوم جانوں کو نشانہ بنائیں انہیں ان کے ٹھکانوں پر جا کر مارا جائے۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ اس آپریشن کی نگرانی پنجاب کے صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کریں گے وہ جناح ہسپتال میں سانحہ گلشن اقبال کے زیر علاج زخمیوں کی عیادت کے بعد ماڈل ٹاؤن میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے ۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس لاہور میں منعقد ہوا جس میں گلشن اقبال پارک میں خود کش دھماکے سمیت ملک میں امن و امان کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف ،وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ، صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ خان ، چیف سیکرٹری پنجاب خضر حیات گوندل، آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا سمیت حساس اداروں کے افسران نے شرکت کی ۔ اجلاس میں صوبائی قیادت نے وزیر اعظم نواز شریف کو گلشن اقبال پارک سانحہ کے حوالے سے ابتدائی رپورٹ پیش کرنے کے ساتھ تفصیلی بریفنگ دی ۔جبکہ قانون نافذ کرنے اور انٹیلی جنس اداروں کے افسران نے تحقیقات کے حوالے سے پیشرفت سے آگاہ کیا ۔اس موقع پر آئی جی پنجاب کی طرف سے اجلاس کو لاہور سمیت پنجاب بھر میں سکیورٹی کے تناظر میں اٹھائے جانے والے اقدامات سے بھی آگاہ کیا ۔وزیر اعظم نواز شریف نے سانحہ پر انتہائی رنج و غم کا اظہار اورغمزدہ خاندانوں کیساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ گلشن اقبال پارک بہت بڑا سانحہ ہے لیکن ہم دشمن کو اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے دہشتگرد اپنا انجام دیکھ کر بزدلانہ وار کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کے تمام ادارے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں ۔اس طرح کی بزدلانہ کارروائیوں سے پاکستانی قوم کے دہشتگردی کے خلاف عزم کو متزلز ل نہیں کیا جا سکتا ۔ بحیثیت قوم اور حکومت دہشتگردی کے خلاف عزم مزید مضبوط ہو رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی نا گزیر ہے ۔بزدل دشمن آسان اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے ۔ ہمارا ہدف دہشتگردی کے انفراسٹر اکچر کا مکمل خاتمہ ہے ۔دہشتگردی کے انفراسٹر اکچر کے ساتھ انتہا پسند نظریے کو بھی شکست دینا ہو گی ۔انتہا پسندی کے نظریات معاشرے کے مستقبل کے لئے خطرہ ہیں۔سکیورٹی ادارے اور ایجنسیاں رابطے مزید متحرک اور مضبوط بنائیں۔صوبائی حکومتیں دہشتگردوں کے خلاف خفیہ اطلاعات پرمبنی کارروائیاں تیز کریں۔ہمیں اس جنگ کو دہشتگردوں کے ٹھکانوں تک لیجانا ہوگا۔ ہمیں معصوم جانوں پر حملوں سے پہلے دہشتگردوں تک پہنچنا ہوگا۔دہشتگردوں نے میرے بچوں، بیٹوں اور بیٹیوں کو نشانہ بنایا ہے ۔ اللہ کی مدد سے دہشتگردوں کا ملک سے مکمل صفایا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ہر حال میں دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچانا ہے ۔ ہمیں بحیثیت قوم تمام تفرقات سے آزاد ہو کر دہشتگردی کا مقابلہ کرنا ہے ۔ وزیر اعظم نواز شریف نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی کہ ہسپتالوں میں زیر علاج زخمیوں کو علاج معالجے سمیت ہر طرح کی سہولیات فراہم کی جائیں ۔سانحہ کے شہداء کے لواحقین سے بھی مسلسل رابطہ رکھا جائے اور ان کی ہر ممکن امداد کی جائے ۔ قبل ازیں وزیر اعظم محمد نواز شریف نے جناح ہسپتال کا دورہ کیا اور دھماکے زخمیوں کی عیادت کی ۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف ،وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور دیگر حکام بھی ان کے ہمراہ تھے۔ وزیر اعظم نے فرداً فرداًتمام زخمیوں کی عیادت کی اور ان کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کی ۔ اس موقع پر ہسپتال کے ایم ایس نے وزیر اعظم کو ہسپتال میں زیر علاج زخمیوں کو فراہم کی جانے والی علاج معالجے کی سہولیات بارے بھی بریفنگ دی ۔وزیر اعظم نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایات دیں کہ زخمیوں کو علاج معالجے کی ہر طرح کی سہولیات فراہم کی جائیں ۔وزیراعظم محمد نواز شریف کو اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ انیٹلی جنس اطلاعات ہیں کہ صوبہ خیبر پی کے اور سندھ کو ملانے والے پنجاب کے علاقوں کے قریب قریب دہشت گرد یا ان کے سہولت کاروں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں جس پر وزیراعظم نے حکم دیا کہ ان علاقوں میں آپریشن سروع کیا جائے اور اگر وہاں پر دہشت گرد یا پھر ان نے سہولت کار موجود ہیں تو انہیں نیست و نابود کردیا جائے۔

اسلام آباد (این این آئی)وزیر اعظم محمد نواز شریف نے واضح کیا ہے کہ اشتعال پھیلانے ٗ نفرتوں کی ہوا بھڑکانے ٗ عوام کیلئے مشکلات پیدا کر نے والوں کو ضرور انصاف کے کٹہرے میں لایا جائیگا ٗدہشتگرد جان لیں ناکامی اور نامرادی ان کا مقدر بنے گی ٗکوئی دہشتگرد ٗفتنہ سازہمیں طے کر دہ منزل کی طرف پیشقدمی سے نہیں روک سکتے ٗ اللہ پر پختہ ایمان رکھتے ہیں ٗ اتحاد کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھیں گے ٗ ہماری نرمی کو ریاست کی کمزوری اور ریاستی اداروں کی بے بسی نہ سمجھایا جائے عوام کے جان ومال کا تحفظ ہماری آئینی ذمہ داری ہے ٗپولیس اور قومی سلامتی کے اداروں کی جدوجہد اور عوام کی حمایت سے دہشتگردی میں نمایاں کمی آئی ہے ہم ان کو دوبارہ سر نہیں اٹھانے دینگے ٗانتہا پسندی ٗ فرقہ وارایت ٗ نفرتوں کو محبتوں میں بدلنے کی قسم کھائی ہے ٗ آپریشن ضرب عضب کے بڑے مقاصد حاصل کر لئے گئے ٗ انشاء اللہ مسکراہٹیں واپس آنے تک آرام سے نہیں بیٹھوں گا ٗ میڈیا دہشتگردی ٗ انتہا پسندی کے خلاف قوم کی آواز سے ہم آہنگ رہے۔ پیر کی شب ٹیلیوژن اور ریڈیو پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے کہاکہ میں آج ایسے موقع پر آپ سے مخاطب ہو ں جب سانحہ لاہور کے باعث ہر پاکستانی کا دل زخمی ہے اور پوری قوم رنج و غم میں مبتلا ہے گزشتہ چند ماہ کے دور ان پشاور ٗ شبقدر ٗ کوئٹہ ٗ مردان اوردوسرے مقامات پر بھی دہشتگردوں نے معصوم انسانوں کو نشانہ بنایا ۔انہوں نے کہاکہ مجھے اچھی طرح اندازہ ہے کہ دہشتگرد سافٹ ٹارگٹ کو نشانہ بناتے ہوئے کیا پیغام دینا چاہتے ہیں مجھے معلوم ہے کہ اپنی پناہ گاہوں ٗ تربیت گاہوں اور انفراسٹرکچر سے محروم ہوجانے کے بعد بچے کھچے عناصر اپنی ناکامیوں اور مایوسیوں کو چھپانے کیلئے کیونکر درسگاہوں ٗ تفریح گاہوں تک آ ن پہنچے ہیں ۔وزیراعظم نے کہاکہ میں آج آپ کے سامنے اس عہد کی تجدید کیلئے حاضر ہوا ہوں کہ ہم شہیدوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب رکھ رہے ہیں یہ حساب چکایا جارہا ہے اورآخری قسط ادا ہونے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔وزیر اعظم نے کہاکہ جون2013میں حکومت سنبھالنے کے بعد پہلے دن سے پختہ عہد کرلیا تھا انہوں نے کہاکہ افسوس 13 سال تک کسی نے بھی اس فتنے کی آنکھوں میںآنکھیں ڈال کر نہیں دیکھا پہلی بار بھرپور سیاسی عزم کے ساتھ اپنے سفر کاآغاز کیا وزیر اعظم نوازشریف نے کہاکہ دہشتگردوں کے رویئے کے بعد آپریشن ضرب عضب کا فیصلہ کیاگیا مسلح افواج ٗ پولیس اور سول سکیورٹی اداروں نے اپنے لہو سے آپریشن کو پروان چڑھایا ٗوزیر اعظم نے کہاکہ آپریشن ضرب عضب کے بڑے مقاصد حاصل کر لئے گئے لیکن دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک ہمارا مشن جاری رہے گا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ہمارا دین امن ٗ سلامتی ٗ محبت اور اخوت کا دین ہے وہ دین جس نے ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیاہے ہم رسول مقبولؐ کے امتی ہیں جو تمام جہانوں کیلئے رحمت بن کر آئے ہیں جنہوں نے انسانیت کو حسن اخلاق ٗ حسن کردار اور حسن عمل کاسبق دیا اللہ اور رسولؐکے نام پر لاقانونیت ٗ جلاؤ گھیراؤ ٗ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا اور بد امنی پھیلانا ٗمخلوق کیلئے مشکلات پیدا کر نا کسی طورپر قابل قبول نہیں ہے ۔وزیر اعظم نے واضح کیا کہ ہماری نرمی کو ریاست کی کمزوری اور ریاستی اداروں کی بے بسی نہ سمجھایا جائے عوام کے جان ومال کا تحفظ ہماری آئینی ذمہ داری ہے اب تک حکومت نے صبر و تحمل کامظاہرہ کیا تاکہ معصوم لوگوں کے جذبات سے کھیلنے والے کامیاب نہ ہوں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اشتعال پھیلانے ٗ نفرتوں کی ہوا بھڑکانے ٗ عوام کیلئے مشکلات پیدا کر نے والوں کو ضرور انصاف کے کٹہرے میں لایا جائیگا ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ آپ کو معلوم ہے کہ دہشتگردی ایک عالمی چیلنج بن چکا ہے یہ پاکستان کو درپیش نہیں دنیا بھر کو درپیش ہے دہشتگردی کی لہر کامظاہرہ حال میں انقرہ ٗ استنبول ٗ برسلز اور پیرس میں دیکھا ہے انسانیت کے دشمن ٗ اخلاقیات کی حدود سے نکل چکے ہیں انہوں نے کہاکہ پاکستان کی سرزمین انسانیت کے ان دشمنوں کیلئے تنگ کر دی گئی ہے ۔نواز شریف نے کہاکہ پچھلے تین سالوں کے دوران حکومت کے پختہ عزم ٗ مسلح افواج ٗ پولیس اور قومی سلامتی کے اداروں کی جدوجہد اور عوام کی حمایت سے دہشتگردی میں نمایاں کمی آئی ہے ہم ان کو دوبارہ سر نہیں اٹھانے دینگے ہم انہیں پاکستانیوں کی جانوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دینگے۔وزیر اعظم نواز شریف نے کہاکہ الحمد اللہ میرا حکومت اورپاکستان کے عوام کاعزم ہے انشاء اللہ کوئی دہشتگرد ہمارے دہشتگردی کے خلاف عزم میں شگاف نہیں ڈال سکتا ہے ۔وزیر اعظم نے واضح کیا کہ دہشتگرد یہ مت بھولیں کہ دہشتگردی کی بزدلانہ کارروا ئیاں عظیم پاکستانیوں کے پختہ ارادوں کو کمزور کرسکتی ہیں اور نہ ہی ہمارے قدم رو ک سکتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے غربت ٗجہالت اور پسماندگی سے لڑنے کی قسم کھائی ہے اندھیروں کو اجالوں میں بدلنے کی قسم کھائی ہے ٗ انتہا پسندی ٗ فرقہ وارایت ٗ نفرتوں کو محبتوں میں بدلنے کی قسم کھائی ہے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ کوئی دہشتگردٗ کوئی فتنہ سازہمیں طے کر دہ منزل کی طرف پیشقدمی سے نہیں روک سکتے ہم اللہ تعالیٰ پر پختہ ایمان رکھتے ہیں ٗ اتحاد کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھیں گے دہشتگرد جان لیں ناکامی اور نامرادی ان کا مقدر بنے گی ۔ نوازشریف نے کہاکہ آج پاکستان نئی منزلوں کی طرف بڑھ رہا ہے آرمی پبلک سکول ٗباچا خان یونیورسٹی شہداء کے لہو سے روشن ہے ہماری تفریح گاہوں اور بازاروں کی رونقیں کبھی ماند نہیں پڑیں گی نواز شریف نے کہاکہ ہم دہشتگردی سے متعلق تمام عوامل پرنگاہ رکھے ہوئے ہیں اور ان کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جارہاہے جن پر زیادہ توجہ دی جانی چاہیے تھی وزیر اعظم نواز شریف نے کہاکہ ہمارا عزم ٗ یقین ہماری ہمت بڑھا رہا ہے انشا ء اللہ پاکستان کو امن ٗ ترقی و خوشحالی کا گہوارہ بنانے کا عظیم مشن جاری رکھیں گے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ تمام متعلقہ اداروں پر واضح کیاہے کہ دہشتگردوں کے مدد گار ٗ سہولت کار جہاں بھی جس بھیس میں چھپے ہوں نہیں بچ سکیں گے ۔وزیر اعظم نے کہاکہ لاہور کے شہداء کیلئے بلندی درجات اور ورثاء کیلئے صبر جمیل کی دعا مانگتا ہوں ٗ جاں بحق افراد کے والدین ٗماؤں ٗ بہنوں اور بیٹوں کے دکھ کو محسوس کیا جاسکتا ہے ۔وزیر اعظم نے کہاکہ انہوں نے پنجاب حکومت کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ زخمیوں کے علاج میں کوئی کوتاہی نہ کی جائے ۔انہوں نے کہاکہ لاہور کے ہسپتالوں میں زخمیوں سے ملا تو اندازہ ہوا ہے کہ ان کے حوصلے کس طرح بلند ہیں وہ زخمی ہونے کے باوجود بڑے مضبوط حوصلے میں تھے میرا عزم اور بھی مضبوط ہوا ۔انشاء اللہ مسکراہٹیں واپس آنے تک آرام سے نہیں بیٹھوں گا ۔ وزیر اعظم نواز شریف نے دھماکے کے زخمیوں کے بہتر علاج معالجے پر ڈاکٹرز کی کار کردگی کو سہراہتے ہوئے کہا کہ مریضوں کے منہ سے ان کی تعریف سنی ہے جنہوں نے خدا خوفی کا جذبہ رکھ کر علاج کیا ان کو شاباش ملنی چاہیے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ میڈیا سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ دہشتگردی ٗ انتہا پسندی کے خلاف قوم کی آواز سے ہم آہنگ رہیں ایسے عناصر کیلئے زندگی ہر میدان تنگ کر دیا جائے تاکہ ہماری منزل کا حصول آسان ہو جائے ۔

مزید : صفحہ اول